حادثہ‘ حادثہ نہیں ہوتا

149

اگر مسافروں سے بھری کوئی بس خدانخواستہ کسی کھائی میں گر جاتی ہے‘ کچن میں سالن سے بھرا دیگچہ یا واش روم میں گرم پانی کی بالٹی کسی شخص پرالٹ جاتی ہے یا بجلی کے کھمبے پر چڑھا لائن مین کرنٹ لگنے سے جاں بحق ہو جاتا ہے تو اگرچہ ایسے واقعات کو ”حادثات “کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کاتعلق تیزرفتاری‘ جلدبازی اور کسی نہ کسی کی لاپروائی سے ضرور ہوتا ہے۔ محمد زاہد ایوبی کی ایک دلچسپ اور معلوماتی تحریر

گزشتہ برس 11 ستمبر کی شام مکہ مکرمہ کی مسجد الحرام میں ایک اندوہناک واقعہ پیش آیا جس میں ایک بھاری بھرکم کرین طواف میں مصروف عازمین حج پر آ گری جس کے نتیجے میں 107 حجاج کرام جاں بحق اور 23 8 زخمی ہوگئے ۔ جمعہ کا دن ہونے کی وجہ سے اس وقت حجاج کرام کے علاوہ زائرین کی کثیر تعداد بھی وہاں موجود تھی ۔جب یہ واقعہ پیش آیا‘ اس وقت مکہ شہر میں شدید آندھی چل رہی تھی اور زبردست بارش بھی ہو رہی تھی۔
میڈیامیں شائع شدہ خبروں کے مطابق اس معاملے پر جب حرم کعبہ کی توسیع کی ذمہ دار تعمیراتی کمپنی کے انجینئرسے رابطہ کیا گیا تو اس نے کہا کہ اس کا سبب ”خدائی کام “ یعنی آندھی ہے ۔جب مذکورہ واقعے کی تفتیش کی گئی تو یہ بات سامنے آئی کہ اس کا فوری باعث ایک ”انسانی“ لغزش بنی جو کرین آپریٹر سے سرزد ہوئی تھی ۔ اُس نے اسے کھڑا کرتے وقت ان ہدایات کو نظرانداز کردیاتھا جو اسے بنانے والوں نے دی تھیں۔ لہٰذا حکام کے بقول اس کا کچھ قصور تعمیراتی کمپنی کا بھی تھا ۔
لغت کی رو سے ”حادثہ“ کسی ایسے واقعے کو کہا جاتا ہے جو اتفاقاًوقوع پذیر ہوجائے لیکن حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی حادثہ محض اتفاقاً نہیں ہوتا بلکہ اس کے پیچھے کہیں نہ کہیں ‘کسی نہ کسی انسانی غفلت یا کوتاہی کا بھی ہاتھ ہوتا ہے۔شمیم احمد کا

ایک شعراس معاملے کو کیا خوب انداز میں واضح کرتا ہے :
حادثہ، حادثہ نہیں ہوتا
جب تلک واقعہ نہیں ہوتا
زلزلے‘آندھیاں اورسیلاب اگرچہ مافوق الفطرت کام ہیں جنہیں روکنا انسانی بس میں نہیں‘ تاہم بروقت منصوبہ بندی سے ان کے نقصانات کو اگرختم نہیں تو محدود ضرور کیا جا سکتا ہے ۔ایشیاءمیں سونامی تباہی اور خوف کی علامت سمجھا جاتا ہے۔یہ جاپانی زبان کا لفظ ہے اور وہیں سے باقی دنیا میں متعارف ہوا لیکن اپنے آبائی ملک میں یہ خوف کی علامت نہیں اور بہت کم نقصان پہنچاتاہے۔اس کا سبب یہ ہے کہ ان لوگوں نے اس کے لئے خاص انتظامات کر لئے ہیں۔ جن علاقوں میں زلزلے یا سیلاب کا امکان ہو‘ وہاں ضروری حفاظتی انتظامات ہمیں بڑی تباہیوں سے بچا سکتے ہیں۔عام حالات میں حادثات گھروں ‘ کام کی جگہوں اورسڑکوں پرہوتے ہیں جن کے پیچھے اصل وجہ انسانی غفلت ہی ہوتی ہے ۔ ان جگہوں پر حادثات کی وجوہات اور بچاﺅ کی تدابیر درج ذیل ہیں:

