زچگی کے بعد وزن کیسے گھٹائیں

404

حمل ٹھہرنے کی تصدیق ہوتے ہی متوقع ماں اس خاص دن کا انتظار کرنے لگتی ہے جب وہ اپنے وجود سے ایک نیاوجود تخلیق کرے گی۔ جس دن اسے اپنے خوابوں کی تعبیر ملتی ہے‘ وہ اس کی زندگی کا یادگار اور خوشگوار ترین دن ہوتاہے ۔ اس روز وہ سب کی آنکھوں کا تارا ہوتی ہے اور اردو محاورے کے مطابق خوشی سے پھولے نہیں سماتی ۔

”پھولے نہ سمانا“ اگرچہ ایک محاورہ ہے جس کا خوشی کی وجہ سے پھول جانے یعنی اس کے موٹا ہونے سے کوئی تعلق نہیں لیکن حمل کے دوران اور زچگی کے بعد بہت سی خواتین کا جسم حقیقی معنوں میں بھی پھول جاتا ہے اور وزن بڑھ جاتا ہے جو انہیں پریشان کئے رکھتا ہے۔ انہیں ایک طرف جسم کے بھدا اور بے ڈول ہونے کی فکر کھائے جاتی ہے تو دوسری طرف بعض اوقات کچھ طبی مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں۔

وزن کیوں بڑھتا ہے؟
عورت عمر کے کسی بھی حصے میں ہو‘ خوبصورت دِکھنا چاہتی ہے اور موٹاپا اس تاثر کو زائل کرنے کا سب سے بڑا سبب ہے۔زچگی کے بعد موٹاپے کی شکار خواتین اگر وزن کم کرنے کی خواہش مند ہوں تو سب سے پہلے انہیں ان عوامل کو سمجھنا چاہئے جو دوران حمل اور زچگی اس کا سبب بنتے ہیں ۔شفا انٹر نیشنل فیصل آباد کی ماہر زچہ و بچہ ڈاکٹر کنیز فاطمہ کے مطابق اس سے متعلق کچھ عوامل درج ذیل ہیں:

غلط اور غیر سائنسی تصورات
دوران حمل خواتین کا وزن بڑھنے کی متعدد وجوہات ہیں جن میں سے ایک وجہ حمل اور زچگی سے متعلق ہمارے غلط تصورات ہیں ۔ مثلاً ہمارے ہاں یہ تصور بہت عام ہے کہ ماں بننے والی عورت ایک کی بجائے دو لوگوں کے برابر کھانا کھائے کیونکہ اب وہ ایک جان لیکن دو قالب ہیں ۔ یوں اکثر خواتین صحت مندبچے کی خواہش میں خود کافی موٹی ہو جاتی ہیں۔
موٹاپے کے لئے ہمارے ہاں ’صحت مند‘ کی اصطلاح استعمال ہوتی ہے ‘ حالانکہ یہ نہ صرف ایک بیماری ہے بلکہ بہت سی بیماریوں کا سبب بھی ہے ۔ زچگی کے بعد جب انہیں اپنے موٹاپے اور نتیجتاً جسم کے بھدا ہونے کا احساس ہوتا ہے‘ تب تک بہت دیر ہو چکی ہوتی ہے۔ موٹاپے کے خوف سے کھانا بند کرنا درست حکمت عملی نہیں ۔ آپ ضرور کھانا کھائیں لیکن یہ متوازن غذا پر مشتمل اور متوازن مقدار میں ہونا چاہئے تاکہ آپ کو طاقت اور توانائی تو ملے لیکن آپ موٹاپے کی پریشا نی سے محفوظ رکھیں۔

دیسی گھی اور پنجیری کا استعمال
زچگی کے بعد ہونے والے موٹاپے کی اےک بڑی وجہ ےہ ہے کہ حمل کے دوران اکثر خواتےن خوب کھاتی ہےں اور بستر پر رہتی ہےں۔ ےوں غذا سے حاصل شدہ توانائی استعمال نہےں ہوپاتی اور چربی میں بدل جاتی ہے ۔ ہمارے ہاں خواتین کوزچگی کے بعد پورے 40 دن تک گھی اور پنجیری وغیرہ کاوافر استعمال کروایا جاتا ہے ۔نتیجتاً خواتین کا وزن بڑھ جاتا ہے ۔

پانی بہت کم پینا
زچگی اورخصوصاً بڑے آپرےشن کے ذرےعے زچگی کے بعد ماﺅں کوزےادہ پانی پینے سے منع کیا جاتاہے اور دلیل ےہ دی جاتی ہے کہ اس سے وزن بڑھ جاتا ہے ۔ یہ تصور بالکل غلط اور جاہلانہ ہے کہ سیزرین کے بعد پانی پےنے سے پیٹ بڑا ہوجاتا ہے۔خواتےن کو ےاد رکھنا چاہئے کہ پانی کم پینے کی وجہ سے ماﺅں کے دودھ میں بھی کمی واقع ہوجاتی ہے جس کی وجہ سے ان کا بچہ بھوکارہتا ہے۔

