کیا‘ کیوں اور کیسے شعاؤں سے علاج

248

یہ بتائیے کہ ’’ریڈی ایشن اونکالوجی‘‘ سے کیا مراد ہے اور اس شعبے میں کن بیماریوں کااورکیسے علاج کیا جاتاہے؟
٭٭ریڈی ایشن (radiation)شعائوں کو کہتے ہیں اور’’ریڈیالوجی‘‘ وہ شعبہ ہے جس میں شعائوں کے ذریعے امراض کی تشخیص کی جاتی ہے۔ ’’اونکالوجی‘‘ کا تعلق کینسر کے علاج سے ہے اور جب اس کے ساتھ ’’ریڈی ایشن‘‘ کا لفظ لگتا ہے تو اس سے مراد وہ ڈپارٹمنٹ ہے جس میں کینسر کا شعاعوں کے ذریعے علاج کیا جاتا ہے۔ اگرچہ اس شعبے میں زیادہ تر سرطان کا ہی علاج کیا جاتا ہے لیکن کچھ ایسے مریض بھی اس میں علاج کے لئے آتے ہیں جن کی رسولیاںسرطان زدہ نہیں (benign) ہوتیں۔ یہ رسولیاں ایک ہی دفعہ کے علاج سے مکمل طور پر ختم ہوجاتی ہیں جبکہ  جڑوں والی رسولیاں(malignant) نہ صرف دوبارہ پیدا ہوسکتی ہیں بلکہ شریانوں کے ذریعے جسم کے مختلف حصوں میں بھی پھیل سکتی ہیں۔ دوسرے لفظوں میں اسے سرطان کہا جاتا ہے۔

ریڈیوتھیراپی(ریڈی ایشن تھیراپی) اور سرجری مل کر کینسر کا علاج کرتے ہیں۔ مثال کے طور پر چھاتی کے سرطان میں آپریشن کے ذریعے متاثرہ حصہ نکال دیا جاتا ہے۔اس کے بعدریڈیو تھیراپی میں شعاعوں کی مدد سے اس کی جڑوں کو مکمل طور پر ختم کیا جاتا ہے تاکہ بیماری واپس نہ آئے۔بعض اوقات متاثرہ چھاتی مکمل طور پر نہیں ہٹائی جاتی بلکہ اس میں موجود صرف گلٹی نکالی جاتی ہے۔ اس کے بعد بچی ہوئی چھاتی کو ضائع کرنے کی بجائے اس میں شعائیں لگا کر سرطان کی جڑوں کو ختم کیا جاتا ہے۔

٭اس شعبے میں کون کون سے ٹیسٹ ہوتے ہیں؟
٭٭اس میں ایکس رے،سٹی سکین،ایم آر ائی اورمیموگرافی کی سہولیات دستیاب ہوتی ہیں۔
٭ کچھ لوگ کہتے ہیںکہ ایکسرے نہیں کروانا چاہئے ‘ اس لئے کہ اس سے کینسر ہوجاتا ہے۔ کیایہ درست ہے؟
٭٭اگر کوئی شخص یہ پوچھے کہ ایکسرے سرطان کا باعث بن سکتا ہے تو اس کا جواب ’’ہاں‘‘ میں ہے اوراگر یہ سوال کیا جائے کہ کیا ایکسرے ہر شخص میںسرطان پیدا کرتا ہے تو اس کا جواب ’’نہیں‘‘ میںہے‘ اس لئے کہ اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کا ایکسرے کتنی بارہوا ہے۔ اس لئے ایکسرے ہمیشہ ڈاکٹر کے مشورے سے ہی کروائیں۔ایم آر آئی اورسی ٹی سکین بھی تابکاری شعاؤں کی اقسام ہیں۔جو لوگ تابکاری شعاؤں کی زد میں زیادہ رہتے ہیں‘ ان میں اس مرض کے پیدا ہونے کا امکان بڑھ جاتاہے۔

٭ایکسرے اورکینسر کا آپس میں کیا تعلق ہے؟
٭٭’’ایکس رے ‘‘ تشخیص کے لئے کیا جائے یا علاج کے لئے‘ اس میں یہ صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ فرد کے جینیاتی نظام کو تبدیل کرسکے جس کے نتیجے میں سرطان بھی ہوسکتا ہے۔ ہمارے جسم کا دفاعی  نظام ہمیں سرطان کے خطرے سے بھی بچاتا ہے لیکن اگر وہ کمزور ہو تو پھر یہ خدشہ ہوتا ہے کہ شعائیں خلیوں میں تبدیلی کرکے انہیں سرطان کا شکار کر دیں۔ اس لئے آج دنیابھر میں زیادہ تر کام انسانی جسم کی قوت مدافعت بڑھانے اور اسے فعال رکھنے پر کیا جارہا ہے۔واضح رہے کہ صرف پانچ فی صد تابکاری شعائیں انسانی ڈی این اے میں براہ راست تبدیلی لاتی ہیں۔

٭ایم آر آئی اور سی ٹی سکین میں کیا فرق ہے؟
٭٭’’ایم آر آئی‘‘ میں مقناطیسی شعائیں استعمال ہوتی ہیں جوجسم کے اندرونی اعضاء کی بناوٹ اور ان میں کسی مسئلے کی موجودگی کا پتا لگانے میں مدد دیتی ہیںجبکہ ’’سی ٹی سکین‘‘ میں شعاؤں کی مدد سے اعضاء کا تفصیلی جائزہ لیا جاتا ہے۔ لتھوٹرپسی میں لہروں کا استعمال کیا جاتا ہے۔

٭یہ بتائیے کہ ریڈیو تھیراپی میں کون سے ایکسریز استعمال ہوتے ہیں؟
٭٭اس میں علاج کے لئے دو طریقے استعمال کئے جاتے ہیں۔ ایک میں ایکسریز ایک کِرن (beam) کی شکل میں استعمال ہوتی ہیں لہٰذا اسے ایکسرے بیم (xray beam) کہتے ہیں۔ اسے جلد اور چھاتی کے سرطان کے خاتمے کے لئے کام میں لایا جاتا ہے۔ دوسرے کا نام الیکٹران بیم (electron beam)ہے جس میں زیادہ گہرائی میں جاکر کام کرنے کی صلاحیت پائی جاتی ہے۔اسے پھیپھڑوں،خوارک کی نالی،معدے،مثانے، مقعد اور پروسٹیٹ (prostate) کے سرطان کے علاج کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔میڈیکل سائنس میں ترقی  کی بدولت آج ہمارے پاس یہ سہولت موجودہے کہ سرطان کی شدت اوراس کی قسم کے لحاظ سے طریقہ علاج کا انتخاب کرسکیں۔مزیدبرآں اس میں دوطرح کی تھیراپیز استعمال ہوتی ہیں جن میں سے پہلی ’’curative theraphy‘‘ ہے۔ اس میں سرطان کی نوعیت اور اس کے پھیلاؤ کے مطابق شعاعیں لگائی جاتی ہیں تاہم اس کا دورانیہ 25سے33دن تک ہوتا ہے۔ دوسری تھیراپی ’’peliative radiation‘‘ ہے جس کا دورانیہ 1 سے 10دن تک ہوتاہے۔ یہ صرف درد سے آرام ے لئے استعمال ہوتی ہے۔

٭آج کل ہر جگہ سیکیورٹی گیٹ لگے نظر آتے ہیں۔کہا جاتا ہے کہ حاملہ خواتین اور بزرگ افراد ان میں سے نہ گزریں۔ ایسا کیوں ہے؟
٭٭سیکورٹی گیٹس کا بنیادی مقصد دھات کا سراغ (metal detection)لگا نا ہے۔ ان میں بہت ہلکی شعائیں استعمال ہوتی ہیں لیکن وہ جتنی بھی ہلکی ہوں‘ مضر صحت اثرات بہرحال رکھتی ہیں۔ حمل ٹھہرنے کے پہلے تین مہینوں میں رحم مادر میںبچے کے اعضاء بن رہے ہوتے ہیں اور جینیاتی نظام بہت تیزی سے کام کر رہا ہوتا ہے۔ ایسے میں اس بات کا خطرہ ہوتا ہے کہ یہ شعائیں بچے کے جینز میں تبدیلی کا باعث نہ بن جائیں ۔اس لئے حاملہ خواتین کو ان دروازوں میں سے گزرنے پر مجبور نہیں کیا جاتا۔ بزرگوں کا مدافعتی نظام کمزور ہوچکا ہوتا ہے لہٰذا انہیں ان شعاؤں سے نقصان پہنچ سکتا ہے۔ اس لئے انہیں بھی ان سے گزرنے سے روکا جاتا ہے۔

