کیا مسیحا ہیں‘ کیا مسیحائی ہے

269

اعضا ءکی تجارت کے حوالے سے پاکستان سمیت کئی ملکوں پر پھیلے ہوئے غیرقانونی نیٹ ورک کے یوں تو بہت سے کردار ہیں اور ہر ایک کے بارے میں بات کی جانی چاہیے لیکن شاید سب سے زیادہ توجہ طلب شعبہ طب سے وابستہ وہ ماہرین ہیں جن کی پیشہ ورانہ صلاحیت اورمہارت استعمال ہوئے بغیر یہ غیرقانونی اورغیرانسانی دھندہ ممکن ہی نہیں ۔خالد رحمٰن کی ایک دلچسپ تحریر

     17 سالہ نوجوان کا چہرہ شدید تکلیف کاعکاس تھااور اس کے جسم پر بندھی پیٹیوں سے خون مسلسل رس رہا تھا۔ معلوم ہوا کہ دو روزسے دردکش دوائیں کھانے کے باوجود اسے آرام نہیں آرہا۔ جسمانی تکلیف تو اسے تھی ہی لیکن اس کی پریشانیوں کی داستان اس سے کہیں زیادہ اذیت ناک تھی۔ جنگ، ہلاکتیں، گھر اور مال واسباب کی تباہی اور مہاجرت‘ اور اس دوران قدم قدم پر خودغرض انسانی رویے اس اذیت ناک داستان کے چند عنوانات ہیں۔
معلوم ہوا کہ اپنے ملک (شام)میں خانہ جنگی کی بناءپر وہ اس علاقے (بیروت) میں مہاجرت کی زندگی گزاررہا تھا۔ باپ اور بھائی ہلاک ہوچکے تھے اوراس کے پاس آمدن کا کوئی ذریعہ نہ تھا۔اب اسے ہی اپنی ماں اور پانچ بہنوں کی ضروریات زندگی کا انتظام کرنا تھا۔ تین سال کی مہاجرت میں وہ اور اس کا خاندان قرض میں ڈوب چکاتھا اور قرض اتارنا تودُور کی بات ، عام ضروریات زندگی پوری کرنے کی بھی کوئی صورت نہ بن پارہی تھی۔ ان حالات میں جب اسے ایک سودے کی پیشکش ہوئی تو اس کے لیے اس سے انکارممکن نہ ہوا۔ سودے کے عوض ملنے والی رقم اچھی خاصی تھی‘یعنی 8000 امریکی ڈالرز.اس رقم کے عوض اسے اپنا ایک گردہ خریدار کے حوالے کرنا تھا۔

خریدار کون تھا؟ یہ تو اسے معلوم نہ تھا اور شاید اس کی کوئی اہمیت بھی اس کے لیے نہ تھی۔ وہ تو بس اس ایجنٹ کو ہی جانتا تھا جس نے اس سے سودا کیا تھا۔
ایجنٹ نے دریافت کرنے پر بتایا کہ یہ تو اسے بھی معلوم نہیں کہ خریدار اصل میں کون ہے؟ اس کا کام تو مالی طورپر بدحال لوگوں کو اپنے اعضاءفروخت کرنے کی ترغیب دلانا اور ان کی رضامندی حاصل کرنے کے بعد انہیں آپریشن کے لیے اپنے گینگ سے وابستہ ڈاکٹر کے حوالے کردینا ہے۔ اسے نہیں معلوم کہ اعضاءنکالے جانے کے بعد ان کا کیا کیاجاتا ہے‘ لیکن اس کاخیال ہے کہ انہیں برآمد کردیا جاتا ہے۔
اس سارے کام کے عوض خود اس ایجنٹ کو کیا ملتا ہے؟ یہ تو اس نے نہیں بتایا لیکن اس کا کہناتھا کہ” آپریشن کے بعد ایک ہفتے تک میں ہی ان کی دیکھ بھال کرتا ہوں۔ جیسے ہی مریض کے ٹانکے کھل جائیں ‘میرا کام ختم ۔ اگر کوئی مرجائے تو مجھے اس کی پروا نہیں ۔ یہ میرا مسئلہ نہیں کہ گاہک کو پیسے مل جانے کے بعد کیاہوا۔“
تو کیا ایجنٹ کو اپنے اس کام کے حوالے سے کبھی کوئی پچھتاوا بھی ہوتا ہے ؟ ہرگز نہیں! اس کے برعکس وہ دلیل دیتا ہے کہ یہاں (لبنان میں) غیرقانونی طور پر پناہ گزین افراد زندگیوں سے مایوس ہیں اور ان کے پاس زندہ رہنے کے لیے اپنے اعضاء فروخت کرنے کے علاوہ کوئی اور راستہ نہیں۔ اس کی مزید دلیل یہ ہے کہ” میں تو لوگوں کی مدد کررہا ہوں۔ میرا گاہک جو رقم حاصل کرتا ہے ‘اس سے وہ اپنی اور اپنے خاندان کی زندگی کے لیے کوئی کام کرسکتا ہے۔“

جہاں تک قانونی اور غیرقانونی کی بحث ہے تو اس کے خیال میں وہ بے معنی ہے۔ اس کی ایک دلیل تو یہ ہے کہ ”میں کسی کو آپریشن کے لیے مجبور نہیں کرتا۔ میںتو کسی کی درخواست پر اسے صرف سہولت فراہم کررہا ہوں۔ اس سے بھی آگے بڑھ کر اس کی دلیل یہ ہے کہ ”اصل میں قانون ہی ہے جو خانہ جنگی کی بناءپر بے گھر ہونے والے ان متاثرہ لوگوں کو ملازمت اور امداد تک رسائی سے روکتا ہے۔“
تو کیا یہ سارا کام چھپ چھپا کر کسی زیرزمین جگہ پر ہوتا ہے؟ایسا بھی نہیں ہے۔
اس نے بتایا کہ اس کا اڈہ شہر کے ایک پرہجوم علاقے میں واقع ہے۔ بعض اوقات آپریشن کے لیے کرائے کے گھر بھی استعمال ہوتے ہیں۔ اس کے بقول کاروبار پھل پھول رہا ہے۔ اپنے گھر کی نزدیکی دیواروں پر اس نے اپنا فون نمبربھی تحریر کیا ہوا ہے تاکہ لوگ اس سے باآسانی رابطہ کرسکیں۔ پہلے وہ ایک شراب خانہ میں سیکورٹی گارڈ کے طورپر کام کررہا تھا لیکن جب سے اس نے اعضاءکی تجارت سے منسلک گروہ کے ساتھ کام شروع کیا ہے‘تب سے اس کی آمدن خاصی بڑھ گئی ہے۔ علاقے میں اس کی عزت ہے اور لوگوں میں اس کاخوف بھی ہے۔ اس نے بتایا کہ تین برسوں میں اس نے 30 کے قریب پناہ گزینوں کے اعضاءکی فروخت کا بندوبست کیا ہے۔
اعضا ءکی تجارت کے حوالے سے پاکستان سمیت کئی ملکوں میں پھیلے ہوئے اس غیرقانونی نیٹ ورک کے یوں تو بہت سے کردار ہیں اوران میں سے ہر ایک کے بارے میں بات کی جانی چاہیے لیکن شاید سب سے زیادہ توجہ طلب شعبہ طب سے وابستہ وہ ماہرین ہیں جن کی پیشہ ورانہ صلاحیت اور مہارت استعمال ہوئے بغیر یہ غیرقانونی اورغیرانسانی دھندہ ممکن ہی نہیں۔