نسوانیت کا دشمن ۔۔۔پی سی او ایس

557

 خواتین کی بیضہ دانیوں میں ہر ماہ انڈے پیدا ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں ہوتے ہیں۔بعض اوقات بیضہ دانیوں میں بہت سی تھیلیاں تو بن جاتی ہیں لیکن وہ انڈوں سے خالی ہوتی ہیں ۔اس مرض کو ”پی سی او ایس “ کہا جاتا ہے جو بے اولادی کا سبب بھی بن سکتا ہے۔ اس بیماری کی وجہ سے خواتین کے چہروں پر بال آجاتے ہیں‘ انہیں کیل مہاسوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور وہ موٹی بھی ہوجاتی ہیں۔ شفاانٹرنیشنل ہسپتال اسلام آباد میں شعبہ امراض غدود کے سربراہ ڈاکٹرمحمد طیب بادشاہ سے گفتگو کی روشنی میں ایک معلوماتی تحریر

جب کسی مرض کے ساتھ ’ سینڈروم“ کا لفظ آتاہے تواس سے مراد یہ ہوتی ہے کہ وہ کوئی ایک مرض نہیں بلکہ مجموعہ امراض ہے اور اس میں بیک وقت کئی علامات نمودار ہوتی ہیں۔ پی سی اوایس (Polycystic Ovarian Syndrome) خواتین سے متعلق ایک سینڈروم ہے جس کا تعلق ہارمونز کے ساتھ ہے۔

”پی سی او ایس“ کیا ہے
ہارمونز کی بہت سی اقسام ہیں جن میں سے کچھ کا تعلق جنس کے ساتھ ہوتا ہے۔پروجیسٹیرون (progesterone) زنانہ جبکہ اینڈروجن(androgen)مردانہ ہارمون ہے۔انہی ہارمونز کی وجہ سے لوگوں میں مردانہ اور زنانہ خصوصیات پائی جاتی ہیں۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ مردانہ ہارمونز کی کچھ تعداد خواتین اور زنانہ ہارمونز کی کچھ تعداد مردوں میں بھی پائی جاتی ہے۔
اگرخواتین میں مردانہ ہارمونز کی تعداد ایک خاص حد سے تجاوز کر جائے توان میں ”پی سی او ایس“ کا خدشہ بڑھ جاتا ہے۔ اگر ایسا ہوجائے تو کئی طرح کے مسائل سامنے آنے لگتے ہیں۔ مثال کے طور پر خواتین کے چہرے‘ چھاتی اورپشت پر بال آجاتے ہیں۔ اگر مرض شدید ہو جائے تو پیشانی کی جگہ سے ان کے بال جھڑ بھی سکتے ہیں۔ علاوہ ازیںانہیں کیل مہاسے (acne)بھی نکل آتے ہیں۔
بالغ خواتین کی بیضہ دانیوں (ovaries)میں ہر ماہ انڈے پیدا ہوتے ہیں جو چھوٹی چھوٹی تھیلیوں میں پائے جاتے ہیں۔اس بیماری کی صورت میں ان کی بیضہ دانیوں میںبہت سی تھیلیاں (polycysts) تو بن جاتی ہیں لیکن وہ انڈوں سے خالی ہوتی ہیں۔ اس مرض کی وجہ تسمیہ یہی ہے جس کا ترجمہ بیضہ دانی میں بہت سے خالی تھیلیوں کا مرض کہا جا سکتا ہے۔

مذکورہ بالا علامات کے علاوہ کچھ اور پیچیدگیوں کا تعلق بھی اس سینڈروم کے ساتھ ہے ۔مثال کے طور پر ان میں وزن بڑھنے (over weight)یا فربہ (obese)ہونے کی شکایت بڑھ جاتی ہے ۔ ان کے خون میں شوگر کی مقدارمیں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔ اس سے صورت حال قبل از ذیابیطس کی سطح پر پہنچ جاتی ہے اور بعض اوقات انہیں مکمل ذیابیطس بھی ہوجاتی ہے۔اسی طرح ان میں دل کے امراض کو بھی خارج از امکان قرار نہیں دیا جا سکتا ہے ۔

.مرض کی تشخیص
بالعموم یہ مرض اسی عمر میں سامنے آجاتا ہے جب بچیوں میں ماہانہ ایام کا سلسلہ شروع ہوجاتا ہے‘ تاہم بعض اوقات یہ 17یا 18سال کی عمر میں یا اس کے بعد بھی پید اہو سکتا ہے۔ جب ماہانہ ایام کا نظام شروع ہوتا ہے تو اس میں بے قاعدگی ہو سکتی ہے لیکن اگر یہ سلسلہ طویل ہو جائے یا اس کے ساتھ اس کی دیگر علامات(مثلاً موٹاپا‘ جسم پر بال یاکیل مہاسے) بھی سامنے آئیں تو اسے ”پی سی او ایس “ کے تناظر میں بھی دیکھ لینا چاہئے اور ڈاکٹر کے پاس جانا چاہئے۔
اس کی سب سے بڑی علامت ایام میں بے قاعدگی ہی ہے تاہم حتمی تشخیص کے لئے کچھ ٹیسٹ بھی کئے جاتے ہیں۔ مثال کے طور پر خون میں مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون (testosterone) کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ جن بچیوں کا وزن زیادہ ہو‘ ان میں بلڈگلوکوز اور انسولین کی سطح جاننے کے لئے بھی ٹیسٹ کیا جاتا ہے تاکہ معلوم ہو سکے کہ انہیں خدانخواستہ شوگر، قبل از ذیابیطس یا انسولین کی مزاحمت کا مسئلہ تو نہیں ہے۔