٭ہسپتال کا عملہ ان شعاؤں کی زد میں رہتا ہے۔ انہیں شعاؤں کے مضر اثرات سے بچانے کے لئے کیا کیا جاتا ہے ؟
٭٭شعاؤں کے نزدیک کام کرنے والے عملے کے پاس پیلے رنگ کا ایک فلم بیج ہوتا ہے جس میں ایکس رے فلم پڑی ہوتی ہے۔ پی این آر اے (Pakistan Nuclear Regulatory Authority) کی طرف سے سختی سے ہدایات ہیں کہ ریڈیالوجی، ریڈیو تھیراپی، آپریشن تھیٹر اور شعاؤں سے متعلق تمام شعبوں کے ملازمین کو یہ بیچ ضرور دیئے جائیں۔ یہ بیج اس بات کا حساب رکھتے ہیں کہ ایک ورکر ایک مہینے میں براہ راست کتنی دیر شعاؤں سے رابطہ میں آیا ہے۔ ایک خاص مدت کے بعد پرانے بیج کے بدلے نیا بیج دے دیا جاتا ہے اور استعمال شدہ بیج ’’پی این آر اے‘‘ کے ریکارڈ میں رکھ دیا جاتا ہے۔ جہاں تک تابکاری شعاؤں سے بچنے کاتعلق ہے تو اس سلسلے میں تین چیزیں ذہن میں رکھنا ضروری ہیں۔ ان میں سے پہلی ’’وقت‘‘ ہے یعنی آپ کو تابکاری شعاؤں کی جگہ پر کم سے کم رہنا چاہئے ۔دوسری احتیاط ’’فاصلہ‘‘ ہے یعنی تابکاری شعاؤں سے جتنا ممکن ہو‘فاصلے پر رہیں۔ اس ضمن میں تیسری چیزڈھال (shield)ہے۔اس سے مراد یہ ہے کہ ایکسرے مشینوں پر کام کے دوران سیسے کے بنے دستانے اور کپڑے پہننے کے علاوہ بنیان کے نیچے سینے پر شعاعیں ماپنے والا بیج بھی لگائیں تاکہ روزانہ کی شعاعوں کا حساب رکھاجاسکے ۔جب ان شعاعوں کی تعداد مقرہ حد سے زیادہ ہوجاتی ہے تو ان ملازمین کو ان مشینوں سے ہٹا دیا جاتا ہے۔

٭کیا ریڈیوتھیراپی میں استعمال ہونے والی شعاعیں ریڈیالوجی کی شعاؤں سے زیادہ نقصان دہ ہوتی ہیں؟
٭٭عام لوگوں کا خیال ہے کہ ریڈیو تھیراپی(شعائوں سے علاج) کے شعبے میں کام کرنے والے ملازمین شعاؤں سے براہ راست رابطے میں آتے ہیں جبکہ ریڈیالوجی (جہاں صرف تشخیصی ایکسرے کئے جاتے ہیں)میںایسا بہت کم ہوتا ہے۔ حقیقت اس کے بالکل الٹ ہے‘ اس لئے کہ ریڈیالوجی میں ایکسرے کے دوران ملازمین‘ مریض کو سہارا دینے کے لئے مشین کے نیچے کھڑے ہوتے ہیں اور احتیاطی تدابیر کے باوجود شعاؤں سے براہ راست اور زیادہ وقت کے لئے رابطے میں رہتے ہیں۔ اس کے برعکس ریڈیوتھیراپی میں استعمال ہونے والی مشینیں بہت بڑی اور بند ہوتی ہیں اور شعائیں مختلف چیزوں سے ٹکڑا کر جب ملازمین تک آتی ہیں تو ان کی نقصان پہنچانے کی صلاحیت بہت کم ہو چکی ہوتی ہے۔

