لبلبہ معدے کے نچلے حصے کے پیچھے واقع ایک اہم عضو ہے۔ اس کا بنیادی کام انسولین تیار کرنا ہے، جو ایک ہارمون ہے اور خون میں شوگر کی سطح کو متوازن رکھنے میں مدد دیتا ہے۔ لبلبے کی پیوند کاری (Pancreas Transplant) ایک سرجیکل پروسیجر ہے جس میں عطیہ دہندہ (عموماً فوت شدہ)، کا صحت مند لبلبہ ایسے مریض کے جسم میں منتقل کیا جاتا ہے جس کا لبلبہ درست طور پر کام نہیں کر رہا ہوتا۔ اکثر اوقات یہ عمل گردے کی پیوند کاری کے ساتھ کیا جاتا ہے، خاص طور پر اُن مریضوں میں جن کے گردے ذیابیطس کے باعث متاثر ہو چکے ہوں۔
کیوں کی جاتی ہے
لبلبے کی پیوند کاری کا مقصد جسم میں انسولین کی قدرتی پیداوار بحال کرنا اور خون میں شوگر کا بہتر کنٹرول حاصل کرنا ہے۔ تاہم یہ ایک عام علاج نہیں ہے کیونکہ اس کے بعد طویل مدتی مدافعتی ادویات استعمال کرنا ضروری ہوتا ہے جن کے مضر اثرات ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر درج ذیل صورتوں میں اس پر غور کرتے ہیں:
٭ ٹائپ 1 ذیابیطس جو روایتی علاج سے کنٹرول نہ ہو
٭ انسولین کے بار بار شدید ری ایکشنز
٭ خون میں شوگر کے مسلسل عدم توازن کے مسائل
٭ گردوں کو شدید نقصان
٭ ٹائپ 2 ذیابیطس جس میں انسولین کی پیداوار اور حساسیت دونوں کم ہوں
اقسام
صرف لبلبے کی پیوند کاری: ایسے مریضوں کے لیے جن کے گردے نسبتاً بہتر حالت میں ہوں
گردے اور لبلبے کی بیک وقت پیوند کاری: اُن مریضوں کے لیے جن میں گردوں کی ناکامی کا خطرہ ہو
گردے کے بعد لبلبے کی پیوند کاری: اگر عطیہ شدہ گردہ پہلے دستیاب ہو جائے تو پہلے گردے کی پیوند کاری کی جاتی ہے، جبکہ لبلبے کی پیوند کاری بعد میں مناسب عطیہ دہندہ ملنے پر کی جاتی ہے
آئیلیٹ سیل ٹرانسپلانٹ: اس طریقے میں انسولین بنانے والے خلیے جسم میں منتقل کیے جاتے ہیں تاکہ خون میں شوگر کو بہتر طور پر کنٹرول کیا جا سکے۔ یہ طریقہ خاص طور پر شدید ہائپوگلیسیمیا کے شکار بالغ مریضوں کے لیے منظور شدہ ہے
خطرات اور پیچیدگیاں
لبلبے کی پیوند کاری ایک پیچیدہ سرجری ہے جس میں مختلف خطرات شامل ہو سکتے ہیں:
٭ خون کے کلاٹ بننا
٭ خون بہنا
٭ انفیکشن
٭ میٹابولک سسٹم کی خرابی
٭ پیشاب کی نالی کی پیچیدگیاں
٭ لبلبے کی سوزش
٭ عطیہ شدہ لبلبے کی ناکامی
٭ عضو کے مسترد ہونے کا خطرہ
مسترد کرنے کی ادویات کے اثرات
سرجری کے بعد مریض کو زندگی بھر ایسی ادویات لینی پڑتی ہیں جو مدافعتی نظام کو دباتی ہیں تاکہ نیا لبلبہ مسترد نہ ہو۔ ان ادویات کے ممکنہ اثرات میں شامل ہیں:
٭ ہڈیوں کی کمزوری
٭ کولیسٹرول میں اضافہ
٭ بلڈ پریشر کا بڑھنا
٭ متلی، قے یا اسہال
٭ دھوپ سے حساسیت
دیگر اثرات میں شامل ہیں:
٭ جسم میں سوجن
٭ وزن میں اضافہ
٭ مسوڑھوں کی سوجن
٭ مہاسے
٭ بالوں کی غیر معمولی افزائش یا کمی
یہ ادویات مدافعتی نظام کو کمزور کرتی ہیں، جس سے انفیکشن اور بیماریوں کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔
