انسولین کتنی اور کیسے لگائیں

38

ذیابیطس اُن 10بڑی بیماریوں میں سے ایک ہے جو انسانوں کے لئے سب سے زیادہ جان لیوا ثابت ہوتی ہیں۔مزیدبرآں یہ نابیناپن ‘ دل کا دورہ پڑنے اور فالج کا ایک بڑا سبب بھی ہے۔ابتداء میں اس کولا علاج مرض سمجھا جاتا تھا لیکن میڈیسن کے میدان میں تحقیق اور ترقی کے بدولت اس کا علاج ممکن ہو گیا ہے۔اگرچہ ذیابیطس عمر بھر ساتھ چلتی ہے لیکن پرہیز‘ادویات یا انسولین اور ورزش کو معمول بنایا جائے تو اس کے ساتھ نارمل زندگی بسر کی جا سکتی ہے۔
انسولین کیا ہے،کیوں ضروری ہے

ہم جو غذا کھاتے ہیں‘ وہ جسم میں جا کرمختلف کیمیائی اور طبعی عملوں سے گزرتی ہے جس کے نتیجے میں وہ چھوٹے چھوٹے اجزاء اور گلوکوز(شوگر)میں تبدیل ہوکر جسم کا حصہ بنتی ہے۔ٹوٹ پھوٹ کے اس عمل کے دوران توانائی پیدا ہوتی ہے جسے ہماراجسم زندگی کو برقرار رکھنے‘ اعضاء کی نشوونمااور مختلف کاموں کی انجام دہی کے علاوہ اندرونی نظاموں مثلاً سانس لینے،خوراک ہضم کرنے اور خون کی گردش وغیرہ کے لیے استعمال کرتا ہے۔
خون کی گردش کے ساتھ شوگر جسم کے ہر حصہ تک پہنچ جاتی ہے جہاں اسے خون کو چھوڑ کر خلیوں میں داخل ہونا ہوتا ہے۔شوگر یہ کام اپنے طورپر نہیں کر سکتی ہے اس لیے اس کو انسولین کی ضرورت پڑتی ہے۔عام لفظوں میں ہم کہہ سکتے ہیںکہ انسولین کا کام گلوکوزکے استعمال میںمدد دیناہے تاکہ جسم اس سے توانائی حاصل کر سکے۔ انسولین لبلبے pancreas))کا پیدا کردہ ایک ہارمون ہے جوہمارے خون میں شوگر کی سطح کو قابو میںرکھتا اور اسے استعمال کرتا ہے۔ایک اہم بات یہ بھی ہے کہ کھانے کی قسم اور مقدار کے مطابق ہی لبلبے سے انسولین خارج ہو گی۔

ذیابیطس کی دو اقسام ٹائپ1 اور ٹائپ 2ہیں۔ ٹائپ1 کی صورت میں لبلبے کے بیِٹا(beta)خلیوں کے تباہ ہونے کے باعث انسولین نہیں بن پاتی جس کی وجہ سے مریض کو انسولین لینا پڑتی ہے۔اگر مریض ٹائپ ٹو ذیابیطس میں مبتلاہے توجسم انسولین تو بناتا ہے مگر اس کا ٹھیک طرح سے استعمال نہیں کرپاتا۔یوں گلوکوز پوری طرح جسم کے مختلف حصوں تک نہیں پہنچ پاتی جس کی وجہ سے فرد کو توانائی کم ملتی ہے۔اس صورت حال کی بنیادی وجہ فرد کا بڑھا ہوا وزن ہوتا ہے۔اگر وہ فرد مناسب خوراک رکھے اور وزن پر قابو پائے تو یہ مشکل حل ہوجاتی ہے اور جسم میں انسولین کے خلاف مزاحمت ختم ہوجاتی ہے۔
بعض لوگوں کا خیال ہے کہ زیادہ میٹھا کھانے سے شوگر ہوجاتی ہے حالانکہ میٹھے کا اس مرض سے براہ راست تعلق نہیںہوتا۔ اس میں چونکہ کیلوریز زیادہ ہوتی ہیں لہٰذا اس سے موٹاپا ہونے کا امکان ہوتا ہے جو شوگرکی ٹائپ ٹوہونے کی ایک بڑی وجہ ہے۔ ذیابیطس کے مریض اگردیگر احتیاطیںکررہے ہیںتو وہ اپنی غذا میںمیٹھے کوتھوڑی مقدارمیں شامل کر سکتے ہیں۔ مثال کے طور پراس کے ساتھ ویجی ٹیبل آئل کم مقدار میں استعمال کریں۔کیک اور آئس کریم میں میٹھا بہت زیادہ ہوتا ہے‘ اس لئے ان کی جگہ پھلوں کو ترجیح دیں اور عام چینی کی جگہ مصنوعی مٹھاس(artificial sweetener)استعمال کریں۔ مصنوعی مٹھاس چینی کی نسبت زیادہ میٹھی ہوتی ہے جبکہ اس میں کیلوریز کی تعداد بہت کم ہوتی ہے لہٰذا یہ ذیابیطس کے مریضوں کے لئے مفید ہے۔