گھریلو حادثات
بحریہ ٹاﺅن اسلام آباد کی چیف آرکیٹیکٹ عمرانہ آصف کا کہنا ہے کہ گھروں کو ڈیزائن کرتے وقت حفاظت کے پہلو کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ ا ن کے مطابق گھروں میں فرش پرا یسی ٹائلیں استعمال کی جائیں جوپھسلن والی نہ ہوں۔باتھ روم میں خاص طور پر ان سے پرہیز کیا جائے ۔اگر گھر کو ٹھیک طرح سے پلان کیا گیا ہو تو واشنگ ایریا اس طرح بنایا جاتا ہے کہ پانی کی نکاسی انڈرگراﺅنڈ محفوظ طریقے سے ہو جائے ۔ جہاں ایسا نہیں کیا گیاہوتا‘ وہاں خواتین لان میں کپڑے دھوتی ہیں۔ اس سے پورا صحن گیلا ہوتا ہے اور اہل خانہ کے پھسل کر گرنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس کے علاوہ سیڑھیاں بھی قابل توجہ ہیں :
”سیڑھیاں بناتے وقت اس بات کا خیال رکھا جانا چاہئے کہ کسی سیڑھی کی اونچائی چھ یا سات انچ سے زیادہ نہ ہو ۔اگر وہ اس سے زیادہ ہو توسیڑھیاںچڑھنے میں دقت ہوتی ہے ۔اس سے گھٹنوں پر دباﺅ پڑتا ہے اور ان کے مسائل جنم لےتے ہیں۔ اسی طرح پاﺅں رکھنے کی جگہ بھی 10 انچ سے کم نہ ہو۔اس کا سبب یہ ہے کہ پاﺅں پوری طرح اس پر آ سکے ‘ورنہ فرد کے گرنے کے امکانات زیادہ ہوتے ہیں ۔مزید براں اگر گھر میں چھوٹے بچے ہوں تو سیڑھیوں کے آغاز پر دروازہ اور چھت پر حفاظتی دیوار ضرور لگائی جائے ۔“

النور ہسپتال فیصل آبادکے ڈاکٹر مقصوداحمد کا کہناہے کہ بزرگوں اور بچوں کو گرنے سے بچانے کے لیے گھر کا ڈیزائن بہت اہم ہے :
” اگر گھر میں بچے اور بوڑھے موجود ہوں تو صحن میںچھوٹی سیڑھیاں(steps)‘ غیرہموار جگہیں یا دیگر رکاوٹیں نہیں ہونی چاہئیں‘ اس لئے کہ بزرگ افرادنظر کی کمزوری اوربچے لاپروائی سے بھاگنے کے سبب گرکر خود کو نقصان پہنچا سکتے ہیں۔“
لاہور سے تعلق رکھنے والی شیف سیدہ زکیہ کاکہنا ہے کہ گھروں میں اکثر حادثات کچن میں ہوتے ہیں۔ اس کی تفصیل بتاتے ہوئے وہ کہتی ہیں:

”یہاں سب سے زیادہ حادثات کٹ لگنے کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ خواتین بیسن کے اندر بہت سے برتن ڈال دیتی ہیں جو پانی میں ڈوبے ہوتے ہیں۔ ان میں سبزی کاٹنے والی چھریاں اور چاقو وغیرہ بھی شامل ہوتے ہیں اور برتن دھوتے وقت انہیں کٹ لگ جاتے ہیں۔ سبزیوں وغیرہ کو ہاتھ میں پکڑ کر کاٹنے سے اس پر کٹ لگ سکتا ہے‘ اس لئے بہتر ہے کہ اس کام کے لئے کٹنگ بورڈ استعمال کریں۔ کچن میں آئل گرم کرتے وقت بہت سی خواتین اسے نگرانی کے بغیر چھوڑ کر دوسرا کام شروع کر دیتی ہیں جو حادثے کا باعث بن سکتا ہے۔ان چیزوں سے پرہیز کیا جائے تو کچن میں حادثات سے بڑی حد تک بچا جا سکتا ہے ۔“

کام کی جگہوں پر حادثات
سیدہ زکیہ کا کہنا ہے کہ کام کی جگہوں پر بے احتیاطی اور جلد بازی بہت سے حادثات کو جنم دیتی ہے ۔اس سلسلے میں انہوں نے ایک ذاتی تجربے کا بھی ذکر کیا :

