ارفع کی کہانی، ماں‌کی زبانی

39

ثمینہ امجد، والدہ ارفع کریم
دنیا کی سب سے کم عمرسافٹ وئیر انجینئر ارفع کریم رندھاوا کی موت نے پاکستان بھر کو سوگوار کر دیا۔ وہ صرف ذہین و فطین ہی نہیں‘ اپنے نام کی طرح انتہائی اعلیٰ اوصاف اور کردار کی مالک تھی ۔ناجدہ حمید کے ساتھ گفتگو میں ارفع کی والدہ ثمینہ امجداپنی ہونہار بچی کی زندگی کے کچھ اچھوتے پہلوئوں کوبیان کر رہی ہیں

میری بیٹی ارفع کریم دو فروری 1995ء کو فیصل آباد میں پیدا ہوئی ۔یہ بچی شروع سے ہی غیر معمولی تھی۔اس کی بڑی بڑی آنکھوں میں خاص طرح کی چمک تھی اوراس کی آنکھیں سوال کرتی آنکھیں تھیں۔ ارفع کے معانی ’’سب سے اعلیٰ‘‘ کے ہیں اور یہ نام اس کے دادا نے رکھا تھا۔وہ واقعی سب سے اعلیٰ ثابت ہوئی۔
ارفع نے بولنا اور چلنا بھی عام بچوں کی نسبت جلدی شروع کیا۔ وہ سب سے پیار بھی بہت کرتی تھی لیکن غصیلی بھی بہت تھی۔اسے ہر چیزمیں تجسس ہوتاتھا۔ ’’یہ کیوں ہے‘‘ اور’’یہ کیسے ہے؟‘‘ جیسے جملے ہر وقت اس کی زبان پر ہوتے اور لفظ ’’کیوں؟‘‘ تو گویا اس کی ذات کے اندر رچا بسا ہوا تھا ۔