کرنے کے کام
زچگی کے بعد جسم کو حمل سے پہلی حالت پر واپس لانے کے لئے بعض خواتین غےرصحت مند ٹوٹکوں اور تدبیروں کا بھی سہارا لیتی ہیں جو ان کی صحت کے لئے مضر ثابت ہو سکتے ہیں۔تاہم اس ضمن میں صحت مند طرےقوں کا استعمال جائز ہی نہیں‘ ضروری بھی ہے ۔
سڈول جسم واپس لانے کے لئے دو چیزوں کی اہمیت بہت زیادہ ہے ۔ان میں سے پہلی غذامیں احتےاط جبکہ دوسری باقاعدہ ورزش ہے اور یہی مسئلے کا پائیدار حل بھی ہے ۔
دوران حمل ماں کے پیٹ اورکولہوں کے پٹھے پھیل جاتے ہیں۔ انہیں واپس اپنی شکل میںلانے کے لئے باقاعدہ ورزش کی ضرورت ہوتی ہے۔ہمارے ہاں زچہ کو بالعموم اور سی سیکشن سے گزرنے والی خواتین کو بالخصوص لمبے عرصے تک بستر پرآرام کے لئے لٹادیاجاتا ہے جو بالکل غلط طریقہ ہے۔ڈاکٹر کنیز فاطمہ کے مطابق خواتین کو زچگی کے دوسرے ہی دن متحرک کردےنا چاہئے‘تاکہ ان کا جسم بے ڈول ہونے سے بچ جائے۔

شفا انٹر نیشنل ہسپتال فیصل آباد سے تعلق رکھنے والی ماہر غذائیات عروج روف کہتی ہیں کہ دوران حمل اور زچگی کے بعد ماﺅں کی صحت بہتر بنانے میں خوراک اہم کردار اداکرتی ہے جس کا انتخاب ماہرغذائیات کے مشورے سے ہی کرنا چاہیے۔

ان کے مطابق اےسی خواتین کو چاہئے کہ سرخ گوشت کا استعمال ممکن حد تک کم کریں‘ کیونکہ اس میں چکنائی بہت زیادہ ہوتی ہے۔ اس کی بجائے مچھلی اور مرغی استعمال کریں۔ پھل اور سبزیاں بھی قوت کا خزانہ ہیں‘ لہٰذا ان کا مناسب استعمال ضرورکرنا چاہئے ۔ بغیر بالائی کے دودھ‘ دہی‘بادام اورگاجروں کا استعمال بھی صحت کے لئے مفید ہے۔ اگر ماں بچے کو اپنا دودھ پلارہی ہو تو ماں کا وزن بڑھ نہیں پائے گا جس سے ماں اور بچہ‘ دونوں کی صحت پر مفید اثرات مرتب ہوں گے۔

موٹاپے سے نجات کی تجاویز
عروج کے مطابق موٹاپے سے نجات کے لئے مندرجہ ذیل چیزوں سے پرہیز کرنا چاہئے :
٭تلی ہوئی اشیائ‘مرغن غذائیں‘ مٹھائیاں‘کیک‘ پڈنگ اورچکنائی والی خوراک سے بالکل پرہیز کریں اورماہر غذائیات سے مشورہ کرکے ایک متوازن غذا کا چارٹ بنا لیں اور اس پر سختی سے عمل کریں۔کم چکنائی کی حامل غذا کے استعمال سے آپ کا وزن کم رہے گا۔
٭اگر غذائی پروگرام میں ورزش کو بھی شامل کرلیاجائے تو آپ کے وزن میں جلد کمی واقع ہوگی اور آپ اس کمی کو برقراررکھ سکیں گی۔
٭تیز پیدل چلنے سے بھی آپ اپنا وزن کم کرسکتی ہیں۔ آغاز میںاس کا دورانیہ کم رکھیں اورجب ٹانگوں کے پٹھے اور پاﺅں اس کے عادی بن جائیں تو اس دورانیے میں اضافہ کر دیں ۔
٭نئے بچے کو سنبھالنا جسمانی اور جذباتی لحاظ سے تھکا دینے والا عمل ہوتا ہے۔ اس لئے متحرک رہنا اگرچہ اچھا ہے لیکن جسم کو مناسب غذا کے ساتھ ساتھ آرام کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ اس کا اہتمام ضرور کرنا چاہئے۔
٭زیادہ سے زیادہ پانی پئیں۔ (ص۔ن)

 

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts