ڈبلیو ایچ او اور پاکستان کے درمیان طے پانے والا معاہدہ عملی مرحلے میں داخل ہو گیا ہے۔ اس کے تحت پاکستانی ہسپتالوں کو بچوں کے کینسر کی ادویات مفت فراہم کی جائیں گی۔ ڈبلیو ایچ او کے مطابق چار بڑے ہسپتال اس سال ادویات وصول کرنے کے لیے انفراسٹرکچر، سٹاف اور لاجسٹک انتظامات مکمل کر رہے ہیں۔
پاکستان میں ہر سال 8,000 سے زائد بچوں میں کینسر تشخیص ہوتا ہے۔ علاج تک محدود رسائی بچوں کی کم بقا کی بنیادی وجہ ہے۔ پاکستان میں ان مریضوں کے زندہ بچنے کی شرح 30 فیصد جبکہ ترقی یافتہ ممالک میں 80 فیصد تک ہے۔
اگست 2025 میں عالمی ماہرین کی ٹیم نے منتخب پاکستانی ہسپتالوں کا تکنیکی جائزہ لیا تھا۔ جنوری تا فروری 2026 کے دوران سات مزید طبی مراکز کا معائنہ مکمل کیا گیا۔ یہ مراکز 2027 میں ادویات کی فراہمی کیلئے تیار ہوں گے۔
Tags: بچوں کا کینسر