کن پیڑے

کن پیڑے (mumps)ایک وائرل انفیکشن ہے جو متاثرہ افراد کی چھینک اورکھانسی سے خارج ہونے والوں قطروں یا تھوک کے ذریعے  منتقل ہوتا ہے۔ یہ مرض کسی کو بھی ہوسکتا ہے تاہم 5 سے 15 سال کے بچوں کو زیادہ متاثر کرتا ہے۔ ویکسین کی بدولت اس کی شرح میں نمایاں کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ تاہم اب بھی دنیا بھرمیں اس کے سالانہ اوسطاً 5 لاکھ کیسزرپورٹ ہوتے ہیں۔

علامات کیا ہیں

اس کی علامات میں بخار، سردرد، بھوک مرجانا، پٹھوں میں درد، تھکاوٹ اورتھوک بنانے والے غدود (خصوصاً کانوں اورجبڑوں کے نیچے والے) میں سوجن شامل ہیں۔ یہ علامات انفیکشن کے دو سے چارہفتوں بعد ظاہرہوسکتی ہیں۔

بچاؤ کی تدابیر

اس سے بچاؤکی ویکسین ایم ایم آرکہلاتی ہے جوخسرے اورریبیز سے بھی تحفظ فراہم کرتی ہے۔ ویکسین کی ایک خوراک کن پیڑوں کے خلاف 78 فی صد جبکہ دو خوراکیں 88 فی صد مؤثرثابت ہوتی ہیں۔ بچوں کوایم ایم آرکی پہلی خوراک 12 سے 15 ماہ کی عمرمیں جبکہ دوسری 4 سے 6 سال کی عمرمیں لگوائی جا سکتی ہے۔

٭دونوں خوراکوں کے درمیان کم ازکم چار ہفتے کا وقفہ ضروری ہے۔

٭اگربچے کو ویکسین ایک سال سے پہلے لگوانی ہوتو اس کی عمر ایک ماہ سے کم بالکل نہیں ہونی چاہئے۔

٭وقت پرویکسی نیشن نہ ہواورکوئی فرد اس انفیکشن کا شکارہوجائے یا یہ مرض وبائی صورت اختیارکرلے توصورتحال کومد نظررکھتے ہوئے ویکسین کی خوراکیں تجویزکی جاسکتی ہیں۔

کون ویکسین نہ لگوائے

٭وہ تمام افراد جنہیں پہلی خوراک کے بعد شدید الرجک ری ایکشن ہوا ہو۔

٭حاملہ خواتین(حمل ٹھہرنے سے ایک ماہ پہلے یا زچگی کے فوراً بعد لگوا سکتی ہیں)۔

٭کمزور قوت مدافعت کے حامل افراد یا وہ لوگ جن کے بہن بھائی یا والدین میں سے کوئی اس مسئلے کا شکار ہو۔

٭ٹی بی یا پھرکسی ایسی بیماری میں مبتلا ہوں جس میں چوٹ لگنے پرجلدی زخم بن جاتے ہوں اورغیرمعمولی طورپرخون بہتا ہو۔

٭انتقال خون ہوا ہو۔

٭گزشتہ چارہفتوں میں کوئی اورویکسین لگوائی ہو۔

پھیلنے سے کیسے روکیں

یہ انفیکشن تھوک بنانے والے غدود میں سوجن ظاہرہونے سے کچھ دن قبل سے لے کرسوجن ظاہرہونے کے بعد پانچ دن تک منتقل ہوسکتا ہے۔ منتقلی کے امکانات کو کم کرنے کے لئے ان ہدایات پر عمل کریں

٭متاثرہ افراد کے زیراستعمال ایسی اشیاء استعمال نہ کریں جن پران کا لعاب ہو، مثلاً گلاس، چمچ یا کپ وغیرہ۔

٭بیمارافراد کھانستے اورچھینکتے ہوئے چہرے کوٹشو سے ڈھانپیں اوراستعمال کے بعد اسے کوڑے دان میں پھینک دیں۔ ٹشو نہ ہوتو بازو کے اوپری حصے پرچھینکیں یا کھانسی کریں۔

٭جب تک بیمار ہیں‘ گھرپرہی رہیں اوردوسروں سے میل جول سے گریز کریں۔

٭ذاتی صفائی کو یقینی بنانے کے لئے ہاتھوں کو باربار دھوتے رہیں۔

٭ٹیبل، دروازوں کے ہینڈلزاوردیگر ایسی چیزوں کوجراثیم کش محلول سے پاک کریں جنہیں متاثرہ افراد زیادہ ترچھوتے ہوں۔

پیچیدگیاں

زیادہ ترافراد دو ہفتوں میں ہی ٹھیک ہوجاتے ہیں تاہم بعض صورتوں میں خواتین کی چھاتیوں اوربیضہ دانیوں میں درد اورسوجن ہوسکتی ہے۔ اس کے علاوہ خصیوں میں درد اورسوجن،٭ لبلبے میں سوزش، بہراپن، ختم ہوجانا، دماغ اورحرام مغزکے گرد جھلی میں سوزش اوردماغ میں سوجن جیسے مسائل بھی ہوسکتے ہیں۔

Mumps, mumps vaccine schedule, doses of mumps vaccine, who should not get mumps vaccine, symptoms of mumps, how to prevent mumps

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

LEAVE YOUR COMMENTS