”میں جس ادارے میں کام کرتی تھی ‘ اس کے پاس ایک دفعہ اچانک بہت سی تقریبات کے آرڈرز آگئے لہٰذا ہمارے پروفیشنل کچن میں بڑی تیزی سے کام ہو رہا تھا۔میں مچھلی تلنے والے برتن کے پاس کھڑی تھی کہ میرے ایک سینئرمچھلیوں سے بھری ٹوکری اٹھائے ہوئے آئے اور جلدی میں بلندی سے ہی مچھلیاں اس میں ڈال دیں۔ اس سے آئل کے چھینٹے سیدھے میرے اوپر پڑے ۔ اللہ کا شکر ہے کہ وہ چہرے پر نہیں‘ بازو پر گرے۔ جلد بازی حادثات کا سبب بنتی ہے۔“
بے احتیاطی اور بے دھیانی بھی اس کا بڑا سبب ہے ۔ انہوں نے اس حوالے سے بھی ایک واقعہ شیئر کیا:
” پروفیشنل کچن میں ایک جگہ ہوتی ہے جسے قصاب خانہ (butchery area) کہا جاتا ہے ۔یہاں بجلی سے چلنے والے بہت سے چاقو لگے ہوتے ہیں جو آری کی طرح چلتے ہیں۔ یہ انتہائی تیز ہوتے ہیں اوربڑی بڑی ہڈیوں کوباآسانی اور تیزرفتاری سے کاٹ دیتے ہیں۔یہاں کام کرنے والے افراد کو پوری طرح تربیت یافتہ ہونے کے ساتھ ساتھ حاضردماغ بھی ہونا چاہئے ۔ ایک پنج ستارہ ہوٹل کے کچن کے اس حصے میں کام کرنے والے ایک شخص کا بازو ان چاقوﺅں کی زد میں آکر گوشت کی طرح کٹ گیا ۔ جن لوگوں نے یہ منظر دیکھا‘ ان کے تو رونگٹے کھڑے ہو گئے ۔“

وِوَڈ انسٹی ٹیوٹ آف آکوپیشنل سیفٹی اینڈ ہیلتھ اسلام آباد (Vivid Institute of Occupational Safety and Health) اس شعبے میں کمپنیوں اور افراد کو ٹریننگ فراہم کرتا ہے۔ محمد شاہد پیشے کے اعتبار سے ماحولیاتی انجینئر ہیں اور اس انسٹی ٹیوٹ میں لِیڈ ٹرینر کے طور پر خدمات انجام دے رہے ہیں۔ان کے مطابق کام کی جگہوں پر حادثات کا باعث بننے والے عوامل کو تین حصوں میں تقسیم کیا جا سکتا ہے ۔ ان میں سے پہلا عامل اداروں ‘ دوسرا فرد اور تیسرا مجبوری سے متعلق ہے ۔
پہلے عامل پر گفتگو کرتے ہوئے ان کا کہنا ہے کہ ہمارے ہاں اداروںکی سطح پرپیشہ جاتی تحفظ اور صحت (occupational safety and health) کو بری طرح سے نظرانداز کیا جاتا ہے۔ اس سے متعلق نہ تو موثر قوانین موجود ہیں‘ نہ اداروں کے پاس اس کی ٹریننگ ہے‘ نہ ہی انتظامات ہیں اورنہ ہی اس مقصد کے لئے وسائل مختص کئے جاتے ہیں:
” ادارے اپنی مصنوعات اور ان کی کوالٹی کا توبہت خیال رکھتے ہیں لیکن انہیں تیار کرنے والوں کی حفاظت اور صحت کی کوئی پرواہ نہیں کرتے۔ یہاں 1934ءکا بنا ہوا ایک قانون ہے جس کے تحت کچھ اداروں میں برائے نام ایک شعبہ قائم کردیا جاتا ہے جسے نہ تو اپنے مینڈیٹ کا علم ہوتا ہے اور نہ ہی یہ معلوم کہ اسے کرنا کیاہے ۔ اس صورت حال کی ذمہ داری قانون اور صحت سے متعلق حکومتی اداروں پر عائد ہوتی ہے ۔انہیں چاہئے کہ اس پر موثر قانون سازی کی راہ ہموار کریں۔ جب قانون بن جائے گا تو ادارے اس کے پابند ہو جائیں گے ۔“
ان کے مطابق دوسرا عامل فرد سے متعلق ہے :