اس کی دادی اکثر مجھ سے کہا کرتیں کہ ثمینہ ! اس کی آنکھوں کی چمک سے معلوم ہوتا ہے کہ اس کے اندر کچھ خاص ہے۔ تمہارے کتنے ہی بیٹے پیدا کیوں نہ ہو جائیں‘ ارفع ہمیشہ ان پر بھاری رہے گی۔ ارفع اڑھائی سال کی تھی تو اس کی دادی وفات پاگئیں لیکن وہ جو کہہ گئیں‘ وہ حقیقت بن کر ہمارے سامنے کھڑاہے۔ارفع کے دوچھوٹے بھائی بھی اسی کی طرح لائق اور ذہین ہیں لیکن خوبیاں کا جو مجموعہ ارفع میں تھا‘ وہ اور کسی میں بھی نہیں ۔
ارفع ہمیشہ سے ہی شرارتی اور پھرتیلی تھی۔مجھے آج بھی یاد ہے کہ اس کی پہلی سالگرہ میں ابھی تین چار دن باقی تھے۔میںکچن میں اس کے لیے سوجی کی کھیر بنا رہی تھی جو اسے بہت پسند تھی۔وہ واکر میں میرے ساتھ کچن میں تھی۔ اسے سخت بھوک لگی ہوئی تھی۔ میں نے اسے کہا کہ بیٹا! بس میں ابھی دیتی ہوں ۔ اس نے شرارت سے میری قمیض پیچھے سے کھینچی اور دروازے کی طرف بھاگ پڑی ۔ہمارا کچن اونچا تھااوراس کے دروازے تک تین یاچار سیڑھیاں تھیں ۔میں ابھی اسے روکنے ہی لگی تھی کہ وہ تیزی سے دروازے تک پہنچ کر سیڑھیوں سے نیچے گر گئی اور اسے ناک اور آنکھ پر چوٹ لگ گئی۔
اسی طرح ارفع کی تیسری سالگیرہ کا دن تھا۔ اس کے کپڑوں کا جوڑا ابھی مکمل طور پر تیار نہیں ہوا تھا۔ اس پر کچھ موتی وغیرہ لگانا باقی تھے۔ وہ بہت غصے میں تھی کہ میری سہیلیوں نے آنا ہے اور ابھی تک کپڑے تیارنہیں ہوئے ۔میں نے موتی لگانے والی عورت کو گھر پرہی بلا لیا۔ جب تک اس نے موتی لگا نہیں لیے‘ ارفع اس کے پاس غصے میں ٹہلتی رہی۔ وہ غصے میں بہت بھلی لگ رہی تھی۔ اس نے اپنی سالگرہ کی ساری تیار یاںخود کی تھیں کہ ہم یہاں بیٹھیں گے اور میں اس جگہ کیک کاٹوں گی۔اس کی کسی بھی حرکت سے نہیں لگتا تھا کہ وہ چھوٹی ہے۔بلکہ اس کی سمجھداری کے پیشِ نظر یہ کہنا زیادہ مناسب ہو گا کہ وہ چھوٹی ہوکر بھی چھوٹی نہ تھی۔
جب اس کی پڑھائی شروع ہوئی تو اسے سب کچھ آسان لگا کرتا تھا۔ پڑھنا اور گریڈ لینا اس کے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا۔اس لیے اسے اگلی کلاسوں میں جلد ترقی دے دی جاتی ۔ وہ پڑھائی میںاپنی عمر کے لحاظ سے دو سال آگے تھی۔ اس نے قرآن پاک بھی بہت چھوٹی عمر میں ختم کیا۔اس کی پرورش میںہماراتعلق صرف اچھے برے کی تمیز سکھانے وغیرہ تک محدودہے۔ باقی خوبیاں اللہ کی عطا کردہ تھیں‘ اس میں کسی بندے کا کوئی کمال نہیں۔ایک ہی شخصیت میں اتنی خوبیوں کا جمع ہوجانا بہت کم لوگوں میں ہوتا ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے جتنی خوبیوں سے نوازا تھا‘ انہیں بیان کرنے کیلئے میرے پاس الفاظ کم پڑجاتے ہیں۔
اس کی ذات کے بہت سے پہلو مجھ سے پوشیدہ تھے اور وہ اب لوگ آ کر بتاتے ہیں ۔ ارفع کی لے ہمیشہ سے ہی اچھی تھی۔ نعت ہو یا گانا ،تقریری مقابلہ ہویا کمپیئرنگ اور شاعری‘اس کی آواز بہت خوبصورت تھی ۔ اسے موسیقی کا جنون تھا۔ وہ اردو، پنجابی اور انگریزی، ہر طرح کے گانے گا لیتی تھی۔ وہ میلادالنبیؐ کے موقع پر نعتیں بھی پڑھا کرتی تھی۔وہ ہر مقابلے میںپہلی پوزیشن لے کر آتی ۔ وہ سکول میں مختلف سرگرمیوں کیلئے قائم مختلف کمیٹیوں کی صدر بھی تھی اور سب کو سکھایا کرتی تھی۔ وہ ایک مکمل زندگی کی مثال تھی۔اس نے پورے مہینے کا ٹائم ٹیبل بنایا ہوتا تھا جس کی وجہ سے وہ بیک وقت بہت سے کام آسانی سے کر لیا کرتی تھی۔ اسے ہم نے کبھی پریشان نہیں دیکھا۔
