کھانا پکانے میں اہل خانہ کو بھی شامل کیجئے

309

 

کہا جاتا ہے کہ مرد حضرات کے دل تک پہنچنے کا راستہ پیٹ یعنی معدے سے ہوکرگزرتا ہے لہٰذا دنیا بھر کی خواتین ان کے لئے (اور دیگر اہل خانہ کے لئے بھی )مزیدار کھانے بناتی ہیں۔اگر وہ یہ سارا کام اکیلے ہی کرتی رہیں تو بری طرح تھک جاتی ہیں اور بعض اوقات چڑچڑی بھی ہو جاتی ہیں ۔مہمانوں کی آمد پر بعض خواتین کا جو موڈ آف ہو جاتا ہے‘ اس کا ایک بڑاسبب یہ ہوتاہے کہ انہیں سارا کام خو دکرنا پڑتا ہے اور اس میں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہیں ہوتا۔ ایسے میں اگر اس کام میں مرد حضرات اور بچوں کو بھی شامل کرلیا جائے تو نہ صرف کام میں آسانی ہو گی بلکہ ان کا آپس میں پیاربھی بڑھے گا۔اس کے دیگر فوائد کیا ہیں اور باورچی خانے کے امور میں اہل خانہ کو کیسے شامل کیا جا سکتا ہے‘ اس سلسلے میں چند تجاویز مندرجہ ذیل ہیں:

مشترکہ سرگرمی کے فوائد
خاتون خانہ کی محنت کو سراہنا
اگر مرد حضرات اور بچے کچن میں آئیں گے تو انہیں اپنے گھر والوں سے بات چیت کرنے‘ان کی محنت کو دیکھنے اورسراہنے کا موقع ملے گا۔جب سب مل کر کچن میں کام کریں گے تو کام جلدی اور سب کی مرضی کے مطابق ہوگا۔اس سے بچوں کو نئی نئی چیزیں سیکھنے کو ملتی ہیں۔ دیکھا گیا ہے کہ یہ سرگرمی میاں بیوی کے تعلق پربھی اچھا اثر ڈالتی ہے۔

کھانے پر تنقید سے نجات
گھر کے دیگر افراد اکثراوقات اس بات سے لاعلم رہتے ہیں کہ خواتین خانہ کتنی محنت سے کھانا تیار کرکے ان کے سامنے پیش کرتی ہیں۔جب وہ خود اس تجربے سے گزریں گے تو کھانے میں مین میخ بھی نہیں نکالیں گے۔

وقت کا بھرپور استعمال
اکثر مائیں یہ سوچ کر اپنے بچوں کو باورچی خانے کے کاموں میں شامل نہیں کرتیں کہ ان کا وقت ضائع نہ ہو۔وہ ان کا جو وقت بچاتی ہیں، وہ اسے سوشل میڈیا پریا کسی اور شغل میں ضائع کردیتے ہیں۔اگر ان کے معمول میں کوکنگ کو بھی شامل کیا جائے تو اس سے فرصت کے بعد وہ صرف اپنے اہم کاموں کو ہی سرانجام دیں گے۔ باورچی خانے میں بچوں کی مدد ملنے کی وجہ سے مائیں مناسب آرام کرسکتی ہےں یااپنے وقت کو کہیں اور استعمال کر سکتی ہیں ۔

صحت بخش کھانے کی عادت
کئی روایتی اور صحت بخش کھانے ایسے ہیں جو ہم وقت کی کمی کے باعث تیار نہیں کر پاتے۔ اگر باورچی خانے میں اہل خانہ کی معاونت مل جائے تو ان پر بھی طبع آزمائی کی جاسکتی ہے۔ اس کا دوسرا فائدہ یہ ہے کہ کھانے کی تیاری کے دوران گھر والوں کو چیزوں کی غذائیت کے متعلق معلومات بھی فراہم کی جاسکتی ہیں۔اس کے بعد امکان ہے کہ وہ اپنے ناپسندیدہ کھانوں کو بخوشی کھانے لگیں ۔ اس طرح ان میں صحت بخش کھانے کھانے کی عادت پختہ ہوتی چلی جائے گی۔

گھر والوں کی شمولیت‘ مگر کیسے
کھانا پکانے کے معاملے میں پوری فیملی کو شامل کرنے کے فوائد کو دیکھتے ہوئے جی چاہتا ہے کہ اس خیال کو فوراً عملی جامہ پہنا لیا جائے لیکن سوال یہ ہے کہ انہیں اس پر کیسے آمادہ کیا جائے۔ درج ذیل تجاویز اس سلسلے میں معاون ثات ہو سکتی ہیں :

خودانحصاری کا اصول
گھر میں یہ اصول طے کردیں کہ کھانے کے کاموں میں ہرکوئی حصہ لے گا اور چھوٹے موٹے کام مثلاً پانی پینا یا اپنا ناشتہ ٹیبل تک لے کر آنا وغیرہ خود انجام دے گا۔ اس اصول پر سختی سے عمل کرائیں۔ بچے جب نوڈلز وغیرہ بنانے لگیں گے توآہستہ آہستہ باورچی خانے کے دیگر کاموں میں بھی ان کی دلچسپی بڑھے گی۔

