ڈینگی۔۔۔ہڈی توڑ بخار

246

ڈینگی کاباعث بننے والا مچھر صفائی پسند ہے اور صرف صاف پانی پربیٹھتا ہے۔ گھروں میں پانی کی ٹینکیاں( اگر وہ ڈھانپی ہوئی نہ ہوں)‘صاف پانی کے برتن (مثلاً بالٹیاں اور ٹَب وغیرہ) ‘ گملے(جن میں خواہ بہت ہی کم پانی کھڑا ہو) اورپرانے ٹائر (جن میں عموماًبارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے) ان کی پسندیدہ ترین جگہیں ہیں۔ڈینگی کا مو¿ثر توڑ اس مچھر کو روکنا ہے ۔ فریحہ فضل کی معلوماتی تحریر

چند دنوں سے طبیعت کچھ عجیب سی تھی۔ نزلہ زکام تو تھا ہی‘ اس کے ساتھ بخار بھی ہوگیا جو اترنے کا نام ہی نہ لے رہاتھا۔میں نے ہمیشہ مہمانوں کو خدا کی رحمت سمجھا ہے اور ان کی آمد پر کبھی ناک بھوں نہیں چڑھائی لیکن جب اپنی طبیعت ٹھیک نہ ہو توپھر انہیں سنبھالنا ذرا مشکل ہو جاتا ہے۔ اُن کے رخصت ہوتے ہی میں ہسپتال پہنچ گئی۔ تب تک میری طبیعت بہت خراب ہوچکی تھی اور بخار 102تک پہنچ گیا تھا ۔ ایک لمحے کو تو مجھے یوں لگا جیسے میراآخری وقت آگیا ہو ۔
میری کیفیت دیکھتے ہوئے حسن مجھے کلینک لے جانے کی بجائے براہ راست ایمرجنسی ڈپارٹمنٹ میں لے گئے جہاں مجھے فوری طور پر ابتدائی طبی امداد دی گئی۔ڈیوٹی پر موجود ڈاکٹر نے خون کے چند ٹیسٹ تجویز کئے اور جب ان کی رپورٹیں آئیں تو میں یہ جان کر حیران رہ گئی کہ مجھے ’ڈینگی بخار‘ ہے۔ خبروں میں تو اس کا بہت نام سُنا تھا لیکن میرے وہم و گمان میں بھی نہ تھا کہ مجھے خود اس تجربے سے گزرنا پڑجائے گا۔ سچ پوچھیں تو میں ڈر سی گئی۔

دوسری طرف حسن بھی حیران وپریشان تھے۔ انہوں نے ڈاکٹر کو مخاطب کرتے ہوئے کہا:” ڈینگی بخار مچھروں سے پھیلتا ہے اور ہم تو جنون کی حد تک صفائی پسند ہیں۔ پھر انہیں ڈینگی کیسے ہو سکتا ہے…؟“
” کیا آپ کے گھر میں گملے ہیں؟“ڈاکٹر نے نرمی سے پوچھا۔
”جی ہاں!میری مسز کو پودے اُگانے کا بہت زیادہ شوق ہے اور ہمارے گھر میں جگہ جگہ گملے اور آرائشی گلدان ہیں جس میں انہوں نے منی پلانٹ اُگائے ہوئے ہیں۔“ حسن نے فخریہ انداز میں کہا: ”لیکن اس بات کا یہاں کیا ذکر؟“ حسن نے متذبذب انداز میں پوچھا۔

”یہی اس بیماری کا سبب بنے ہیں۔“ڈاکٹرکے جواب پر میں اورحسن ایک دفعہ پھر ششدر رہ گئے۔ انہوں نے اس کی وضاحت کرتے ہوئے کہا:”مچھر عموماً گندگی پر پلتے ہیں لیکن ڈینگی کاباعث بننے والا مچھر آپ لوگوں کی طرح’ جنون کی حد تک‘ صفائی پسند ہے۔“ ہم دونوں نے ایک دوسرے کی طرف قدرے بدحواسی سے دیکھا۔ وہ پھر بولے:
”یہ اس صاف پانی پربیٹھتا ہے جورواں نہیں بلکہ کھڑا ہو۔ گھروں کی واٹرٹینکیاں( اگر وہ ڈھانپی ہوئی نہ ہوں)‘صاف پانی کے برتن (مثلاً بالٹیاں اور ٹَب وغیرہ) ‘ گلدان اورگملے(جن میں خواہ بہت ہی کم مقدار میں پانی کھڑا ہو)پرانے ٹائر( جن میں عموماًبارش کا پانی جمع ہوجاتا ہے) ان کی سب سے پسندیدہ جگہیں ہیں۔“
”ایک اور دلچسپ بات یہ ہے کہ …“ انہوں نے ہلکے سے وقفے کے بعد پھر بولنا شروع کیا:” اگرچہ یہ مچھر کسی بھی وقت حملہ آور ہوسکتا ہے مگر اس کے پسندیدہ اوقات طلوع آفتاب اور غروب آفتاب ہیں ۔ان دو اوقات میں ہمیں نسبتاً زیادہ احتیاط کرنی چاہئے ۔“