” بعض اوقات ادارے تو تحفظ کا سامان فراہم کرتے ہیں لیکن افراد انہیں استعمال ہی نہیں کرتے۔مثلاً لائن مین کو گلوز دئیے جاتے ہیں لیکن وہ بجلی کے کھمبے پر چڑھتے ہوئے انہیں استعمال نہیں کرتا۔وہ اپنے آپ کو ماہر سمجھتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ وہ پہلے بھی ان کے بغیر کام کرتا رہا ہے اور اسے کچھ نہیں ہوا۔ ہمارے ہاں احتیاطوں کو
بالائے طاق رکھنا بہادری سمجھا جاتا ہے اوراردگرد کے لوگ بھی احتیاط کرنے والوں کو بزدلی کے طعنے دیتے ہیں۔لوگوں کو چاہئے کہ اپنے کام سے متعلق خطرات سے آگاہ ہوں اوران سے بچنے کی کوشش کریں۔“
ان کے بقول تیسرا پہلو وہ ہے جس پر آپ کا اختیار نہیں۔ مثلاً کچھ لوگوں کا ذریعہ معاش ایسا ہوتا ہے جس میں خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ زلزلے اور قدرتی آفات اسی میں شمار ہوتی ہیں۔

سڑک پر حادثات
اسلام آباد ٹریفک پولیس ایف ایم 92.4کی ڈائریکٹر عائشہ جمیل سے جب سڑک پر حادثات اور ان کی وجوہات پر بات کی گئی تو انہوں نے کہا کہ قابل اجمیری کا ایک شعراس کی صحیح وضاحت کرتا ہے :

وقت کرتا ہے پرورش برسوں
حادثہ ایک دم نہیں ہوتا
ان کے مطابق جب بھی کوئی حادثہ ہوتا ہے تو اس کے پیچھے تین میں سے کسی ایک ”ای“( E)کا ہاتھ ہوتا ہے ۔ان میں سے پہلی ”ای“ انجینئرنگ‘ دوسری ایجوکیشن اور تیسری انفورسمنٹ سے متعلق ہے ۔ پہلی ”ای“ کی وضاحت کرتے ہوئے وہ کہتی ہیں کہ اس سے مراد سڑک‘ سگنل‘ لین مارکنگ اورسڑک کا سٹرکچرہے۔ اگر وہ ٹھیک یا واضح نہ ہوں توحادثات کا باعث بن سکتے ہیں :
”بعض سڑکوں پر سلوٹ سی پڑجاتی ہے اوراگر گاڑی کی سپیڈزیادہ ہو تو اس کا ٹائر سڑک کی گرِپ چھوڑ دیتا ہے ۔اکثر لوگ سمجھتے ہیں کہ تیزرفتاری سے اس لئے منع کیا جاتا ہے کہ ٹریفک رواں دواں رہے اور گاڑیوں کا ٹکراﺅ نہ ہو‘ حالانکہ اس کا تعلق انجینئرنگ سے بھی ہے ۔لوگ کہتے ہیں کہ ہمیں اپنی گاڑی کا اچھی طرح سے پتہ ہے لیکن انہیں سڑک کی انجینئرنگ‘اس کی گرپ اور اس بات کا علم نہیں ہوتا کہ سڑک پر موجو دوسرا فرد کیا رویہ اختیار کرے گا۔“
ان کے مطابق دوسرا ”ای“ ایجوکیشن سے متعلق ہے:

