ماواں, ٹھنڈیاں چھاواں

227

انسانی رشتوں میں ’ماں‘ کا رشتہ منفرد اور مقدس ترین رشتہ شمارہوتاہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ا س تقدس کی ایک بہت بڑی وجہ ماں کی جانب سے اولاد کے لیے فطری محبت اور اس کے لئے ایثار وقربانی کا ایسا عمل ہے جو وہ خالص رضاکارانہ جذبے سے سرانجام دیتی ہے۔وقت کے ساتھ ساتھ بچہ اپنے پاو¿ں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہوتاچلا جاتا ہے اور اس کی ماںزندگی کے اگلے مراحل میں داخل ہوجاتی ہے۔اس وقت بہت سی مائیں ضعف اوربیماریوں کے باعث خودخدمت کی محتاج ہوجاتی ہیںلیکن اس کے باوجود اولادسے ان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آتی۔خوش قسمت ہیں وہ لوگ جن کی حقیقی مائیں زندہ ہیں اور وہ ان کی دل و جان سے خدمت پر تیار رہتے ہیں۔خالد رحمٰن کی ایک خوبصورت تحریر


یہ دلچسپ اشتہاری اعلان ایک63 سالہ خاتون کی جانب سے تھا۔ اس میں انہوں نے ایسے تمام لوگوں، بالخصوص نوجوانوں کورابطے کی دعوت دی تھی جو ’مامتا‘ کے حوالے سے تشنگی محسوس کرتے تھے ۔ اشتہار میں ان کی طرف سے کہا گیا کہ وہ انہیں ’ماں کی محبت‘ فراہم کریں گی۔
اعلان میں یہ بات بھی واضح تھی کہ محبت فراہم کرنے والی یہ خدمت مفت نہیں بلکہ اس کی ایک اجرت ہے اور وہ اس کے لیے گھنٹوں کے حساب سے قیمت (یعنی40 ڈالر فی گھنٹہ) وصول کرتی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ اعلان کے بعد چند روز میں ہی انہیں چھے(6) گاہک مل چکے ہیں۔ آغاز ہی میں اس کامیابی کی بنیاد پر اُن کاخیال ہے کہ ایسے اور لوگ بھی ہوں گے جنہیں ’عارضی ماں‘ کی ضرورت ہوگی۔
فی گھنٹہ اجرت کی بنیاد پرعارضی ماں کی حیثیت سے وہ کرتی کیاہیں؟ اس سوال کے جواب میں خاتون نے بتایا کہ وہ ایسی ماں ہیں جو اپنے بچوں(گاہکوں) کے ساتھ بیٹھ کر چائے یا کافی پیتی ہیں، ان کے ساتھ کوئی ڈرامہ یا فلم وغیرہ دیکھتی ہیں‘ ان کے کپڑے استری کرتی ہیں اور سب سے بڑھ کریہ کہ اس دوران وہ ان کی باتیں توجہ اور دھیان سے سنتی ہیں۔
اس سوال کے جواب میں کہ انہیں اس کام کاخیال کس طرح آیا؟ ان کا کہناتھا کہ پڑوس کے لوگ ان سے گاہے بگاہے مشورے کے لیے آیا کرتے تھے۔ ان رابطوں میں ہی انہیں محسوس ہوا کہ یہ بہت سے لوگوں کی ضرورت ہے اور وہ اس ضرورت کو پورا کرسکتی ہیں۔30سال سے وہ خود بھی ایک حقیقی ماں ہیں‘ چنانچہ ان کے پاس اس کام کا تجربہ بھی ہے۔ اس سے قبل وہ ایک ریستوران میں میزبان رہی ہیں اور نشے کی لت چھڑانے والے رضاکار کے طورپربھی کام کرچکی ہیں۔ تاہم انہوں نے واضح کیا کہ وہ کوئی پیشہ ور تھیراپسٹ یا کونسلر نہیں ہیں۔ خاتون نے اپنی پیشکش کے حوالے سے ایک قابل ذکر بات یہ بھی کی کہ وہ ایسی (عارضی)ماں ہوں گی جواولاد(گاہکوں) کے لیے کسی بوجھ کا سبب نہ ہوگی۔
