ماں کا دودھ بچے کا پیدائشی حق

357

ماں کا دودھ بچے کے لیے ایک مکمل غذا ہے ۔اس میں وہ سب کچھ موجود ہوتا ہے جس کی ایک نو زائیدہ بچے کو ضرورت ہوتی ہے ۔ماں جب بچے کو گود میں لے کر اپنا دودھ پلاتی ہے تو وہ نہ صرف اس کی غذائی ضرورت کوپورا کر رہی ہوتی ہے بلکہ اسے یہ احساس بھی دلاتی ہے کہ وہ محفوظ ہاتھوں میں ہے ۔اپنا دودھ پلانے‘ اس میں حائل مشکلات اور ان کے حل پر  ماہرین سے گفتگوو¿ں کی روشنی میں ثناظفر کی معلوماتی تحریر


ماں کا وجود بچے کے لیے ایک ایساگھنا اور سایہ دار درخت ہے جس کی چھاﺅں تلے وہ اپنی زندگی کی منازل طے کرتا ہے۔ وہ اولاد کے لیے اللہ تعالی کی طرف سے سب سے بڑی نعمت ہے جو اپنے وجود سے اس کی پہلی خوراک کا اہتمام کرتی ہے ۔صحیح کہا جاتا ہے کہ ماں کی گود بچے کی پہلی درس گاہ اور اس کا دودھ بچے کا پیدائشی حق ہے۔ یہ حق اتنا اہم ہے کہ قرآن مجید میںسورہ بقرہ کی آیت نمبر 233میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ”ماﺅںاپنے بچوں کو دو سال تک دودھ پلائیں… “

ایک وقت تھا جب ماﺅں کے پاس اس کے علاوہ اور کوئی راستہ ہی نہ تھا کہ بچوں کواپنا دودھ پلائیں۔ پھرڈبے کا دودھ سامنے آیا اور اسے بنانے والوں نے اسے کچھ اس طرح سے پیش کیا گویا یہ ماں کے دودھ جیسا ہی نہیں بلکہ اس سے زیادہ بہتر ہے۔ جب یہ راستہ کھل گیا تو بہت سی ماﺅں نے اس کا سہارا لینا شروع کیا۔ کچھ اسے زیادہ مفید سمجھتی تھیں‘ کچھ کے نزدیک یہ ایک سہولت تھی جبکہ کچھ کا کہنا تھا کہ ان کا دودھ کم آتا ہے اور بچے کی ضرورت کیلئے ناکافی ہے۔

منڈی بہاﺅالدین کی رضیہ بیگم کے تین پوتے ہیں۔ ان کا کہنا ہے:
”جب میرا بیٹا پیدا ہوا تومیں نے اسے صرف اور صرف اپنا دودھ پلایااوراسے گائے وغیرہ کادودھ بالکل نہیں دیا۔اس زمانے میں باقی مائیں بھی یہی کرتی تھیں اور ان کے بچے صحت مند ہوتے تھے۔ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ آج کل کی مائیںبچوں کو ڈبے کا دودھ کیوں لگوا دیتی ہیں۔ میرے پوتوں نے بھی ڈبے کا دودھ پیا ہے اور وہ کمزور ہیں اور اکثر بیمار رہتے ہیں۔“
شفا انٹر نیشنل ہسپتال اسلام آباد کی ماہرِ امراض ِ بچگان ڈاکٹر ریحانہ سعیدکہتی ہیں کہ دودھ ڈبے کا ہو یا گائے کا‘ کسی طور ماں کے دودھ کا متبادل نہیں:
”میں ماﺅں کو بتاتی ہوں کہ انسان کا دودھ انسان کے بچے کے لیے ہے اور گائے یا بھینس کا دودھ اس کے اپنے بچے کے لیے ہوتا ہے۔ اس لیے ابتدائی عمر میں کم از کم پہلے چھے ماہ تک بچے کو اپنا دودھ پلائیں۔ڈبے کے دودھ کو ماں کے دودھ سے قریب تر کہا جاتا ہے لیکن حقیقت یہ ہے کہ اس کا اس دودھ سے کوئی مقابلہ نہیں۔“