”اگر سڑک پر ’سٹاپ سائن‘ ہے تو اس کا کوئی مقصد ہے اور وہ بتا رہا ہے کہ اس سے پیچھے کھڑے ہوں۔ زیبرا کراسنگ کا مطلب یہ ہے کہ سٹرک یہاں سے کراس کریں۔ایجوکیشن ہمیشہ انجینئرنگ کی ہوتی ہے جس کے بعد انفورسمنٹ (عملدرآمد) کی باری آتی ہے اور جرمانہ وغیرہ کیا جاتا ہے ۔آج کل موبائل فون کی وجہ سے بہت حادثات ہوتے ہیں۔“
ڈرائیونگ لائسنسنگ اتھارٹی اسلام آباد کے اسسٹنٹ کمپیوٹر پروگرامر رضوان خان کے مطابق 2004سے 2013 کے درمیان موٹروے پرحادثات کی جو وجوہات سامنے آئیں‘ ان میں سرفہرست گاڑی چلاتے وقت ڈرائیور کااونگھ یا نیندکا شکار ہو جانا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ ڈرائیور حضرات نیند پوری کئے بغیر مسلسل ڈرائیونگ کرتے ہیں اور اپنی ہی نہیں‘دیگر لوگوں کی زندگیوں کو بھی خطرے میں ڈالتے ہیں۔ دوسرے نمبر پرگاڑی کا ٹائر پھٹ جانا تیسرے نمبر پر غیرمحتاط ڈرائیونگ حادثات کی بڑی وجوہات ہیں ۔ اس کے برعکس ہائی وے پر سب سے بڑی وجہ غیرمحتاط ڈرائیونگ‘ دوسرے نمبر پر پیدل چلنے والوں کا غلط طور پر سڑک عبور کرنا جبکہ تیسرے نمبر پر اونگھ یا نیند آجانا ہیں۔
رضوان خان سے پوچھا گیا کہ گاڑی سڑک پر نکالنے سے پہلے ہمیں کیا کچھ کرنا چاہئے۔جواب میں انہوںنے کہا کہ سب سے پہلے اس کے ٹائروں کی صورت حال اور ان میں ہوا چیک کرنی چاہئے۔ ٹائروں کی دکانوں پر ایک ٹریٹ گیج ہوتی ہے ۔ اگرٹائر پرانے ہوں تو مہینے میں ایک دفعہ یہ چیک کرا لینا چاہئے کہ وہ سڑک پر مزید کتنا عرصہ چل سکتے ہیں۔اس کے بعد انجن آئل اور ریڈی ایٹر میں پانی چیک کریں۔ سائیڈمرر‘ بیک ویو مرردیکھیں ‘ آگے اور پیچھے کی لائیٹس چیک کریں‘ سیٹ بیلٹ باندھیں اور پھر گاڑی نکالیں۔ جب سڑک پر آجائیں تو ٹریفک قوانین کی مکمل پابندی کریں۔
ان کے بقول اپنے سفر کو محفوظ بنانے کے لئے گاڑی میں بیٹھتے ہی سب سے پہلے اسے چیک کرلیں۔ اس ضمن میں ایک لفظ پاور ’POWER‘ ہمیشہ یاد رکھیں۔ اس میں پی (P )سے مراد پیٹرول‘ او (O)سے آئل‘ ڈبلیو ( W) سے واٹر یعنی پانی‘ ای (E) سے الیکٹریسٹی یعنی بجلی اور آر (R)سے مراد ربڑ ہے۔ اس کے علاوہ اضافی ٹائر اور ٹائر تبدیل کرنے کا سامان ساتھ رکھنا مت بھولیں۔

عائشہ جمیل کا کہنا ہے کہ لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا وہ ہینڈ فری لگاکر گاڑی چلا سکتے ہیں؟اس کے جواب میں ہم کہتے ہیںکہ ایسا نہ کریں:
”موبائل فون صرف آپ کے ان ہاتھوں کو مصروف نہیں کرتا جو سٹیئرنگ پر ہونے چاہئیں بلکہ یہ آپ کا دھیان بھی بٹاتا ہے ۔ جب چند دوست آپس میںبات کررہے ہوتے ہیں اور ایک کی کال آ جاتی ہے تو وہ اسے اٹینڈ کرتا ہے اور بات ختم کر کے پوچھتا ہے کہ ’ہاں!تو کیا بات ہو رہی تھی ؟‘اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمار ادماغ ایک وقت میںایک ہی چیزپر فوکس کر سکتا ہے ۔حادثات سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ ہم گاڑی چلاتے وقت اپنی ہی نہیں‘ دوسری گاڑیوں کی حرکت پر بھی نظر رکھیں ۔“
گفتگو کو سمیٹتے ہوئے ہم کہہ سکتے ہیں کہ ہم جس چیز کو حادثہ قرار دیتے ہیں‘ بہت سی صورتوں میں وہ حادثہ نہیں بلکہ اپنی یا کسی اور کی غفلت کا نتیجہ ہوتا ہے ۔اگر ہم ان پر قابو پا لیں تو شاید کوئی حادثہ نہ ہو یا کم از کم ان کی تعداد میں نمایاں کمی ضرورواقع ہو جائے اور بہت سی انسانی جانیں ضائع ہونے اور ان گنت افراد معذوری سے بچ جائیں۔
باورچی خانہ ‘ احتیاطیں
(سیدہ زکیہ‘ شیف)

