Vinkmag ad

دودھ چھڑائی کا درست وقت کیا ہے

بچہ جب دنیا میں آتا ہے تو اس کا معدہ اتنا طاقتور نہیں ہوتا کہ ٹھوس غذا کو ہضم کر سکے۔ ایسے میں اس کے پیدا ہوتے ہی قدرتی طور پر اس کے لیے ماں کے دودھ کا انتظام ہو جاتا ہے۔ یہ غذا اتنی ہلکی ہوتی ہے کہ اس کا معدہ اسے با آسانی ہضم کر سکے اور اس کی جسمانی ضروریات پوری ہو سکیں۔ پیدائش کے وقت اس کے جسم میں کچھ اہم معدنیات اور دیگر ضروری غذائی اجزاء بھی ہوتے ہیں۔ جب وہ چھ ماہ کی عمر تک پہنچتا ہے تو وہ ذرائع ختم ہونے لگتے ہیں۔ اب ماں کا دودھ اس کی ضروریات کے لیے کافی نہیں رہتا لہٰذا اسے دیگر غذاﺅں کی بھی ضرورت ہوتی ہے۔ بچے کو ماں کے دودھ سے دیگر غذاﺅں کی طرف لانے کا عمل دودھ چھڑائی (weaning) کہلاتا ہے۔

اس دور کی اہمیت

چھ ماہ کی عمر کے بعد جن بچوں کو ٹھوس غذا شروع نہیں کرائی جاتی، ان میں آئرن کی کمی ہونے لگتی ہے۔ اسی لیے وقت آنے پر ان کی غذا میں آئرن ضرور شامل کرنا چاہیے۔ چھ ماہ کے بعد بچہ تھوڑا تھوڑا بیٹھنا بھی شروع کر دیتا ہے، اس کی گردن مضبوط ہونے لگتی ہے اور وہ ہاتھ سے چیزیں پکڑنے کی کوشش کرنے لگتا ہے۔

اس مرحلے پر وہ بولنے کا آغاز بھی کر دیتا ہے۔ اس وجہ سے اس کی آنکھ، ہاتھ اور ہونٹوں میں ہم آہنگی (coordination) پیدا کروانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس ہم آہنگی کے باعث جبڑے اور زبان کے پٹھے اور ذائقے کی حس بہتر ہوتی ہے۔ ساتھ ہی بولنے کی صلاحیت میں بہتری آتی ہے۔ چبانے سے اس کے منہ کے پٹھے زیادہ مضبوط ہونے لگتے ہیں۔ علاوہ ازیں جب بچہ کھانے کے لیے ماں کو اپنے انداز میں بلانے یا بڑبڑانے (babbling) کی کوشش کرتا ہے تو وہ معاشرتی تعلقات بنانے کا ہنر سیکھنے کی پہلی سیڑھی پر قدم رکھ رہا ہوتا ہے۔ یہ والدین اور اہل خانہ کے لیے بھی اس بات کا موقع ہے کہ وہ بچے کے ساتھ بات چیت بڑھائیں۔ اس سے کھیلیں اور اس سے پیار جتائیں۔

دودھ چھڑائی کا صحیح وقت

ہمارے ہاں بچے کو ٹھوس غذا شروع کروانے کے بارے میں مختلف آرا پائی جاتی ہیں۔ کچھ خواتین دوسرے ماہ سے ہی اسے چائے وغیرہ دینے لگتی ہیں۔ کچھ تین ماہ بعد اور کچھ 10, 10 ماہ گزرنے کے بعد بھی ٹھوس غذا شروع نہیں کرواتیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پانچ سے آٹھ ماہ کے درمیان بچے کو ٹھوس غذا کھلانا شروع کی جا سکتی ہے۔ تاہم اس کے لیے بہترین وقت چھ ماہ کے بعد کا ہے۔ پانچ ماہ سے پہلے بچے کی خوراک کی نالی نے اتنی نشوونما نہیں پائی ہوتی کہ وہ دودھ کے علاوہ کسی ٹھوس چیز کو برداشت کر سکے۔

جو والدین چار ماہ یا اس سے پہلے ٹھوس خوراک شروع کروا دیتے ہیں، ان کے بچوں کو پیچش اور الٹی وغیرہ جیسے مسائل زیادہ ہوتے ہیں۔ پانچ سے آٹھ ماہ ایسی عمر ہے جس میں بچے کو نئی چیز سیکھنے میں زیادہ دلچسپی ہوتی ہے۔ اگر اس میں دیر کر دی جائے تو بچے کو نئے ذائقے قبول کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔

بچہ ٹھوس غذا کے لیے تیار ہے یا نہیں؟ اس کا اندازہ چند علامات سے لگایا جا سکتا ہے۔ مثلاً چھ ماہ کے اندر بچہ اپنا سر کنٹرول کرنا اور بیٹھنا سیکھ جائے تو سمجھ لیں کہ وہ دودھ کے علاوہ غذا لینے کے لیے بھی تیار ہے۔ ایسا نہیں ہے تو ڈاکٹر سے ایک مرتبہ ضرور رابطہ کریں۔ بچہ اگر منہ میں اپنا ہاتھ یا انگلی وغیرہ ڈالنے لگے یا سامنے پڑے کھانے میں دلچسپی ظاہر کرنے لگے تو بھی سمجھ لیں کہ وہ دودھ چھڑائی کے لیے تیار ہے۔