ٹرانسپلانٹ کی تیاری
مریض کو ٹرانسپلانٹ سینٹر ریفر کیا جاتا ہے، جہاں اس کی مکمل جانچ کی جاتی ہے۔ تشخیص کے دوران ڈاکٹر یہ دیکھتے ہیں کہ:
٭ مریض سرجری اور طویل علاج کے قابل ہے یا نہیں
٭ کیا دیگر بیماریاں نتائج پر اثر ڈال سکتی ہیں
٭ کیا مریض دواؤں اور ہدایات پر عمل کر سکتا ہے
اگر مریض گردے کی پیوند کاری کا بھی محتاج ہو تو ڈاکٹر فیصلہ کرتے ہیں کہ دونوں عمل ایک ساتھ ہوں یا الگ الگ۔
سرجری کا عمل
سرجری جنرل اینستھیزیا کے تحت کی جاتی ہے، جس میں مریض گہری نیند جیسی حالت میں ہوتا ہے:
٭ پیٹ کے درمیان چیرا لگایا جاتا ہے
٭ عطیہ شدہ لبلبہ اور آنت کا حصہ نصب کیا جاتا ہے
٭ انہیں خون کی نالیوں سے جوڑا جاتا ہے
٭ مریض کا اپنا لبلبہ عام طور پر موجود رہتا ہے
٭ اگر گردہ بھی لگایا جائے تو اسے بھی خون کی نالیوں اور مثانے سے منسلک کیا جاتا ہے
٭ یہ عمل عام طور پر 4 سے 6 گھنٹے تک جاری رہتا ہے۔
سرجری کے بعد بحالی
٭ مریض کچھ دن آئی سی یو میں زیر نگرانی رہتا ہے
٭ تقریباً ایک ہفتہ ہسپتال میں قیام ہوتا ہے
٭ 3 سے 4 ہفتے تک مسلسل فالو اپ ضروری ہوتا ہے
٭ زندگی بھر مدافعتی ادویات استعمال کرنا لازمی ہوتا ہے
نتائج اور ممکنہ علامات
کامیاب پیوند کاری کے بعد نیا لبلبہ انسولین بنانا شروع کر دیتا ہے، جس سے مریض کو انسولین انجیکشن کی ضرورت کم یا ختم ہو جاتی ہے۔ تاہم جسم پھر بھی نئے عضو کو مسترد کرنے کی کوشش کر سکتا ہے، اس لیے ادویات کا استعمال ضروری رہتی ہیں۔ درج ذیل علامات اس بات کی نشاندہی کر سکتی ہیں کہ جسم نیا لبلبہ مسترد کر رہا ہے:
٭ پیٹ میں درد
٭ بخار
٭ شوگر کی سطح میں اضافہ
٭ قے
٭ پیشاب میں کمی
طرزِ زندگی میں تبدیلیاں
مریضوں کے لیے صحت بخش خوراک اور صحت مند طرز زندگی اپنانا ضروری ہوتا ہے۔
خوراک
٭ پھل اور سبزیاں زیادہ استعمال کریں
٭ کم چکنائی والی غذا اپنائیں
٭ نمک کا استعمال کم کریں
٭ پانی مناسب مقدار میں پئیں
٭ چکوترا اور کچھ مخصوص پھلوں سے پرہیز کریں
ورزش
پیوند کاری کے بعد باقاعدہ ورزش توانائی میں اضافہ کرتی ہے اور جسمانی طاقت بہتر بناتی ہے۔ یہ صحت مند وزن برقرار رکھنے، ذہنی دباؤ کم کرنے اور پیوند کاری کے بعد پیدا ہونے والی عام پیچیدگیوں سے بچاؤ میں بھی مددگار ثابت ہوتی ہے۔
آپ کی ٹرانسپلانٹ ٹیم آپ کی صحت، ضروریات اور اہداف کے مطابق ورزش کا مناسب پروگرام تجویز کر سکتی ہے۔
پیوند کاری کے فوراً بعد جتنا ممکن ہو چہل قدمی کریں۔ صحت یابی کے ساتھ روزمرہ معمولات میں مزید جسمانی سرگرمیاں شامل کریں، جن میں ہفتے میں پانچ دن کم از کم 30 منٹ کی معتدل ورزش شامل ہو۔ تاہم ورزش کا نیا معمول شروع کرنے یا موجودہ معمول میں تبدیلی کرنے سے پہلے اپنی ٹرانسپلانٹ ٹیم سے مشورہ ضرور کریں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist