خود کو جانیں‘ جذبات پر قابوسیکھیں

248

جذباتی ذہانت پر شفا نیوز کے پرانے شماروں میں تفصیل سے گفتگو کی گئی تھی۔اس ماہ خود آگہی اور ضبط نفس بڑھانے کے طریقے بتائے جارہے ہیں۔ ان کی مدد سے آپ نہ صرف خود کو جان کر اپنے جذبات پر قابو پاسکیں گے بلکہ انہیں صحیح وقت اور صحیح جگہ پر اپنے مفاد میں استعمال بھی کرسکیں گے ۔

خود آگہی بڑھانے کی ٹپس
آپ کوئی کام کیوں کررہے ہیں
اپنے آپ کو سمجھنے کا ایک طریقہ یہ ہے کہ آپ اس بات پر غور کریں کہ آپ دن بھر میں کیاکچھ کرتے ہیں۔اس کے لئے آپ روزانہ کئے گئے کاموں اور ان کے مقاصد کی ایک فہرست بنائیں۔ اس کے لئے خود سے سوال کریں کہ آپ یہ کام کیوں کررہے ہیں اور کیا یہ کام آپ کے اپنے لئے فائدہ مندہے یا کسی اور کے لئے؟
یہ سرگرمی آپ کو اس بات کا ادراک دے گی کہ جو کچھ آپ کررہے ہیں‘ وہ آپ کے لئے کتنا ضروری ہے اورجو کام آپ کے لئے واقعتاً ضروری ہیں‘ کیا آپ انہیںوقت دے بھی رہے ہیں یا نہیں اور اگر دے رہے ہیں تو وہ کتنا ہے۔ ان معاملات کا تعلق جذبات کو سمجھنے سے بھی ہے لہٰذا یہ ادراک جذباتی ذہانت میں اضافے کا موجب بنے گا۔ مزیدبرآں یہ توجہ کے ارتکاز کی صلاحیت بڑھانے میں بھی مددگار ثابت ہوگا۔

اپنی روایات/اقدار کا جائزہ لیں
ہر انسان اپنے گھریلو ماحول‘ تعلیم ‘ زندگی کے تجربات اور سوجھ بوجھ کی روشنی میں کچھ اصول بناتااورپھرزندگی کے سفر میں انہیں ساتھ لے کر چلتا ہے۔ کچھ روایات اوراقدار وہ معاشرے سے بھی لیتا ہے۔بہت دفعہ ایسا ہوتا ہے کہ لوگ جن چیزوں‘ اصولوں اور اقدار کو اہم سمجھتے ہیں‘ عملاً اس کے الٹ کر رہے ہوتے ہیں۔ ایسے میں ان کے ذہن میں یہ خیال بھی جنم لیتا ہے کہ انہیں طے کرنے میں ان سے کوئی غلطی تو نہیں ہوئی۔
اس معاملے کو بہترطور پر جاننے کے لئے آپ ایک کاغذ لیں اور اس پر دو کالم بنا لیں ۔ اس کے ایک طرف اپنی قدریں لکھیں جبکہ دوسری طرف دن بھر میں کئے جانے والے کام تحریر کریں۔اس کے بعد جائزہ لیں کہ ان میں سے کتنے آپ کی اقدار سے ہم آہنگ ہیں۔ اس سرگرمی سے آپ ان میں تضاد یا ہم آہنگی کو پرکھ پائیں گے۔ ان میں ہم آہنگی کو بڑھا کر آپ اپنی جذباتی ذہانت کوبھی بڑھا سکتے ہیں۔

جذبات پر آپ کا ردعمل کیسا ہوتا ہے
سوچ کی قوت کے بعد جذبہ وہ طاقتور ہتھیار ہے جو انسانوں کے عمل اور ردعمل کو قابو کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے ۔اگر آپ اپنے جذبات اور ان کے ردعمل کو جاننا چاہتے ہیں تو اس کے لئے روزانہ شام کا ایک وقت مقرر کریں ۔اس سرگرمی کو چار درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے ۔پہلے مرحلے میں ایک کاغذ کو دو کالموں میں تقسیم کریں۔اس کے ایک طرف اپنے جذبات لکھیں اور دوسری جانب وہ ردعمل تحریر کریں جو آپ اس کیفیت میں ظاہر کرتے ہیں۔
دوسرے مرحلے میں اپنے جذبات مثلاً خوشی،غم اورغصے وغیرہ کومختلف استعاروں سے منسوب کردیں اور ان استعاروں کی مدد سے اپنے جذبات اور ان کے ردعمل کو بیان کریں۔
تیسرے مرحلے میں آپ یہ تجزیہ کریں کہ دن بھر میں آپ نے کتنی مثبت اور کتنی منفی سرگرمیاں جذبات میں بہہ کر سرانجام دیں اور وہ آپ اوردیگر افراد کے لئے کتنی مفید یا نقصان دہ ثابت ہوئیں۔
چوتھے مرحلے میں یہ جاننا ضروری ہے کہ کس صورت حال میں آپ طیش میں آکر بنی بنائی بات کو بگاڑ دیتے ہیں یا پرسکون رہ کر بگڑی ہوئی صورت حال کو سدھار لیتے ہیں۔ مندرجہ بالا سرگرمی کی مدد سے آپ اپنے جذبات پرقابو حاصل کر کے اس قابل ہوجائیں گے کہ کسی بھی صورت حال میں منفی سوچ کو مثبت سوچ میں بدل سکیں ۔