٭ایک اہم اورتوجہ طلب غلطی کھانا بناتے ہوئے کوئی چیز گرا دینا اور پھر اسے صاف نہ کرناہے۔ زمین یا شیلف پر گری اشیاءمثلاً پانی یاپیسٹ وغیرہ کو فوراً صاف کرنا ضروری ہے کیونکہ ان کی پھسلن کچن میں آنے والوںکے گرنے کا سبب بن سکتی ہے۔
٭بھاپ بھی ابلتے ہوئے پانی یا گرم چولہے جتنی ہی خطرناک ہے ۔ لفافوں میں لپٹے کھانے ہوں یا مائیکرو ویو میں گرم کردہ سالن‘ہر چیز کوکھولتے وقت چہرے سے دور رکھیں۔ اس کے علاوہ ان کو پکڑ نے کے لئے کسی موٹے کپڑے یا رومال کا استعمال بھی ضروری ہے۔برتن سے ڈھکن ہٹاتے وقت اسے اچانک مکمل طور پراٹھانے کی بجائے تھوڑا تھوڑا اپنی طرف کھینچیں تاکہ اس میں جمع شدہ بھاپ پہلے نکل جائے اور آپ کے ہاتھ اور منہ اس کے مضراثرات سے محفوظ رہیں۔مزید برآں بھاری چیزیں اٹھاتے وقت ہمیشہ وزن کا دباو¿ کمر کی بجائے گھٹنوں پر ڈالیں اور اپنی طاقت سے زیادہ وزن اٹھانا ہو تودوسروں کی مدد لینے سے کبھی نہ ہچکچائیں ۔
٭اگر بچے بہت چھوٹے ہوں تو کوکنگ کے وقت انہیں کبھی گود میں نہ اٹھائیں۔ اگرانہیں کچن میں ساتھ رکھنا لازمی ہو تو انہیں ایک خاص جگہ تک محدود رکھیں تاکہ وہ بلا ضرورت آگ کے آس پاس نہ جائیں۔
٭کچن میں استعمال کے لئے جوتے نہ صرف مضبوط ہوں بلکہ ان کا ڈیزائن ایسا ہو جو پاو¿ں کے بیشتر حصے کو ڈھانپ لے۔ ایسے جوتوں کا فائدہ ےہ ہوتا ہے کہ اگر کام کے دوران تیز دھار چاقو یا کوئی گرم چیز نیچے گرے تو پاو¿ں کافی حد تک محفوظ رہیں۔
٭کچن میں کام کرتے ہوئے ایسا لباس نہ پہنیں جس کا مٹیریل جلدی آگ پکڑنے والا ہو۔ اس کے علاوہ دوپٹہ بھی ڈھلکنے والا نہ ہونا چاہئے ۔
٭ کچن میں ہونے والے آدھے سے زیادہ حادثات کا سبب ضروری ےا غیرضروری جلدی ہوتی ہے ۔ فرائنگ پین جب چولہے پر رکھ دیں تو اجزاءشامل کرنے کے عمل میں زیادہ تیزی دکھانے کی ضرورت نہیں۔ اس سے تیل کے چھینٹے ہاتھ پر پڑ سکتے ہیں۔ روٹی وغیرہ کو پکنے کے دوران آہستگی سے پلٹیں اور تیز دھار والے آلات کو جلدی میں نہیں بلکہ آرام سے فرصت کے اوقات میں دھوئیں۔
٭ اکثر اوقات گرم چیزوں کو پکڑنے کے لئے استعمال ہونے والے دستی غلاف یا صافی وغیرہ اپنے سائز، صفائی کی صورت حال یا مواد کے لحاظ سے گرم اور بھاری چیزوں کو اٹھانے کے لئے غیر موزوں ہوتے ہیں۔ صافی یا گلوز (gloves) کو گیلا ہونے کی صورت میں کبھی استعمال نہ کریں کیونکہ گیلا کپڑ ا آسانی سے گرمی منتقل کر کے ہاتھ جلانے کا سبب بن سکتا ہے۔ کھانے سے بھرے برتن اٹھاتے وقت ان پر اپنی گرفت ہمیشہ مضبوط رکھیں۔ڈونگوںکو باورچی خانے سے دسترخوان تک پہنچانے میں دھیان اور اعتماد اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
٭ فوڈ پروسیسرز اور مکسچرزکے بلیڈ وںمیں پھنسی ہوئی کھانے کی اشیاءکوکبھی انگلیوں سے مت نکالیں۔نیز ایسی چیزوں کو دھوتے ہوئے خاص طور پر احتیاط برتیں کیونکہ ان کے بلیڈز کافی تیز ہوتے ہیںاور آپ کے ہاتھوںکو زخمی کرسکتے ہیں۔مشینوں کو صاف کرنے سے پہلے ان کے ٹھنڈے ہونے کا انتظار کریں اور کسی بھی مشین کا استعمال ان مقاصد کے لئے نہ کریں جن کے لئے وہ نہیں بنائی گئی۔