پاﺅں کی دیکھ بھال

290

خوبصورتی کاتناظر ہو یا صحت کا‘ جسم کے دیگراعضاءکی طرح پاﺅں بھی خصوصی توجہ کے طالب ہیں۔ہماری جسمانی حرکت کا دارومدارزیادہ ترانہی کی صحت پر ہوتاہے۔انہیں ہلکی سی چوٹ بھی لگ جائے توہمیں چلنے پھرنے میں دشواری کا سامنا کرنا پڑ جاتا ہے۔ان پر موسمی اثرات بھی زیادہ ہوتے ہیں ۔ مثلاً سردیوں میں ایڑیاں پھٹنے لگتی ہیں جبکہ گرمیوں میں کچھ افراد کو پاﺅں جلتے محسوس ہوتے ہیں۔ ان کی حفاظت سے متعلق چند اہم احتیاطیں درج ذیل ہیں

پاﺅں کی صفائی
٭اپنے پاﺅں روزانہ دھوکر اچھی طرح سے خشک کریں۔
٭انہیں دھونے کے لئے کم کیمیکلز والا اور کم خشکی پیدا کرنے والاصابن استعمال کریں۔
٭اکثراوقات پاﺅں کی انگلیوں کے درمیان میل رہ جاتی ہے۔اس لیے ان جگہوں کو اچھی طرح مل کر دھوئیں۔
٭پاﺅںاگر روزانہ کی بنیاد پر دھوئے جائیںاور ان پر کوئی بھی ہلکی سی کریم یا پٹرولیم جیلی استعمال کر لی جائے تو باقاعدہ ”پیڈی کیور“‘ کی ضرورت نہیں پڑتی۔
٭پاﺅں کی ایڑیاں اکثر خراب ہونے لگتی ہیں۔ان کے لیے بھی کسی معیاری کریم کا استعمال کیا جا سکتا ہے۔

جوتے اور جرابیں
٭پاﺅں کی حفاظت صرف انہیں دھونے سے پوری نہیں ہو پاتی بلکہ یہ بھی ضروری ہے کہ آپ روزانہ صاف اور دھلی ہوئی جرابیں استعمال کریں۔یہ بات ان لوگوں کے لیے خاص طور پر اہم ہے جنہیں پاﺅں پر زیادہ پسینہ آتا ہے یا جو زیادہ متحرک رہتے ہیں۔
٭اپنے جوتوں کوباہر سے ہی نہیں بلکہ اندر سے بھی صاف رکھیں۔
٭روزانہ جوتوں کاایک ہی جوڑا پہننے سے پرہیز کریں۔
٭ اگر جوتے پسینے یا کسی اور وجہ سے گیلے ہو جائیں تو انہیں مکمل طور پر خشک کر کے پہنیں۔
٭جن لوگوں کو پاﺅں میں درد یا اس طرح کا مسئلہ ہو‘ انہیں آرام دہ اور پاﺅں کی ساخت کے مطابق جوتے اور پیڈ والی جرابوں کا استعمال کرنا چاہئے۔

پاﺅں کے ناخن
٭پاﺅں کے ناخنوں کوہرہفتے یا کم از کم 15دن بعد ضرور کاٹیں۔ان کو ترچھے کی بجائے سیدھاکاٹنے کی کوشش کرنی چاہئے ۔نیز کاٹنے کے بعد ان کے کونے لازماً فائل کریں ۔
٭نیل کٹر اور فائلر کا استعمال کرتے ہوئے اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ صاف ہے۔
٭شوگر کے مریض یا پاﺅں کو متاثر کرنے والی کسی اوربیماری کے مریضوں کو چاہئے کہ اپنے پاﺅں کے ناخن احتیاط سے کاٹیں۔ اگر ضروری ہو تو کسی اور کی مدد بھی حاصل کریں۔
٭صحت مند ناخنوں کا رنگ ہلکا گلابی ہوتا ہے۔اگر ان کی رنگت خراب ہوتو یہ کسی اندرونی بیماری کی علامت ہو سکتی ہے۔ایسے افراد ناخنوں پر نیل پالش لگانے سے پرہیز کریں ۔

ڈاکٹر سے رابطہ
پاﺅں کی مندرجہ ذیل علامات ظاہر ہونے پر فوراًڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے:
٭پاﺅں سے متعلق چند چیزوں مثلاًچھالے‘دانے‘پھٹی جلداور ان کے درجہ حرارت کاروزانہ کی بنیاد پر دھیان رکھنا چاہئے۔اگر پاﺅں ایک جانب سے ٹھنڈے اور دوسری جانب سے گرم ہوں تو یہ دورانِ خون میں رکاوٹ کی علامت ہو سکتی ہے۔
٭پاﺅں کادرد‘سنسناہٹ کا احساس یاان کاسن ہونا کسی اعصابی بیماری کی جانب اشارہ ہو سکتا ہے۔
٭پاﺅں کے ناخن سرخ ہوں‘ ان میں دردہواور ان کی جانب جلدپھولی سی لگنے لگے۔
٭پاﺅں یا ٹانگوں کے بال جھڑنے لگیں تو یہ دورانِ خون میں مسائل کی علامت ہو سکتا ہے۔
٭اگر پاﺅں میں مسلسل درد کی شکایت رہنے لگے تو اس کی وجہ کوئی بیماری ہو سکتی ہے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

۔ اگرناخنوں پر نیل پالش لگی ہو تواسے اتار کر ہاتھ اچھے ط

    زمانہ قدیم ہو جدید‘ یہ بات اپنی جگہ ہمیشہ مسلم رہی

 خواتین کی بیضہ دانیوں میں ہر ماہ انڈے پیدا ہوتے ہیں جو