ڈاکٹر نے نسخے پر کچھ دوائیں لکھیں اور اگلے مریض کی طرف بڑھ گئے۔میں نے سوچا کہ اس پر کچھ اور معلومات اکٹھی کرنی چاہئیں۔ میں نے لاہور کی جنرل فزیشن ڈاکٹر عذراپروین کو فون کیا تو انہوں نے بتایا کہ اگرچہ یہ ایک متعدی مرض ہے تاہم یہ ایک مریض سے دوسرے مریض کو براہ راست نہیں لگتا:
”یہ مچھر جب ڈینگی کے مریض کو کاٹتا ہے تو اس کا وائرس مچھرکے جسم میں منتقل ہو جاتاہے۔اس کے بعد جب یہ کسی صحت مند شخص کو کاٹتا ہے تو وائرس اس میںمنتقل ہوجاتاہے۔“
عالمی ادارہ¿ صحت کے مطابق دنیا بھرمیں سالانہ پانچ کروڑ سے زائد افراد اس مرض کاشکار ہوتے ہیں جن میں سے ہزاروں لوگ جاں بحق ہو جاتے ہیں۔جنوبی ایشیاءمیں یہ مرض بہت عام ہے۔مو¿ثر آگاہی اور بروقت اقدامات کی وجہ سے پاکستان میں اس کی روک تھام میں بہت مدد ملی ہے ۔اس حوالے سے سرکاری سطح پر ‘خصوصاً صوبہ پنجاب میںبہت کام ہوا ہے جسے عالمی سطح پر بھی سراہا گیا ہے۔شیخ زید ہسپتال لاہورکی جنرل فزیشن ڈاکٹر سعدیہ نویدنے مجھے بتایا :
”جب یہ مچھر کسی صحت مند فرد کو کاٹتا ہے تو بالعموم تین سے سات دنوں میں اسے بخارہوجاتا ہے۔آغازعام طور پر نزلے اور بخار سے ہوتا ہے مگر بعد میں سراورپٹھوں میں شدیددرد ہوتا ہے جو آہستہ آہستہ جسم کے ہرجوڑ تک پھیل جاتا ہے اور مریض نڈھال ہو کر رہ جاتا ہے۔مزیدبرآں جسم کے بالائی حصے پر سرخ نشان ظاہر ہونا شروع ہوجاتے ہیں‘ بھوک مرجاتی ہے‘متلی کی سی کیفیت ہوتی ہے‘بلڈپریشر کم ہوجاتا ہے اورپاﺅں ٹھنڈے ہوجاتے ہیں۔ مرض شدید ہو تو ناک اور منہ سے خون بھی جاری ہوسکتا ہے۔ اس کا سبب یہ ہے کہ دھیرے دھیرے یہ جسم کے پورے نظام کو متاثر کرنا شروع کردیتا ہے جس کے باعث خون کی باریک نالیاں پھٹنا شروع ہوجاتی ہیں۔اگر یہ بیماری دماغ یا حرام مغز پرحملہ کردے تو مریض معذوری کا شکار بھی ہوسکتا ہے اوراس کی موت بھی واقع ہوسکتی ہے۔ اس مرض کا دوسرا نام ہڈی توڑ بخار (break bone fever)ہے کیونکہ اس میں ہڈیوں میں شدید درد ہوتا ہے اور ایسے لگتا ہے جیسے ہڈیاں ٹوٹ رہی ہوں۔“

”ڈاکٹر صاحبہ!میں تو پہلے سے ڈری ہوئی ہوں اور آپ مجھے مزید ڈرا رہی ہیں…“ میں نے خوفزدہ ہنستی ہنستے ہوئے کہا۔جواب میں وہ بھی ہنس پڑیں:” آپ کے کیس میں خطرے کی کوئی بات نہیں لیکن اگر لاپروائی برتی جائے تو سنگین نتائج کا سامنا بھی کرنا پڑ سکتا ہے۔بروقت تشخیص کے بعدعلاج شروع کردیاجائے تو جلد بہتری آنا شروع ہوجاتی ہے۔“
” اس کی باقاعدہ تشخیص کا کیا طریقہ کار ہے؟“ میرے سوال پر وہ کہنے لگیں:”خون کے ٹیسٹ کے ذریعے اس کی تشخیص ممکن ہے۔اگر ٹیسٹ سے اس کی تصدیق ہوجائے تو پھر دماغ اور حرام مغز کاسی ٹی سکین یاایم آرآئی بھی کروانا پڑ سکتا ہے تاکہ معلوم کیاجاسکے کہ کہیں اس کے اثرات ان دو مقامات تک تو نہیں پہنچ گئے۔“
انہوں نے بتایا کہ اس بخار کے باعث خون میں موجود پلیٹ لیٹس ( platelets) کی تعداد کم ہوجاتی ہے ۔پلیٹ لیٹس وہ ذرات ہیں جو خون کو جمنے میں مدد دیتے ہیں۔ جب ان کی تعداد کم ہوجائے تو خون بہنے کے

