مچھربتی کی ایجاد

2

مچھربتی کی ایجاد

مچھربتی کو19 ویں صدی کے اختتام پر ای کارو یویاما نے جاپان میں ایجاد کیا۔ اس وقت مچھربتی کو بنانے کے لئے گل داؤدی نما پھول کا استعمال کیا گیا۔ انہوں نے پہلے اس پھول کو سکھایااور پھراس کے چورے کو سٹارچ میں شامل کیا۔ اس کے بعد اسے ایک سیدھی چھڑی کی شکل دی۔ مگر چونکہ وہ بہت جلدی جل کر ختم ہو جاتی تھی لہٰذا اسے سپائرل کی شکل دی گئی جو کامیاب ہوئی۔آج کے دور میں ان کو بنانے کے لئے کیمیائی مادوں کا استعمال کیا جاتا ہے ۔

بعض افراد کا کہنا ہے کہ ان سے نکلنے والا دھواں صحت کے لئے نقصان دہ ہے ۔ جب یہ سوال شفا انٹرنیشنل ہسپتال سے تعلق رکھنے والے  میڈیکل سپیشلسٹ ڈاکٹر مظہر مفتی سے پوچھا گیا تو انہوں نے کہا کہ

مچھربھگانے کے لئے لوگ دھوئیں کا استعمال بھی کرتے ہیں۔ مچھربتی کا استعمال اس کے مقابلے میں توکہیں بہتر ہے۔ ہر چیز اگراحتیاط اور اس سے متعلق ہدایات کو مد نظر رکھتے ہوئے استعمال کی جائے تو کوئی نقصان نہیں ہوتا۔ مثال کے طور پرمچھربتی یا سپرے اگرکھلی جگہ استعمال کی جائے تو اس میں کوئی حرج نہیں۔ اگر یہی کام حد سے زیادہ یا مکمل بند کمرے میں کیا جائے تو یہ گلے میں جلن، سانس اور الرجی کے مسائل پیدا کر سکتا ہے۔

mosquito coil, invention, harmful for breathing, allergy

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x