ان کا کہناہے کہ اللہ تعالیٰ نے ماں کے دودھ میں وہ تمام چیزیں ڈالی ہیں جن کی بچے کوضرورت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ ماں جب فیڈر سے بچے کو دودھ پلاتی ہے توبچے کو ذرامختلف طریقے سے پکڑتی ہے جبکہ اپنا دودھ پلاتے

وقت اسے پکڑنے کا انداز اور ہوتاہے۔ اپنا دودھ پلاتے وقت بچہ ماں کے جسم کے ساتھ چپکاہوتا ہے۔ اس سے نہ صرف وہ خود کو محفوظ محسوس کرتا ہے بلکہ نفسیاتی طور پر بھی بچے پربہت اچھا اثر پڑتا ہے۔

ڈاکٹر ریحانہ کے بقول بچہ جب پیدا ہوتا ہے تو جسمانی طور پر بہت کمزور ہوتا ہے۔ اس کی پیدائش کا عمل ماں ہی نہیں، بچے کیلئے بھی بہت مشکل ہوتا ہے اوراس کے جسم میں بعض دفعہ گلوکوز کی کمی ہوجاتی ہے۔ اس لیے جب بچہ پیدا ہو تو اسے فوراً ماں کی چھاتی سے لگانا چاہیے۔بچے کو چومنا اوراسے اچھے اچھے کپڑے پہنانا یقیناً اچھا ہے لیکن اس سے زیادہ اہم اور اچھی بات یہ ہے کہ ماں اسے اپنا دودھ پلائے۔
ملتان سے تعلق رکھنے والی سائرہ مشتاق نے شفا نیوز سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ان کے دو بچے ہیں:

”پہلے بچے کی دفعہ دودھ بہت کم تھا۔ اس پر میرے رشتہ داروں نے مجھے مشورہ دیا کہ فلاں ڈبے کا دودھ اچھا ہے لہٰذاتم وہ بھی ساتھ دیا کرو ۔میں نے وہ دینا شروع کیا۔ اس کے بعد میرا دودھ مزید کم ہو گیا اور بچہ بھی میرا دودھ کم اور ڈبے کا زیادہ پینے لگا۔ دوسری دفعہ بھی دودھ کم ہی تھا۔“

شفانیوز نے جب کچھ ایسی ماﺅں سے گفتگو کی جنہوں نے بچوں کو اپنا دودھ نہیں پلایا تھاتو اکا دکا خواتین کا کہنا تھا کہ وہ بچوں کو اپنا دودھ اس لئے نہیں پلانا چاہتیں کہ اس نے ان کا(خواتین کا) فِگر خراب ہوتا ہے جبکہ ایک خاتون کا کہنا تھا کہ ان کے شوہر نہیں چاہتے کہ میں بچے کو اپنا دودھ پلاﺅں۔ اکثریت کی شکایت تھی کہ ان کادودھ آتا ہی کم ہے‘ ورنہ ان کے نزدیک بچے سے بڑھ کر کوئی نہیں۔
ڈاکٹر ریحانہ کہتی ہیںکہ ماﺅں کی چھاتیوں میں بچے کی ضرورت کے مطابق دودھ موجود ہوتا ہے اوربہت ہی کم صورتوں میں ایسا ہوتا ہے کہ وہ کم ہو :
”انسان جب تک کسی کام کو کرنے کے لیے ذہنی طور پر تیار نہ ہو‘ تب تک وہ اسے نہیں کر سکتا۔ اسی طرح جب تک مائیںخود اس بات پر آمادہ نہیں ہوتیں کہ انہیں ہر صورت بچے کو اپنا دودھ پلانا ہے اور یہ کہ اس سے اچھی چیز دنیا میں نہیں ہے، تب تک وہ بچے کو ٹھیک طرح سے اپنا دودھ نہیں پلاپائیں گی۔“