نقصانات کیا ہیں
اس کی وجہ سے پیداشدہ مسائل میں پہلا مسئلہ تو زیبائشی (cosmetic) ہے جس کے متعلق خواتین بہت حساس ہوتی ہیں۔ اگر ان کے چہروں پر بال یا کیل مہاسے ہوں یا ان کا وزن بڑھ جائے تو اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔موٹاپے سے نہ صرف جسم کی خوبصورتی متاثر ہوتی ہے بلکہ کچھ اور مسائل بھی جنم لے سکتے ہےں۔ اگر ان کے انڈوں کے اخرا ج میں رکاوٹ ہو توانہیں بے اولادی کاسامنا بھی کرناپڑسکتا ہے۔ یہ ضروری نہیں کہ پی سی او ایس کی صورت میں تمام علامات بیک وقت سامنے آئیں لیکن ایسا ہوبھی سکتا ہے۔

مرض کی وجوہات
دماغ میں پچوٹری گلینڈ نامی غدودایک ہارمون ایل ایچ (Luteinizing Hormone)خارج کرتا ہے۔ پی سی او ایس کاتعلق اس ہارمون کے بڑھ جانے سے ہے جس کی وجہ سے مردانہ ہارمون ٹیسٹوسٹیرون کی تعداد میں بھی اضافہ ہو جاتا ہے۔
اگرکسی لڑکی کی ماں یا بہن میں پی سی او ایس کا مسئلہ ہو تو اس میں بھی اس کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اس کا تعلق موروثیت کے ساتھ بھی ہے۔ اس کا تعلق ہمارے لائف سٹائل کے ساتھ بھی ہے‘ اس لئے کہ پی سی او ایس کی شکار نصف سے زیادہ خواتین موٹی ہوتی ہیں۔آج کل اکثر گھروں میں بچوں اور بچیوں کو کھانے میں گوشت‘جنک فوڈ، اورتلی ہوئی چیزیں ہی پسند آتی ہیں جو وزن میں اضافے کا باعث بنتی ہیں۔انہیں چاہئے کہ سبزیوں اور دالوں کی طرف بھی آئیں اور متوازن غذا استعمال کریں۔

مرض کا علاج
یہ ایسا سینڈروم ہے کہ اگر ایک دفعہ کسی کو ہوجائے تو زیادہ تر صورتوں میں اس کا ایسامکمل علاج ممکن نہیں جس کے بعد اس مرض کا خاتمہ ہو جائے‘ تاہم احتیاطی تدابیر اور علاج کی مددسے اسے کنٹرول میں رکھا جا سکتا ہے۔ دیکھا گیا ہے کہ جو خواتین اپناوزن کم کر لیتی ہیں‘ ان میں اس مرض کی علامات کم ہو جاتی ہیں اور یہ بھی ہو سکتا ہے کہ انہیں دواﺅں کی ضرورت ہی نہ پڑے۔
جہاں تک ادویات کا تعلق ہے تو ان کے مقاصد مختلف لوگوں کے لئے مختلف ہوتے ہیں۔مثال کے طور پر شادی سے پہلے زیادہ تر لڑکیوں کی خواہش کیل مہاسوں یاناپسندیدہ بالوں کاخاتمہ ہوتا ہے جس کے لئے انہیں کچھ دوائیں دی جاتی ہیں۔ایام کو باقاعدہ کرنے کے لئے جو دوائیں دی جاتی ہیں‘ ان سے بالوں کامسئلہ بھی حل ہو جاتا ہے لیکن یہ لمبا علاج ہے اوراس کے لئے سالوں ادویات لینا پڑتی ہیں۔ جن شادی شدہ خواتین کوبچے کی طلب ہو ‘ انہیں ایسی ادویات دی جاتی ہیں جو انڈوں کے اخراج میں مدد دیتی ہیں۔اس کے علاوہ اگرکوئی اور پیچیدگیاںہوں تو ان کا علاج کیا جاتا ہے۔ اس مرض کی ویکسی نیشن نہیں ، اس لئے کہ یہ متعد ی مرض نہیں ہے۔
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ جن والدین کی بچیاں بلوغت میں داخل ہو چکی ہوں اور ان کے ایام میں بے قاعدگی اور چہرے پر بال ہوں ‘انہیں ایکنی کا مسئلہ ہو یا وہ ضرورت سے زیادہ موٹی ہوں‘ انہیں چاہئے کہ علاج میں پی سی او ایس کے امکان کو بھی مدنظر رکھیں اور کسی اینڈو کرائنالوجسٹ کو دکھائیں تاکہ اس کا بروقت علاج ہوسکے۔خواتین کو چاہئے کہ صحت مند طرززندگی اپنائیں‘ متوازن غذا کھائیں اوراپنے وزن کو کنٹرول میں رکھیں۔
(م ۔ز۔ الف)

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

٭میرے بال کندھوں تک ہیں اور میں حجاب پہنتی ہوں۔ میرے او

خوبصورتی کاتناظر ہو یا صحت کا‘ جسم کے دیگراعضاءکی طرح

    زمانہ قدیم ہو جدید‘ یہ بات اپنی جگہ ہمیشہ مسلم رہی