کچن گارڈننگ صحن سے دستر خوان تک

والدین کی ایک بڑی پریشانی یہ ہے کہ ان کے بچے جنک فوڈ‘ چکن ‘ گوشت اور پلاﺅ وغیرہ کے علاوہ کچھ کھاناپسند ہی نہیں کرتے اور سبزیوں کے تو بالکل بھی قریب نہیں آتے ۔ یہ کہانی کسی ایک گھر کی نہیں بلکہ گھر گھر کی ہے ۔دوسرا مسئلہ یہ ہے کہ ہم بازار سے جوسبزیاں لاتے ہیں‘ وہ کم ہی تازہ ہوتی ہیں اور اگر ہوں بھی تو ممکنہ طور پر آلودہ پانی کی آبیاری اور مضرصحت کیمیکلز کے محفوظ حد سے زیادہ استعمال کی وجہ سے اس قابل نہیں ہوتیں کہ انہیں بے دھڑک ہو کرکھایا جا سکے۔

اس مسئلے کا حل یہ ہے کہ سبزیاں گھروں کے اندر کاشت کی جائیں۔ اگر انہیں اگانے اور ان کی دیکھ بھال میں بچوں کو شامل کر لیا جائے تو اس بات کا امکان ہے کہ وہ انہیں کھانے کی طرف بھی راغب ہوجائیں۔بچوں سے پوچھا جائے کہ انہیں سلاد میں کیا پسند ہے۔ اس کے مطابق ان کے لئے پودے مختص کئے جائیں جن کا وہ خیال رکھیں اور جب پودے اُگ آئیں تو وہ تازہ سبزیوں سے سلاد کے خوبصورت ڈیزائنز بنائیں۔اس طرح اس بات کی توقع ہے کہ ان کا دل انہیں کھانے کو بھی چاہنے لگے گا۔

گھر میں سبزی کیسے اگائیں
گھروں میں سبزیاں لگانے کے لئے درج ذیل امور کاخیال رکھنا چاہئے :

جگہ کا انتخاب
سبزیوں کی کاشت کے لئے ایسی جگہ کا انتخاب کریں جو گھر کے قریب ہو اور جہاںہر وقت باآسانی جایا جاسکے۔یہ جگہ ایسی ہونی چاہئے جہاں دھوپ دستیاب ہو اور گھر کی دیواروں یا درختوں وغیرہ سے کم از کم 10فٹ کے فاصلے پر ہو۔اس کے علاوہ وہاں پانی باآسانی اور وافر مقدار میں دستیاب ہو۔

زمین کا انتخاب
جگہ کے انتخاب کے بعد دوسری اہم چیز وہ زمین ہے جس میں سبزیاں کاشت کی جانی ہیں ۔وہ نرم،ہوادار اوربھر بھری ہونے کے ساتھ ساتھ پتھر ،کنکروں وغیرہ سے پاک ہونی چاہئے۔ ایسی زمین میں ان اجزاءکی موجودگی ضروری ہے جو پودوںکی نشوونما کے لئے

اہم ہوتے ہیں ۔اس کے ساتھ ساتھ اس زمین میں اضافی پانی کی نکاسی کی صلاحیت بھی ہونی چاہئے ۔

زمین کی تیاری
سبزیاں کاشت کرنے سے تقریباً 15سے30دن پہلے زمین کی تیاری مکمل کر لیں۔اس کے لئے فی مرلہ(تقریباً250مربع فٹ جگہ)8 سے 10رہڑی گوبر کی کھاد مٹی میں شامل کر کے مناسب مقدار میں پانی لگا دیں۔اس کے بعد روزانہ گوڈی کریں اور اضافی جڑی بوٹیاں نکالتے جائیں۔
ایسا کرنے سے زمین غذائی اجزاءسے بھرپور اور اضافی جڑی بوٹیوں سے پاک ہوجائے گی۔بصورت دیگر وہ زمین سے غذائی اجزاءچوس کراصل سبزیوں کی بھرپور نشوونما نہیں ہونے دیں گی جس کے نتیجے میں ناقص پیداوار اوروقت کے ضیاع کے ساتھ مالی نقصان بھی ہوسکتا ہے۔

بیج لگانے کا طریقہ
سبزیوں کی نوعیت کے مطابق زمین تین طریقوںسے تیار کی جاتی ہے۔
پہلے طریقے میںزیر زمین اگنے والی سبزیاںمثلاً مولی،شلجم اورگاجروغیرہ لگانے کے لئے زمین میں کھلیاں(ridges) بنائی جاتی ہے۔ ہر کھلی کی چوڑائی ایک فٹ اور اونچائی نو انچ رکھی جاتی ہے جبکہ لمبائی میں آپ ضرورت اور جگہ کے مطابق کمی بیشی کرسکتے ہیں۔ ایک جگہ پر مناسب فاصلے پر دو سے تین بیج لگانے چاہئیں۔

دوسرا طریقہ بنے (raise beds) بنانا ہے جو تین فٹ چوڑے اورنو انچ اونچے ہونے چاہئےں۔مٹی کے بنوں میں بیلوں والی سبزیوں کے بیج مثلاً کھیرا،کدو اور توری وغیرہ دبائے جاتے ہیں۔بیج شمال کی سمت میں لگائے جائیں تاکہ اگنے والے پودے کا رخ جنوب کی سمت میں ہو کیونکہ سبزیاں ہمیشہ سورج کی طرف اگتی ہیں۔

تیسرا طریقہ کیاریاں (flat beds)بنا کر سبزیاں اگانے کا ہے ۔ گھروںمیں چھوٹی کیاری بنائی جاتی ہے ۔اگر آپ چھوٹے بیج والی سبزیاں یا وہ پودے لگانا چاہتے ہیں جو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کئے جاسکتے مثلاًپالک،میتھی اور دھنیا وغیرہ توان کے بیج ان کیاریوں میں لگا دیجئے۔

پانی دینے کا طریقہ
اوپر بتائے گئے طریقوںکے مطابق آپ نے جو کھلیاں،بنے اور کیاریا ںبنائی ہیں ان کے درمیان ایک سے ڈیڑھ انچ جگہ خالی رکھیں۔ اس نالی نما خالی جگہ میں اتناپانی چھوڑیں کہ اس کی سطح بیج کے لئے بنائی گئی جگہوں(کھلیوں‘ بنوں اور کیاریوں) سے بلند نہ ہو۔ اس طرح بیج کو اس کی ضرورت کے مطابق ہی پانی مل پائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ اس بات کا بھی خیال رکھناچاہئے کہ زمین خشک نہ ہونے پائے ‘ اس لئے کہ اس کا مناسب حد تک نم دار رہنا ضروری ہے۔اس کے علاوہ آپ کے روزانہ کے معمول میں گوڈی کرنا اور فالتو جڑی بوٹیوں تلف کرنا بھی شامل رہنا چاہئے۔

سبزیوں کی دیکھ بھال
پودوں کی صحت کی بحالی کے لئے ضروری ہے کہ ان پر کیڑے مکوڑوں کا حملہ نہ ہونے پائے۔ مندرجہ ذیل طریقوں سے گھر میں ہی کیڑے مار ادویات تیار کی جا سکتی ہیں :
٭زیادہ تر سبزیوں پربھونرا(Beetle) کیڑے کا حملہ ہوتا ہے۔ اسے ”مکھی مار“ سے ختم کریں ۔
٭دوسرا حملہ آور کیڑا تیلا(Shield Bug) ہے جس کے خاتمے کے لئے سوکھے پتوں کی راکھ یا لکڑیوں کے تنور کی چھائی استعمال کرنی چاہئے۔اگر اس راکھ کا پودوں پر چھڑکاو¿ کر دیں تو آکسیجن نہ ملنے کی صورت میں یہ کیڑاخود بخود مر جائے گا۔
٭عام تمباکو لے کراسے تقریباً ایک ہفتے کے لئے پانی میں بھگو دیں پھر اس پانی کا متاثرہ پودوں پر چھڑکاو کریں۔
٭نیم کے پتوں کو پانی میں ابال لیں اور اس پانی کو چھان کر پودوں پر چھڑکاو¿ کریں۔
اگر مندرجہ بالا طریقوں پر عمل کرنے سے کیڑے تلف نہیں ہوتے تو بازار سے کوئی بھی اچھی سی کیڑے مار دوا خرید کر استعمال کریں۔ اگر وہ مائع شکل میں ہو تو آدھا چائے کا چمچ ایک گیلن پانی میں ملا کراس کا چھڑکاو¿ کریں۔اس طرح ضررساں کیڑے مر جائیں گے اور سبزیاں دوا کے مضر صحت اثرات سے محفوظ رہیں گی۔

Vinkmag ad

Read Previous

آپ کی ترجیح …کوکنگ آئل یا گھی؟

Read Next

گجریلا

Most Popular