٭اس شعبے میں کیرئیر بنانے کے لئے کیا کرناچاہئے؟
٭٭ آپ جس بھی شعبے میں جانا چاہیں‘ میری رائے میںسب سے پہلے آپ کو ایک اچھا فزیشن ہونا چاہئے۔ پانچ سال کے ’’ایم بی بی ایس‘‘ کے بعد ہاؤس جاب کے دوران آپ پہلے چار مہینے میڈیسن اور پھر چار مہینے جنرل سرجری میں لگائیں۔جو طلبہ و طالبات ’’ریڈی ایشن اونکالوجی‘‘یا ’’ریڈیالوجی‘‘میں جانا چاہیں‘ انہیں چاہئے کہ دو مہینے تشخیصی ریڈیالوجی (diagnostic radiology) اور پھر دو مہینے ریڈیو تھیراپی کے شعبے میں کام کریں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ دونوں شعبے آپس میں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔یہاں فزکس بھی اچھی طرح سے پڑھنا پڑتی ہے‘ اس لئے کہ اسے پڑھے بغیر آپ اچھے ریڈیوتھیراپسٹ نہیں بن سکتے۔اس کے بعد پہلی ’’فیلوشپ‘‘ میڈیسن اور دوسری ’’ریڈی ایشن‘‘ میں کرنی چاہئے‘ تب کہیں جاکرآپ ایک اچھے ’’ریڈیو اونکالوجسٹ ‘‘بن سکیں گے۔اس میں وقت ذرا زیادہ لگے گا لیکن اس کا پھل نہ صرف آپ بلکہ آپ کے مریضوں کے لئے بھی بہت میٹھا ہوگا۔جو لوگ ’’ریڈی ایشن تھیراپسٹ‘‘   یا’’ٹیکنالوجسٹ‘‘ بننا چاہیں‘ وہ کسی بھی مستند ادارے سے ڈپلومہ کر سکتے ہیں۔ شفا تعمیر ملت یونیورسٹی دو سال کا ڈپلومہ کروا رہی ہے جس میں پہلے سال طلباء کو’’ تھیوری‘‘ پڑھائی جاتی ہے جبکہ دوسرے سال انہیں شفا انٹر نیشنل ہسپتال کے ریڈیالوجی ڈپارٹمنٹ سے منسلک کردیا جاتا ہے جہاں وہ مشینوں کے استعمال کی عملی تربیت حاصل کرتے ہیں۔

٭کیا پروسٹیٹ کینسر کا علاج بھی ریڈیو تھیراپی کے ذریعے کیا جاتا ہے؟
٭٭ پروسٹیٹ غدود کے پیچھے مقعد(anus) ہوتا ہے جبکہ اوپر اور آگے مثانہ نصب ہوتا ہے۔اس کے اوپر انتڑیاں پھیلی ہوتی ہیں جبکہ سائیڈ پرپیڑو کی ہڈی موجود ہوتی ہے۔پروسٹیٹ کینسر بڑھتی عمر کی بیماری ہے۔ بزرگ مریضوں کی ہڈیاں چونکہ پہلے ہی کمزور ہوچکی ہوتی ہیں‘ اس لئے مرض کی صحیح تشخیص کے لئے مریض کے پروسٹیٹ میں سونے کے بیج(gold seeds)ڈال کر ان کا سی ٹی سکین کیا جاتا ہے۔یہ بیج پروسٹیٹ کی جگہ کاصحیح تعین کرنے میں مدد دیتے ہیں۔ پروسٹیٹ‘ گوشت ہونے کی وجہ سے ایکسرے میں نظر نہیں آتا جبکہ یہ بیج ایکسرے میں صاف دکھائی دیتے ہیں جو یہ بتاتے ہیں کہ وہ اپنی جگہ پر موجود ہے یاوہاں سے ہٹ چکاہے۔ ہر روز شعاعیں لگانے سے پہلے یہ ایکسرے کیا جاتا ہے تاکہ جہاں پروسٹیٹ ہو‘ صرف اسی جگہ کو شعائیں لگا کروہاں موجود رسولی کو جلایا جائے اور دیگر اعضاء محفوظ رہ سکیں۔اس طرح مریض بڑھاپے میں اضافی تکلیف سے بچ جاتا ہے ۔علاج کے اس طریقے کو آئی ایم آر ٹی(image guided radiation therapy) کہتے ہیں۔ اس کے لئے استعمال ہونے والی مشین میں شعاؤں کا رخ موڑنے کی بھی صلاحیت ہوتی ہے لہٰذا سرطان زدہ جگہ پر زیادہ سے زیادہ شعائیں دی جاسکتی ہیں۔ اس سے پروسٹیٹ غدود کی رسولی جڑ سے ختم ہوجاتی ہے اوراس کے ضمنی اثرات بھی نہ ہونے کے برابر ہوتے ہیں۔پروسٹیٹ کے مریض کو زیادہ گیس والی خوراک سے پرہیز کرنے، ایکسرے سے پہلے تین سے چار گلاس پانی پینے، پیشاب روکے رکھنے اورایکسرے سے پچھلی رات کو پیٹ صاف کرنے والی ادویات کھا کر آنے کی ہدایت کی جاتی ہے ۔