خوراک کیا ہو

بچے کو ابتدائی طور پر پتلی غذا دیں تاکہ وہ اسے آسانی سے نگل سکے۔ مثلاً اسے دودھ میں چاول کا دلیہ حل کے دیا جا سکتا ہے۔ کوشش کریں کہ بچے کی غذا میں پانی ملانے کی بجائے دودھ استعمال کریں۔ رفتہ رفتہ اسے کچھ گاڑھی چیز مثلاً آلو یا کیلے کا بھرتہ دیں۔ اس کے بعد آہستہ آہستہ فنگر فوڈ (finger food) دینا شروع کریں۔ آلو کے چپس، چھلا ہوا کیلا یا ابلا اور کٹا ہوا انڈا وہ اشیاء ہیں جنہیں بچہ خود ہاتھ سے پکڑ کر کھا سکتا ہے۔

بچے کو ایک سال کی عمر سے پہلے گائے کا دودھ مت دیں۔ کچھ بچوں کو اس سے الرجی ہو سکتی ہے۔ مچھلی یا بوٹیاں کھلاتے ہوئے دھیان رکھیں کہ بچے کو ہڈی نہ چبھے۔

ایک وقت میں ایک خوراک دیں

اکثر مائیں بچے کو ایک ساتھ تین یا چار چیزیں کھلانا چاہتی ہیں جو درست نہیں۔ ایک وقت میں ایک خوراک متعارف کروائیں اور سات دن تک اس معمول کو جاری رکھیں تاکہ وہ اس ذائقے کا عادی ہو جائے۔ دوسرے ہفتے اس کو نئی خوراک شروع کرائی جا سکتی ہے۔ اس کے لیے ایک خاص وقت متعین کر لیں جس میں آپ خود بھی فارغ ہوں اور بچے کو وقت دے سکیں۔ اس سے بچے کو روزانہ ایک معمول پر چلنے کی عادت ہو جائے گی۔

جب دو ہفتے تک اس طرح کا معمول بن جائے تو ماں ہر دوسرے دن ایک نئی غذا متعارف کر وا سکتی ہے۔ یہ ایک سست رفتار مگر اہم مرحلہ ہے۔ اس وقت جو خوراک بچے کے معمول میں شامل ہو جائے گی، وہ ساری زندگی اس کے ساتھ رہے گی۔ اس مرحلے میں اسے صرف صحت بخش غذا دیں اور مضر صحت اشیاء سے ہر ممکن حد تک پرہیز کریں۔ اگر آپ بچے کو پھل یا سبزی دیں تو اسے ان کے فطری ذائقوں سے متعارف کروائیں۔ ان پر نمک، مرچ یا چینی چھڑک کر مت دیں۔ یہ چیزیں ان کے لیے پیٹ کے مسائل پیدا کر سکتی ہیں۔

دیگر ہدایات

٭ بچہ پلیٹ سے کھانا گرا دے تو اسے ڈانٹیں نہیں اور نہ ہی کپڑے اور جگہ گندی ہونے پر پریشان ہوں۔

٭ وہ کھانے کو چھونا چاہے تو اپنی نگرانی میں اسے کھانے کو ہاتھ لگانے دیں تاکہ وہ مختلف کھانوں میں فرق سمجھ سکے۔

٭ ہر بچہ دوسرے سے مختلف ہوتا ہے۔ کچھ بچے جلد دودھ چھڑائی کے لیے تیار ہو جاتے ہیں جبکہ کچھ اس میں وقت لیتے ہیں۔ کبھی اس کا دل کھانے کو نہیں بھی چاہتا۔ اس لیے جتنا وہ اپنی مرضی سے کھا لے اسے کھانے دیں اور اس پر زبردستی مت کریں۔

٭ کھانا کھلاتے وقت بچے کو ٹی وی یا توجہ ہٹانے والی دیگر چیزوں سے دور رکھیں۔ اس کے بیٹھنے کی جگہ بھی آرام دہ ہو تاکہ وہ تسلی سے کھانا کھا سکے۔

٭ فیڈر کے استعمال سے گریز کریں۔

بچے اگر صحت بخش اور متوازن خوراک سے دور بھاگتے ہیں تو اس میں بڑا قصور ماﺅں کا بھی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کی اپنی غذائی عادات صحت مندانہ نہیں ہیں۔ اگر وہ اپنے بچوں کو صحت بخش غذا کھلانا چاہتی ہیں تو خود کو بھی اس کی عادت ڈالیں۔ بچوں کے سامنے کسی غذا پر ناک بھوں نہ چڑھائیں۔

Vinkmag ad

Read Previous

Heart diseases

Read Next

قابل تجدید توانائی پاکستان میں 1 لاکھ 75 ہزار جانیں بچا سکتی ہے: یونیسف

Most Popular