ڈبلیو ایچ او نے کہا ہے کہ پاکستان میں ایک کروڑ 29 لاکھ افراد ہیپاٹائٹس بی یا سی کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں۔ ادارے نے ورلڈ ہیپاٹائٹس ڈے پر 2030 تک بیماری کے خاتمے کے لیے پاکستان سے تعاون جاری رکھنے کے عزم کا اظہار کیا۔
ادارے کے مطابق ملک میں 90 لاکھ سے زائد افراد ہیپاٹائٹس سی، جبکہ 38 لاکھ 60 ہزار افراد ہیپاٹائٹس بی کا شکار ہیں۔ ان دونوں بیماریوں سے ہر سال 48 ہزار سے زائد اموات ہوتی ہیں۔
ڈبلیو ایچ او کے مطابق دنیا بھر میں ہیپاٹائٹس سی کے تقریباً چار کروڑ 70 لاکھ مریض ہیں۔ ان میں سے 90 لاکھ پاکستان میں رہتے ہیں۔ ہر 10 متاثرہ افراد میں سے صرف تین کو اپنی بیماری کا علم ہوتا ہے۔ ڈبلیو ایچ او نے بتایا کہ ہیپاٹائٹس بی اور سی سے بچاؤ اور علاج ممکن ہے۔ بروقت تشخیص اور علاج نہ ہونے پر یہ بیماریاں جگر کے کینسر کا سبب بن سکتی ہیں۔ ان سے دیگر سنگین پیچیدگیاں بھی پیدا ہو سکتی ہیں۔
ادارے کے مطابق غیر محفوظ خون کی منتقلی وائرس کے پھیلاؤ کی بڑی وجہ ہے۔ سرنجوں کا دوبارہ استعمال بھی انفیکشن پھیلاتا ہے۔ غیر جراثیم سے پاک طبی آلات بھی بیماری منتقل کر سکتے ہیں۔
پاکستان میں ڈبلیو ایچ او کے نمائندے ڈاکٹر لوو داپینگ نے کہا کہ ادارہ تحقیق، ویکسینیشن، بروقت تشخیص اور معیاری علاج کے فروغ میں پاکستان سے تعاون جاری رکھے گا۔