٭اگرسر یا گردن میں شعاعیں دینا ہوں تو کیا کیا جاتا ہے؟
٭٭سر اور گردن میں تقریباً 30اعضاء بہت نفاست سے موجودہوتے ہیںاور انہی کے درمیان سرطان زدہ رسولی بھی ہوتی ہے۔اب مشین کے ذریعے سرطان والی رسولی کو سب سے زیادہ‘ جہاں سرطان کا خطرہ ہو وہاں اس سے کم اور جہاں کوئی خطرہ نہ ہو‘ وہاں نہ ہونے کے برابر شعائیں دی جاتی ہیں۔قابل غور بات یہ ہے کہ یہ سب کچھ بیک وقت ہورہا ہوتا ہے۔اس لئے اسے ایس آئی بی آئی ایم آر ٹی (simultaneous integrated boost-intensity modulated radiation therapy) کہا جاتا ہے۔
٭ریڈیالوجی کے شعبے میں ڈاکٹربعض اوقات مریض کی موجودگی کی پراہ کئے بغیر اس کے مرض پر گفتگو شروع کر دیتے

ہیں جس سے مریض پریشان ہو جاتا ہے۔اس پرآپ کیا کہتے ہیں؟
٭٭ آپ کی بات بالکل درست ہے۔ اسی لئے طلبہ و طالبات کو طبی اخلاقیات کا مضمون پڑھایا جاتا ہے جس میں مریض کی ذاتی معلومات کی رازداری کا خیال رکھنے اور اس کی بیماری اور پیچیدگیوں کوغیر ضروری طور پر ظاہر نہ کرنے پر زور دیا جاتا ہے۔ باہر کے ملکوں میں اس حوالے سے سخت قوانین موجود ہیں جن کی خلاف ورزی پر ڈاکٹر کے خلاف مقدمہ بھی دائر ہو سکتا ہے۔ یہاں اگرچہ ایسی صورت حال نہیں لیکن پھر بھی ڈاکٹروں کو چاہئے کہ مریض کی دلآزاری کرنے کے بجائے اس کی حوصلہ افزائی کریں تاکہ وہ جلد سے جلد صحت یاب ہوسکے۔

٭ قارئین کوسرطان کی آگاہی  پر کیا پیغام دینا چاہئیں گے؟
٭٭سرطان ایک خطرناک مرض ہے جس کے اتنا زیادہ عام ہونے میں آلودگی،انٹرنیٹ اور موبائل فونز کا بہت زیادہ استعمال،کھانے پینے میں بداحتیاطی ‘متحرک رہنے کی بجائے بیٹھے رہنے کی عادات ،ڈسپوزیبل برتنوں میں کھانا کھانا،ناقص پلاسٹک میں چائے پینا،ڈبہ بند خوراک کازیادہ استعمال شامل ہیں ۔ہمیں صحت مند طرززندگی اپناناچاہئے جس میں باقاعدہ ورزش، تازہ پھلوں اور سبزیوں کا استعمال اور آلودگی سے پاک اور فطرت سے قریب تر زندگی کو نمایاں اہمیت دی جائے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

Five year-old Amar was diagnosed with viral fever. However, when the fever did not subside even afte

diabetes Shifa News

Before you complete the first paragraph of this story, three people will be dead worldwide due to di

کچھ امراض ایسے ہیں جنہیں بہت سے لوگ ڈاکٹر تو کیا‘ اپنی