ارفع بہت زندہ دل اور بہترین اخلاق کی مالک تھی ۔ اس کا اٹھنا بیٹھنا ہر طرح کے لوگوں میں تھا۔ وہ جس کے ساتھ بیٹھتی‘ ویسی ہی ہو جاتی ۔ہر کسی کے ساتھ ہنسنا بولنا اس کاشیوہ تھا ۔ وہ ملازموں کو بھی اتناہی وقت اور عزت دیتی تھی جتنا کسی اہم شخصیت کو دیا جا تا ہے۔وہ ان کے لیے تحفے لے کر آتی تھی اور انہیں اپنی چیزیں بھی دے دیا کرتی تھی۔میں جب کبھی اسے لینے سکول جاتی توگارڈ، گاڑی دیکھ کر ہی پہچان لیتا تھا کہ یہ ارفع کی گاڑی ہے۔ میں نے ایک دن ارفع سے پوچھا کہ اسے کیسے پتہ چل جاتا ہے کہ یہ تمہاری گاڑی ہے۔ اس نے جواب دیا کہ مما! میں روزانہ گیٹ سے داخل ہوتے ہی سب کو سلام کرتی ہوں۔ اس لیے سب مجھے جانتے ہیں ۔ ہر کوئی اس سے ایسے ملتا گویا وہ اس کی بیٹی ہے۔
اتنا سب کچھ ہونے کے باوجود ارفع بہت سادہ طبیعت کی مالک تھی۔ اسے پہننے اوڑھنے میں دلچسپی نہیں تھی۔ وہ بعض اوقات جلدی میں سکول یونیفارم استری کئے بغیر ہی پہن لیا کرتی تھی۔ میں اسے کہتی کہ ٹھہرو بیٹا‘ میں استری کر دیتی ہوں لیکن وہ یہ کہتے ہوئے بھاگ جاتی کہ مما کچھ نہیں ہوتا۔ سب کو پتا ہے کہ میں کون ہوں۔ اس نے کبھی اپنے اوپر فخر نہیں کیا۔وہ خود کبھی اپنے متعلق لوگوں کو نہیں بتاتی تھی۔ جب کوئی اس سے خود پوچھتا کہ آپ وہ والی ارفع ہیں جو دنیا کی سب سے چھوٹی آٹی پروفیشنل ہیں تو وہ بتا تی کہ ہاں۔
بیمار ہونے سے ایک دن قبل جب ارفع صبح اٹھ کر آئی توبہت پیاری لگ رہی تھی۔ اس کے چہرے پر نور تھا اور وہ فرشتوں جیسی معصوم لگ رہی تھی۔ میں اسے ٹکٹکی باندھے دیکھے جا رہی تھی۔ جب اس نے مجھے اس طرح گھورتے دیکھا تو بولی:’’مما !کیا دیکھ رہی ہیں ۔‘‘ میں نے جواب دیا کہ بیٹا آپ بہت پیاری لگ رہی ہو۔یہ سن کر وہ بولی کہ رہنے دیں مما ! میں نے تو بال بھی کنگھی نہیں کیے اور نہ ہی کپڑے بدلے ہیں۔ میرا حلیہ تو اتنا’’ رف‘‘ ہے۔ آپ کو میں پیاری لگ رہی ہوں…۔ میں اسے شاید بتا نہیں سکتی تھی کہ یہ رف حلیہ ا س کے چہرے کے نور اور معصومیت پر بال برابر بھی فرقْ نہیں ڈال رہا۔ شایداسے میری ہی نظر لگ گئی۔ثمینہ امجد ( ارفع کی والدہ) یہ کہتے ہوئے افسردہو گئیں۔
مجھے اس بات کابہت افسوس ہوتاہے کہ ہمارے ملک میں ٹیلنٹ کی قدر تب کی جاتی ہے جب وہ نہیں رہتا۔میں اپنے حکمرانوں کو یہ پیغام دینا چاہتی ہوں کہ وہ ٹیلنٹ کو پہچانیں اور اس کی بروقت قدر کریں۔ ٹیلنٹ کو پہچاننے اور اس کی راہیں ہموار کر کے اسے آگے لے جانے کی ضرورت ہے۔اگر اسے تراش خراش کر اور چمکا کربروئے کار لایا گیا تووہ اس ملک کو اتنا آگے لے جائے گا کہ آنے والی نسلیں اس پر فخر کریں گی ۔ ایسا تبھی ممکن ہے جب حکومتی اور سماجی‘ دونوں سطح پر اقدامات کیے جائیں۔
عام لوگوںکے لیے میرا پیغام ہے کہ یہ جو ننھے ننھے سے پودے اللہ نے ہمیں بخشے ہیں‘ ان کی حفاظت کرنا بہت بڑی ذمہ داری ہے۔ ہم اپنی زندگی جی چکے ہیں‘ اس لیے دنیا کے کاموں میں پڑکر اس اہم ذمہ داری سے غافل نہ ہوں ۔ انہیں وقت دیںاوربیٹے اور بیٹی میں فرق نہ کریں۔ ہماری بیٹیوں میں زیادہ صلاحیتیں ہیں۔ماں ایک قوم کی معمار ہوتی ہے ۔اگر لڑکی اچھی زندگی گزارے گی تو آنے والی نسلوں کی بہتر پرورش کر سکے گی۔ہم اچھی ماں دیں گے تو اچھی نسل پروان چڑے گی۔
ارفع کے لیے میرا افسوس اور دعائیں میری سوچ سے باہر ہیں۔وہ بچی تھی ہی نہیں ۔اس نے اتنی سی عمر میں جو بھی کام کیے‘ ان میں سے کوئی بھی کام بچوںوالا نہیں ہے۔وہ ہمیں ایک سوچ دے گئی ہے کہ اور بھی ’’ارفعائیں‘‘ ڈھونڈیں اور انہیں وہ مقام دیں جن کی وہ مستحق ہیں۔ انشاء اللہ آپ بہت جلد دیکھیں گے کہ ہم اس پر کام شروع کرنے والے ہیں۔…اور یہ کام ہم وقت پر کریں گے ۔ایک دفعہ تو دیر ہو گئی ہے لیکن اب ایسا نہیں ہو گا۔ہماری زندگی اب اسی مقصد کے گرد گھومے گی۔

5 1 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x