انسانی رشتوں میں ’ماں‘ کا رشتہ منفرد اور مقدس ترین رشتہ شمارہوتاہے جس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ ا س تقدس کی ایک بہت بڑی وجہ ماں کی جانب سے اولاد کے لیے فطری محبت اور اس کے لئے ایثار وقربانی کا ایسا عمل ہے جو وہ خالص رضاکارانہ جذبے سے سرانجام دیتی ہے۔ پیدائش اور پرورش کے ہرہر مرحلے میں وہ اسی کیفیت کی بناءپر بہت سی تکالیف برداشت کرتی ہے اور اس کے لئے اولاد کی معمولی سی تکلیف برداشت کرنابھی ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے آرام وسکون کے لیے وہ خوشی خوشی اپنے راحت وآرام کوقربان کرنے کے لیے تیار ہوجاتی ہے۔
وقت کے ساتھ ساتھ انسان اپنے پاﺅں پہ کھڑا ہونے کے قابل ہوتاچلا جاتا ہے اور اس کی ماںزندگی کے اگلے مراحل میں داخل ہوجاتی ہے۔اس وقت بہت سی مائیں ضعف اوربیماریوں کے باعث خودخدمت کی محتاج ہوجاتی ہیںلیکن اس کے باوجود اولادسے ان کی محبت میں کوئی کمی نہیں آتی۔ بستر مرگ پر بھی ان کی جانب سے دعاﺅں کی صورت میں اولاد کو کچھ نہ کچھ دینے کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔
دوسری طرف جدید طرززندگی انسانوں پر کچھ اس طرح سے اثرانداز ہورہا ہے کہ صدیوں سے چلی آنے والی فطری اور انسانی اقدار بھی متاثر ہورہی ہیں۔ اس کی ایک علامت پیدائش اور پرورش کے مختلف مراحل کو سرانجام دینے کے لیے خاندان کے ادارے کاکمزور ہونا ہے۔ اس کی جگہ نئے نئے ادارے(کرائے پرکوکھ اورڈے کیئروغیرہ) وجود میں آرہے ہیں۔ یہ ادارے اجرت کی بنیا د پراعلیٰ ترین سہولتیں فراہم کرسکتے ہیںجن کی بعض صورتوں میں ضرورت اور افادیت بھی ہے ۔ تاہم یہ اس بات کی علامت ہیں کہ ماں باپ اور بچوں کے درمیان تعلق کی بنیادیں کمزور ہورہی ہیں۔ چنانچہ آج کے بہت سے ترقی یافتہ معاشروں میں یہ بات عام ہے کہ بچے نوعمری میں ہی ماں باپ سے دور وقت گزارنے پر مجبورہوتے ہیں جبکہ ضعیف العمری میں اولاد ماں باپ کواپنے سے دُور کردیتی ہے۔ اپنے اپنے دائرہ میں دونوں ہی محبت اور اپنائیت سے محرومی محسوس کررہے ہوتے ہیں۔ بزرگوں کی دیکھ بھال اور معاوضے پر ان کے ساتھ وقت گزارنے کاتصور اور عمل تواب کافی پراناہوچکاہے۔ کرائے پرماں کی دستیابی کے حوالے سے زیرتبصرہ اشتہار ایسی ہی محرومی کی علامت ہے۔ اس اعتبار سے وہ تمام لوگ بے حد خوش قسمت ہیں جنہیں حقیقی طور پرماں اوراس کی محبت میسرہو‘ وہ اس محبت اور ماں (اورباپ) کی دعاﺅں کے سائے میںزندگی گزاررہے ہوں اور ان کی دل و جان سے خدمت کرنے کے لیے ہمہ وقت تیار رہتے ہوں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

“My two year old girl is highly sensitive to mosquito bites and always has huge red welts whenever

Recently I got a chance to attend a presentation on anger management at my children's school. It was

Life can change within blink of an eye. The realization only comes once it actually happens to you.

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of