تکالیف‘ جن کے ہم خود ذمہ دار ہیں

103

لفظ ”حادثہ“ سنتے ہی ذہن میں خوفناک قسم کے خیالات آتے ہیں جن کا بالعموم تعلق کسی نقصان ،تباہی یا موت سے ہوتا ہے۔لغات میں اس لفظ کی تعریف ایسے غیر متوقع اور ناپسندیدہ واقعے کے طور پر کی جاتی ہے جس کا نتیجہ بالخصوص نقصان یا تباہی کی صورت میں نکلے ۔یہ تصور گمراہ کن ہے کہ حادثات غیر متوقع طور پر رونما ہوتے ہیں۔ یہ ہماری سوچ کو اس رُخ پرڈال دیتا ہے کہ حادثات سے بچنا ممکن ہی نہیں اور پھر سوچ کایہ دھارا ہمیں ”قسمت کے لکھے“ جیسے تصورات کی طرف لے جاتا ہے، حالانکہ اکثر حادثات میں حقیقت اس کے برعکس ہوتی ہے۔اگر حادثات کاباعث بننے والے واقعات کاگہرائی میں جائزہ لیاجائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اکثر صورتوں میں وہ غیرمتوقع طور پر سامنے نہیں آتے ۔
ہم سب کا مشاہدہ ہے کہ گھروں اور سڑکوں پر ہونے والے حادثات ‘بیماریوں کی طرح باقی عوامل سے الگ تھلگ ایک واقعے کے طور پر کبھی نمودار نہیںہوتے۔جس طرح گھر کے ایک فرد کا بیماری کا شکار ہوجانا پورے خاندان کی عمومی صحت اور معیارِزندگی پر اثرانداز ہوتا ہے،اسی طرح حادثات اور ان کے نتےجے میں ہونے والی اموات اور معذوریاں بھی بالواسطہ طور پر کئی زندگیوں کو تباہ کردیتی ہے ۔
پاکستان میں اعدادوشمار سے متعلق سرکاری ادارے پی بی ایس (Paksitan Bureau of Statistics) کے مطابق 2013ءسے2014ء کے دوران سڑکوںپر 8359 حادثات ہوئے جن میں 4384افراد جاں بحق جبکہ 9777زخمی ہوئے ۔اس سے پچھلے سال (2012ءتا2013ء)سڑک کے 8988حادثات میں 4719اموات ہوئیں اور 9710افرادزخمی ہوئے۔2014ءکے بعد سے اب تک کے اعدادو شمار ادارے کی ویب سائٹ پر موجود نہیں ہیں۔سڑک پر تحفظ کی عالمی صورت حال پر رپورٹ 2015ئ(Global Status Report on Road Safety)کے عنوان سے عالمی ادارہ صحت کی ایک دستاویز کے مطابق پاکستان میں سڑک کے حادثات 15سے 29سال کے نوجوانوں کی اموات کی ایک بڑی وجہ ہیں۔
یہ اعدادوشمار تکلیف دہ ہیں ۔پاکستان میں سڑک کے حادثات میں مرنے والوں کی سالانہ تعداد دہشت گردی میں مرنے والوں سے تین گنا زیادہ ہے۔اس کی وجہ کوئی سربستہ راز نہیں ہے۔ہم ہر حادثہ کو ایسے لیتے ہیں گویا اس سے بچنا نا ممکن تھایا یہ اللہ کی مرضی تھی۔ اس سوچ کے زیر اثرہم اگلے حادثے سے بچنے کے لئے ان وجوہات کو ختم نہیں کرتے جو پہلے حادثے کا سبب بنی تھیں۔
پاکستان میں سڑکوں پر حادثات کی بڑی وجوہات میں سڑکوں کی ناگفتہ بہ صورت حال‘ ٹریفک قوانین اور سڑک پر بحفاظت سفرسے متعلق اقدامات سے لاعلمی یاان پر عملدرآمد نہ کرنا‘ گاڑیوں کی خراب صورت حال اور ڈرائیوروں کی ناقص ٹریننگ شامل ہیں۔ اگر ان مسائل پر قابو پا لیا جائے تو ان دکھوں میں نمایاں کمی لائی جا سکتی ہے جو سڑک پر حادثات کی شکل میں ہمارے معاشرے کوسہناپڑتے ہیں۔
قوانین ہمارے ہاں موجود ہیں تاہم بڑا مسئلہ ان پر حقیقی معنوں میں عملدرآمد نہ ہوناہے ۔اس سلسلے میں غفلت یا کوتاہی کا ارتکاب ٹریفک پولیس اور ہائی وے سٹاف کی طرف سے ہو یا عام سڑک استعمال کنندگان کی طرف سے‘ اسے کسی صورت برداشت نہیں کرنا چاہئے۔
پاکستان بار کونسل کے ایک رکن راحیل کامران شیخ نے سپریم کورٹ میں ایک رِٹ دائر کی گئی ہے جس میں” نیشنل روڈ اینڈ ٹرانسپورٹ سیفٹی کمیشن“ قائم کرنے کی استدعاءکی گئی ہے۔ ہمیں توقع رکھنی چاہئے کہ عدالت عظمیٰ عوامی مفاد سے متعلق اس اہم معاملے پر ضرورتوجہ دے گی ۔