جذبات پر قابو سیکھیں
سانس لینا اور خارج کرنا
جب آپ ذہنی تناؤ کا شکار ہوں تو سکون سے بیٹھیں اور گہری سانس ایسے لیں کہ آپ اسے پوری طرح سے محسوس کررہے ہوں۔ ایسا کرنے سے آپ کو خود پر غور کرنے کا موقع ملے گا اور غصے کی حالت میں آپ کو سوچنے کا موقع مل جائے گا۔اس طرح آپ ایسے حالات میں خود کو پرسکون رکھنے کا ہنر بھی سیکھ پائیں گے۔
اس کا ایک اور طریقہ یہ ہے کہ ایسی صورت حال میں آپ 10تک گنتی گنیں ۔اس کا درست طریقہ یہ ہے کہ آپ آہستہ سے سانس لیں اور سانس خارج کرنے سے پہلے ’’ایک‘‘ بولیں اور پھر 10تک گنتی گنیں۔ ایک اورنسخہ یہ ہے کہ آپ غصے کی حالت میں کسی سے بات کرنے سے پہلے ایک ایک گھونٹ کر کے پانی پی لیں تاکہ آپ کی آواز بھاری نہ ہو اور دماغ اور جسم بھی ٹھنڈا ہوجائے۔
منفی معاملات پر اپنا زاویہ نظر تبدیل کریں
ہر شخص مختلف انداز میں چیزوں کو محسوس کرتا ہے۔ ضروری نہیں کہ جو بات یا چیز ایک شخص کو صحیح لگے ‘وہ دوسرے کو بھی ایسی ہی لگے یا جورائے کسی اور کی ہو‘ وہ آپ کو بھی درست لگے۔ اس مقصد کے لئے آپ ایک کاغذپر دو کالم بنا لیں جن میں یہ لکھیں کہ کس منفی صورت حال میں آپ کا رویہ یا سوچ مثبت رہی ہے۔مثلاًاگر سامنے والاضدی ہو تو کیا یہ ہنر نہیں کہ آپ اس سے اپنے کام غصہ کئے بغیرنکال لیں۔
دوسرا طریقہ یہ ہے کہ منفی معاملات پر اپنا زاویہ نظر تبدیل کریں۔ اگر آپ کے ساتھ کچھ برا ہوجاتا ہے توخود سے سوال کیجئے کہ اس بری صورت حال میں سے اچھا کیا برآمدہوا ہے ۔مثلاً اگر آپ کی بس نکل گئی ہے توکیا اس میں کوئی ایسا پہلو بھی ہے جو آپ کے لئے فائدہ مند ہے۔اس سرگرمی سے آپ کے دماغ کو بدترین کیفیات میں بہترین حل یا تراکیب سوچنے کی تربیت ملے گی۔

اپنے لئے وقت نکالیں
اپنی ذمہ داریوں اور سرگرمیوں میں ہم اتنے مصروف ہو جاتے ہیں کہ اپنے لئے وقت ہی نہیں نکال پاتے ۔ خود کو سمجھنے اور اپنے مسائل کے حل کے لئے یہ نہایت ضروری ہے۔آپ روزانہ اپنے لئے صرف 15منٹ نکال لیں اور اس وقت اپنے دماغ کوتمام تر الجھنوں سے آزاد کر کے صرف اپنی ذات کے ساتھ وقت گزاریں۔ اس کے لئے بہتر یہ ہے کہ سونے سے پہلے چہل قدمی کے لئے نکل جائیں ۔ آپ اس سرگرمی کے مثبت اثرات اپنے فیصلوں اور مسائل کے جلد حل نکالنے کی رفتار میں دیکھ سکیں گے۔

سونے کا وقت مقرر کریں
اگرچہ ہمارے پاس نیند آنے کا انتظار کرنے کے وقت کو ٹالنے کے لئے موبائل فون، لیپ ٹاپ اور ٹیبلٹ وغیرہ موجود ہوتے ہیںلیکن ہمیں بستر پر جانے سے دو گھنٹے پہلے انہیں بند کردینا چاہئے کیونکہ یہ آپ کو جگائے رکھنے میں مرکزی کردار ادا کرتے ہیں۔ ذہنی اور جسمانی طور پر بہتر کارکردگی کے لئے آٹھ گھنٹے کی نیند پوری کرنا نہایت ضروری ہے۔ نیند کو بہتر کرنے کے چند اصول مندرجہ ذیل ہیں:
٭ باقاعدہ ورزش کریں۔
٭ رات کے وقت چائے، کافی یا کسی بھی نشہ آور چیز کے استعمال سے پرہیز کریں۔
٭ بستر کومطالعے‘ موبائل فون پرگیمز کھیلنے کی بجائے صرف سونے کے لئے استعمال کریں۔
٭ صبح اٹھنے کا وقت مقرر کرلیں اور رات کو جتنا بھی جلد یا دیر سے سوئیں‘ صبح اٹھنے میں اس وقت کی پابندی کریں۔
٭ اگر آپ سونے کے لئے لیٹے ہیں اور 20 سے30 منٹ تک نیند نہیں آئی تو بستر سے اٹھ کر دوسرے کمرے میں چلے جائیں اورمطالعے یا کسی ایسے کام میں مصروف ہوجائیں جو آپ کو اچھا لگتا ہے۔
٭ سونے سے پہلے ڈائری لکھنے کی عادت ڈالیں جس میں پورے دن کے کاموں کی تفصیل ،نیند نہ آنے کی ممکنہ وجوہات اور آرام کرنے کا دورانیہ تفصیل سے قلمبند کریں۔ ایسا کرنے سے آپ نہ صرف بے خوابی کے اسباب سے آگاہ رہیں گے بلکہ بوقت ضرورت معالج کو بھی اس کی وجہ جاننے میں آسانی ہوگی۔
٭کچھ لوگ پرسکون نیند کے لئے خواب آور ادویات استعمال کرتے ہیں۔ انہیں ڈاکٹر کے مشورے کے بغیرہرگزاستعمال نہ کیا جائے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of