اچھے موڈ کا فائدہ اٹھائیں
چھٹی کے دن اہل خانہ کا موڈ عموماًاچھا ہوتا ہے اور وہ کسی سپیشل کھانے کے موڈ میں ہوتے ہیں۔اس روز ان کی مصروفیات دیگر دنوں کی نسبت کم اور مختلف ہوتی ہیں۔لہٰذا اس دن ان کی پسندیدہ ڈش کی تیاری میں ان کی مدد لی جاسکتی ہے۔

کوکنگ مقابلے
کھانوں میں اہل خانہ کی دلچسپی بڑھانے کے لئے چھوٹی موٹی ڈِش مثلاً سلاد یا رائتہ تیار کرنے کا مقابلہ بھی کرایا جاسکتا ہے۔یوں وہ چھوٹے لیول سے کوکنگ میںدلچسپی لیناشروع کریں گے۔

پکنک پرپکانے کی سرگرمی
گھر والوں کو کچن کے کاموں پر آمادہ کرنے کا ایک اور اچھا موقع پکنک ہے، اس لئے کہ اس موقع پر سبھی لوگ کافی خوش اور کام کے لئے پرجوش ہوتے ہیں ۔ایسے میں اگر انہیں کوئی پکانے کا کام سونپا جائے تو وہ ہنسی خوشی کرنے لگتے ہیں ۔

دلچسپی کی چیزیں کچن میں رکھنا
مردوں اور بچوں کے کچن کا رخ نہ کرنے کی ایک بڑی وجہ یہ ہے کہ وہاں ان کی دلچسپی کی چیزیں کم ہوتی ہیں ۔ اگرگھر والوں کی دلچسپی کی چیزیں کچن میں ہی رکھ دی جائیں تو شاید وہ وہاں زیادہ آنے جانے لگیں ۔

ذمہ داریوں کی تقسیم
گھر والوں کا فرمائشی پروگرام جہاں خاتون خانہ کے لئے ایک مصیبت ثابت ہوتا ہے‘ وہاں اسے اپنی طاقت بنا کرانہیں پکانے کی سرگرمی میں شامل کیا جاسکتا ہے۔مثلاً اگرانہیںکوئی خاص ڈش پسند ہو تو ہفتے میں ایک بار اس کی تیاری میں ان سے ضرور مدد لیں ۔ ایک اورطریقہ یہ ہے کہ کوکنگ سے متعلق ذمہ داریاں گھر کے تمام افراد میں تقسیم کردی جائیں۔

بچوں کے لئے کوکنگ کی ٹریننگ
بڑے تو اکثر تھوڑی سی ٹریننگ سے سبھی کام خود کرسکتے ہیں تاہم بچوں میں صورت حال مختلف ہوتی ہے۔ اکثر مائیں یہ سوچ کر انہیں کام کرنے کی عادت نہیں ڈالتیں کہ وہ ابھی چھوٹے ہےں۔ یادرہے کہ بچپن میں ڈالی گئی عادتیں ہی بڑی عمر میں پختہ ہوتی ہےں۔ اس لئے انہیں ان کی عمرکے مطابق ذمہ داریاں ضرور سونپی جائیں ۔

پانچ سال تک کے بچوں کے کام
اس عمر کے بچوں کو درج ذیل نوعیت کے کام دئیے جاسکتے ہیں:
٭دُھلے ہوئے برتن یا سبزیاں وغیرہ کپڑے سے خشک کرنا۔
٭بیکنگ مولڈ میں بیکنگ کے لئے خاص پیپر لگانا۔
٭تیل کا سپرے یا برتن پر برش کرنا۔
٭چیزوں کو ہلاکرمکس یا میش کرنا۔
٭کُوکی کٹر کی مدد سے کاٹنا یا چیزوں کو گول پیڑے کی شکل دینا۔
٭پھلیوںسے مٹر نکالنا،دھنیااورپودینہ وغیرہ چننا یادال صاف کرنا۔
٭سبزیوں یا پھلوں کوچھلنی میں ڈال کر دھونا۔
٭چیزوں کو ہاتھ سے مکس کرنا۔
٭کھانے کے برتن ٹیبل پر اوربعد میں دھونے کی جگہ پر رکھنا۔

  8 سے 10سال کے بچے
اس عمر کے بچے درج ذیل کام آسانی سے کرسکتے ہیں لہٰذا یہ انہیں دئیے جانے چاہئیں:
٭چائے وغیرہ کی تیاری۔
٭موٹی موٹی سبزیوں کی کٹنگ اورچھلکے اتارنے کا کام۔
٭ہلکے پھلکے برتن دھونا۔
٭مائیکروویو‘الیکٹرک مکسریا اوون وغیرہ کا بڑوں کی نگرانی میں استعمال ۔
٭ڈو کو گوندھنے کا کام ۔
٭کھانے کو اچھے طریقے سے پیش کرنا۔
٭ریسیپی پڑھ کر بتانا اور اس کے لئے اجزاءاکٹھے کرنا۔
٭بچوں کو خریداری کے عمل میں بھی شامل کرنا چاہیے تاکہ انہیں پتہ چلے کہ وہ جو فرمائشیں کرتے ہیں ان پر کتنا خرچ آتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ انہیں مہنگائی کا اندازہ بھی ہوتا رہے گا۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of