جب ان سے پوچھا گیا کہ دودھ کم کیوں آتا ہے تو ان کا کہناتھا کہ یہاں بھی طلب اور رسد کا فارمولا کام کرتا ہے :
”بچہ جتنا زیادہ دودھ پیئے گا‘دودھ اتنا ہی زیادہ آئے گا۔ہم دیکھتے ہیں کہ جب بچہ شروع میں ماں کا دودھ کم پیتا ہے تو اسے فوراً بوتل دے دی جاتی ہے۔ ماں کا دودھ پینے میں بچے کو طاقت استعمال کرناپڑتی ہے جس سے اس کے منہ،گردن اور جبڑے کے پٹھے مضبوط ہوتے ہیں۔ جب اسے بوتل کے ذریعے آسان طریقے سے دودھ ملے گا تو اسے ماں کا دودھ پینا مشکل لگے گا۔ اس طرح بظاہر سہولت کی خاطر ماں اور بچہ‘ دونوں بوتل کے دودھ پرمائل ہوجاتے ہیں۔“

ڈاکٹرسمیرا طاہر ایک گائناکالوجسٹ(ماہر امور زچہ و بچہ) ہیں جن کا تعلق فیصل آباد کے الائیڈ ہسپتال سے ہے۔ وہ بھی ڈاکٹر ریحانہ سے اتفاق رکھتی ہیں:
”بہت سی صورتوں میں بچہ (خواہ آپریشن سے پیدا ہوا ہو یا نارمل طریقے سے )‘ ماں سے الگ رکھا جاتا ہے۔ اہل خانہ چاہتے ہیں کہ زچگی کے مشکل مرحلے سے گزرنے کے بعد ماںکو کچھ دیر آرام ملے۔ وہ کہتے ہیں کہ اس نے بیڈ سے ہلنا ہی نہیں۔ وہ اتنی تکلیف میں ہے بچے کو اپنا دودھ کیسے پلائے گی۔ یاد رکھیں کہ پیدائش کے آدھے گھنٹے کے اندر اندر بچے کو ماں کا دودھ ضرور پلانا چاہیے۔ اگر نہیں پلائیں گے تو آہستہ آہستہ اس کی مقدار کم ہو تی جائے گی۔“

کچھ خواتین نے بتایا کہ وہ کسی کے سامنے بچے کو دودھ نہیں پلا تیں۔ دوسری طرف ہمارا سوشل سیٹ اَپ ایسا ہے کہ بچے کی پیدائش پر سارا گھر لوگوں سے بھرا ہوا ہوتا ہے۔ لوگ مبارک دینے آتے ہیں تواٹھنے کا نام ہی نہیں لیتے۔ ایسی صورت میں وہ بچے کو دودھ پلاتے ہوئے جھجک محسوس کرتی ہیں۔ گجرات کی سعدیہ کا کہنا ہے :

”بیٹے کی پیدائش پر ہمارا گھر مہمانوں سے بھرا رہتا تھا۔ اس صورت میں مجھے بچے کو فیڈ کرواتے ہوئے تھوڑا عجیب محسوس ہوتاتھا۔ اس لیے میں اسے بوتل کا دودھ دے دیتی تھی۔“
مہمانوں اور خصوصاً ساسوں کو یہ بات سمجھنی چاہیے کہ ماں اور بچے کے لیے یہ وقت کتنا قیمتی ہے۔ وہ ماﺅں کو ایسا ماحول مہیا کریں جس میں وہ با آسانی بچے کو دودھ پلا سکیں۔ ڈاکٹر ریحانہ کا کہنا ہے کہ عام حالات میں ماﺅں کو ڈبے کا دودھ تجویز نہیں کیا جاتا۔ سی سیکشن میں جب ماں ہل نہیں پا رہی ہوتی‘ تب بھی بچے کو ماں کی چھاتی سے لگایا جا سکتا ہے۔ ڈبے کا دودھ ان صورتوں میں دیاجاتا ہے جب بچے کی پیدائش وقت سے پہلے ہو، اس کی کیلوریز ڈیمانڈ پوری نہ ہو رہی ہو ںیا ماں بیمار ہو‘ مثلاً ماں کا بلڈ پریشر زیادہ ہو، اس کا خون نہ رک رہا ہویا وہ آئی سی یو میں ہو۔ ایسے میں ڈبے پر بتائے گئے طریقے کے مطابق دودھ بنانا ہوتا ہے۔ اس میں پانی کم مقدارمیں ڈالنے سے قبض ہو سکتی ہے جبکہ زیادہ مقدار سے پیچش لگ سکتے ہیں۔