امکانات بڑھ جاتے ہیں۔اس بیماری کے شکار شخص کو بروفین یا اسپرین ہرگز نہیں دینی چاہیے‘ اس لئے کہ وہ خون پتلا کرتی ہیں اورپلیٹ لیٹس کی کمی کی وجہ سے خون بہنے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔مزیدبرآں پوری کوشش کی جائے کہ مریض کا درجہ حرارت 102سے زیادہ نہ بڑھے۔
”کیا اس مرض سے بچاﺅ ممکن ہے؟“میں نے امید بھری نظروں سے ان کی طرف دیکھا۔” اس سے بچاﺅ کی نہ تو ویکسین ہے اور نہ ہی کوئی مخصوص دوا۔ مریض کومحض معاون علاج فراہم کیا جاتاہے‘ اسے پانی یادیگر مشروبات زیادہ پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے اور اگر ضروری ہو تواسے ڈِرپ بھی لگادی جاتی ہے۔پلیٹ لیٹس کی تعداد اگر بہت زیادہ کم ہوجائے تو یہ بھی لگائے جاتے ہیں۔“
”پھر اس سے بچاﺅ؟“ میں نے تشویش بھرے انداز میں پوچھا۔    ”ڈینگی کا موثر توڑ یہی ہے کہ آپ مچھروں کوکنٹرول کریں۔ اس کے لئے طلوع آفتاب اور غروب آفتاب کے وقت گھروںکے دروازے اورکھڑکیاں بند کرلیں اور باہر نکلتے وقت پوری آستینوں والی قیمض پہنیں۔ کوائل‘مچھر مارسپرے یا لوشن وغیرہ استعمال کریں۔گملوں‘ برتنوں اور بالٹیوں وغیرہ میں اور گھر کے اردگرد پانی مت کھڑا ہونے دیں۔ لیمن گراس کا پودابھی مچھروںسے بچاتا ہے۔ ہم اگر اپنے اردگرد کے ماحول کو صاف رکھیں گے تو نہ صرف ڈینگی بلکہ مزید کئی بیماریوں سے بھی بچ سکیں گے۔ “ انہوں نے اپنی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
”ڈینگی کی صورت میں ایسی خوراک استعمال کریں جس میں غذائیت کے ساتھ ساتھ وٹامنز (مثلاً وٹامن بی‘کے اور سی)بھی شامل ہوں۔ اس مرض میں ہرے پتوں والی سبزیاں‘ مالٹے‘پپیتا‘ناریل کا پانی‘ تربوز، اور امرود بھی مفید ہیں۔ خوراک میں دلیہ یا نرم غذا کا استعمال بھی مفید ہے۔تلی ہوئی اور چٹ پٹی خوراک سے مکمل پرہیز کریں۔“
”ڈاکٹر صاحبہ! اس خونی مچھر کانام کیا ہے؟ “میں فساد کی اصل جڑ کا نام جاننا چاہتی تھی تاکہ اسے رد کیا جا سکے۔
”ایڈیس ایجپٹائی (Aedes Aegypti)“ ڈاکٹر سعدیہ لفظ ”خونی“ پر مسکرائی اوردولفظی جواب دیا ۔میں تھک گئی تھی لہٰذا میں نے اجازت چاہی اورآنکھیں موند لیں۔ دل ہی دل میںخُدا کا شکرادا کیا کہ بڑی تکلیف سے بچ گئی۔

کچھ عرصے سے مجھ پر یہ احساس غالب تھا کہ میں سارا دن ایک مشین کی طرح کام کرتی ہوں اور کسی کو میری پروا ہی نہیں ہے ۔ تاہم بیماری کے دوران مجھے احساس ہوا کہ میں غلط تھی۔ میں نے اس دوران اپنے پیاروں سے بہت سی محبت اور پیار وصول کیا۔اب تو لگتا ہے کہ میرے علاوہ انہیں کچھ نظر ہی نہیں آتا۔میں خاص طور پر اپنی زندگی کے ساتھی کا شکریہ ادا کرنا چاہتی ہوں۔
نوٹ: قارئین کی دعاﺅں سے اب میں بالکل ٹھیک ہوں۔ جن لوگوں نے فون پر یا براہ راست میری خیریت دریافت کی، میں ان کی بہت شکرگزار ہوں۔ اللہ تعالیٰ آپ کو ہمیشہ صحت مند اور خوش رکھے ۔