ڈائٹ فوڈ احتیاط سے استعمال کریں کیونکہ کسی بھی کھانے والی چیز پرلفظ ’’ ڈائٹ ‘‘لکھا ہونے کا مطلب یہ ہرگز نہیں کہ وہ ذیابیطس کے مریضوں کے لیے محفوظ ہے۔ ذیابیطس کے شکار افراد کو چاہئے کہ ڈبوں میں پیک غذا کا استعمال کم سے کم کریں۔
انسولین پر انحصار کرنے والے افراد کوخود انسولین لگانے کے بارے میں علم ہونا چاہیے تاکہ وہ ضرورت پڑنے پر خوداسے لگا سکیں۔ یہ اُتنی مقدار میں لگائی جائے گی جس سے آپ کی شوگر نارمل ہو سکے۔ اگر یہ زیادہ لگائی گئی تو اس سے شوگر کم ہونے کا خدشہ ہوتاہے اور کم لگائے جانے کی صورت میں شوگر بڑھ جانے کاامکان ہوتاہے۔
انسولین کہاں اور کیسے لگائیں
اس کو عام طور پرکندھے سے لے کرکہنی تک یا پیٹ کی ناف سے لے کرگھٹنے تک کہیں بھی لگایاجاسکتا ہے۔بہتریہی ہے کہ جگہ بدل بدل کر لگایا جائے کیونکہ ایک ہی جگہ پر لگانے سے جلد سخت یا اس میں تکلیف ہو سکتی ہے اور سوئی اندر نہیں جاتی۔

انسولین کب تجویز کی جاتی ہے
ٹائپ ون ذیابیطس میں مریض پہلے دن سے انسولین پر ہوتا ہے جبکہ ٹائپ ٹو ذیابیطس میںمریض اگر دو یا دو سے زیادہ گولیاں لے رہا ہواور شوگر قابو میں نہ ہو تو انسولین تجویز کی جاتی ہے۔اس کے علاوہ مریض کوہائی شوگرکی علامتیں ہوں اور اس کا وزن بھی گر گیا ہو تو اس کے لیے انسولین بہترین حل ہے۔

انسولین کی اقسام
اس کی دو اقسام ہیں ۔ایک قسم وہ ہے جو کھانے کے بعد لگتی ہے جبکہ دوسری خالی پیٹ لگائی جاتی ہے۔ اگرانسولین لگانے کے بعد مناسب مقدار میں کھانا نہ کھایا جائے تو شوگر بہت کم ہوجاتی ہے لہٰذا انسولین اتنی مقدار میں لگائی جائے جس مقدار میں کھانا کھایاجائے گا۔اس کی موزوں مقدار کا تعین معالج کی مدد سے کیا جاتا ہے۔ خالی پیٹ والی انسولین اگر زیادہ لگا لی جائے تو رات کو سوتے ہوئے شوگرکم ہونے کا خطرہ ہوتا ہے۔
انسولین مختلف طرح کی ہوتی ہے اورگھریلو خواتین‘ ورکنگ ویمن ‘ بچوں اور بڑوں کے لیے الگ الگ انسولین تجویز کی جاتی ہے۔
تاہم دیکھنے میں آیا ہے کہ اگر کوئی ایک مریض انسولین کا استعمال کرتا ہے تودوسرا بھی وہی استعمال کرنا شروع کر دیتا ہے۔یہ بات ڈاکٹر ہی بتا سکتا ہے کہ کون سی انسولین کس مریض کے لیے موثر ہے لہٰذا ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر اس کی قسم تبدیل مت کریں۔اس کا انتخاب مریض کے کھانے ، عمر،کام،ماحول کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اسے لگانے کے بعد اگر کسی قسم کی الرجی محسوس ہو تو معالج سے فوری رابطہ کریں۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of