ملازمت پیشہ خواتین کے لیے بچے کو فیڈ کروانا کسی بڑے مسئلے سے کم نہیں ہے۔ وہ کام پر جائیں یا گھر رہ کر بچے کو فیڈ کروائیں۔ ہمارے ملک میں ایسے ادارے بہت کم ہیں جہاں ڈے کئیر کی سہولت موجود ہے۔ جہاں یہ سہولت نہیں‘ وہاں بچے اس نعمت سے محروم رہ جاتے ہیں۔ جب ڈاکٹرسمیرا طاہر سے اس بارے میںپوچھا گیا تو ان کا کہنا تھا :
”یہ ہماری بد قسمتی ہے کہ ہم ملازمت کرنے والی ماﺅں کو وہ سہولیات نہیں دے پاتے جس میں وہ اپنے بچے کو فیڈ کروا سکے یا اس کے ساتھ وقت گزار سکے۔ ایسی صورت میں ماﺅں کو چاہیے کہ وہ اپنا دودھ نکال کر فریز کر لیں تاکہ بعد میں بچے کو پلایا جا سکے۔“

ڈاکٹرریحانہ کہتی ہیں کہ اس کے لیے پمپ استعمال کیا جاتا ہے جو دو قسم کا ہوتا ہے:
”ایک سے ہاتھ کی مدد سے دودھ نکالا جاتا ہے۔ اس میں محنت زیادہ کرنا پڑتی ہے۔ دوسراطریقہ الیکٹریکل پمپ ہے جو ایک منٹ میں چھاتی خالی کر دیتا ہے۔ دودھ نکال کر فریز کرلیں تو یہ 24گھنٹے تک استعمال کے قابل رہتا ہے ۔جب دودھ پلانا ہوتو اسے نکالیں ‘بوتل کو گرم پانی میں رکھیں اورجب اس کا درجہ حرارت نارمل ہو جائے تو بچے کو پلا دیں۔ اس بات کا خیال رکھیں کہ اسے ابالنا نہیں ہے اور نہ ہی زیادہ ٹھنڈا ہونا چاہیے۔ جب اس کی ٹھنڈک ختم ہو تو پانی میں سے بوتل نکال لیں۔“

حمل کے دوران جب خواتین چیک اَپ کے لیے جاتی ہیں تو اس مرحلے میں انہیں دیگر امور کے علاوہ دودھ پلائی کے حوالے سے بھی راہنمائی اور تربیت کی ضرورت ہوتی ہے۔ ڈاکٹر ریحانہ کہتی ہیں :
” ہسپتال یا کلینک میں ایسی نرس موجود ہونی چاہیے جو انہیں اس کا طریقہ سمجھائے۔ ہسپتالوں کی انتظار گاہوںمیں اس طرح کی ویڈیوز چلانی چاہئیں تاکہ وہاں بیٹھ کروہ دودھ پلانے کا طریقہ سیکھ لیں۔ اس کے علاوہ جب بچے کو ویکسی نیشن کروائی جاتی ہے‘ تب بھی ڈاکٹر کو چاہئے کہ ماﺅں کو اس بارے میں بتائے ۔“

بہتر راہنمائی ،اچھی سہولیات اور مناسب ماحول فراہم کیا جائے تو شاید کوئی بھی عورت نہیں چاہے گی کہ وہ بچے کواپنا دودھ نہ پلائے۔ جن خواتین کو دودھ کم آنے کی شکایت ہو‘ انہیں چاہیے کہ پانی، دودھ اور جوس زیادہ پئیںاور دودھ پلانے کے ٹھیک طریقے پر عمل کریں۔ ہسپتالوں میں ماﺅں کو اس بارے میںسمجھانے کے لیے سہولت موجود ہونی چاہیے تاکہ انہیں کسی قسم کے مسئلے کا سامنا نہ کرنا پڑے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

والدین کابچوں کی تربیت میں ہر وقت اپنی بات منوانے پر اص

    بچے کی پیدائش اور خاص طور پر پہلے بچے کی پےدائش گھر

ننھے پھول اس دنیا میں آتے ہی رونے لگتے ہیں اور یہ واحد ر

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of