کینسر کے مریضوں کے لئے‘ کینسر کے مریضوں کا ڈرامہ

394

”اوہ! خوفزدہ ہونے کی ضرورت نہیں“۔ یہ اس ڈرامے کا عنوان تھاجو خاص طور پر سرطان کے مریضوں کے لیے بنایا گیا تھا۔

ڈرامے کی دلچسپ ‘ خاص اور اہم بات یہ تھی کہ اسے بنانے میں حصہ لینے والے بیشتر افراد سرطان کا شکارتھے۔ اس کی خاتون ڈائریکٹرگزشتہ پانچ سال سے پھیپھڑوں کے سرطان میں مبتلا تھی جبکہ ڈرامے میں کام کرنے والے 12اداکاروں اور اداکاراﺅں میں سے7 کینسر کے مریض تھے۔ ہم جانتے ہیں کہ اکثر ڈرامے فرضی کہانیوں پر بنائے جاتے ہیں لیکن تھیٹر میں پیش کیا جانے والا یہ ڈرامہ اس لحاظ سے منفرد تھا کہ وہ حقیقی کہانی پر مبنی تھا جس میں بیماری کے آخری مراحل میں داخل ہونے والا ایک مریض پھیپھڑوںکے سرطان میں مبتلا ایک اورمریض کو اپنی اداکاری کے ذریعے زندگی کو بہتر انداز میں گزارنے کا حوصلہ دیتا ہے۔

’ ڈرامہ نہ صرف دیکھنے والوں بلکہ خود اداکاروں کے لیے بھی ایک طرح سے نفسیاتی علاج (تھیراپی ) کی راہ ہموار کرتا ہے۔“اس ضمن میں اپنے تجربے کو بطورمثال بیان کرتے ہوئے انہوں نے کہا :
” جب مجھے پہلی بار اپنی بیماری کے بارے میں معلوم ہوا تو میں شدید مایوسی کا شکار ہوگئی۔ پھر کسی نے مجھے ایک کینسر بحالی کلب سے متعارف کرایا جو ہمارے شہر (شنگھائی) میں ہی قائم ہے۔ اسی کے افرادنے مجھے ڈرامہ تھیراپی کے بارے میں بتایا۔“ انہوں نے مزید کہا: ”میں پہلے بھی ٹیلی وژن کے لیے پروگرام بناتی تھی لیکن ڈرامہ تھیراپی نے مجھے اپنی زندگی کو ازسرنو ترتیب دینے اور خود اپنی پیشہ ورانہ صلاحیت کے نئے معنی سمجھنے میں مدد دی۔ سچ تو یہ ہے کہ بیماری سے قبل کے سالوں میں ٹیلی وژن کے لیے پروگرام بناتے ہوئے مجھے معلوم ہی نہ تھا کہ میں کیا اور کیوں کر رہی ہوں؟ لیکن اب ڈرامہ پیش کرتے ہوئے میر ے سامنے ایک واضح مقصدہوتا ہے، اور وہ یہ کہ مجھے سرطان کے مرض میں مبتلا اپنے جیسے مریضوں کی مدد کرنا ہے ۔انہیں یہ پیغام دیناہے کہ زندگی کی اس حقیقت کو قبول کرتے ہوئے منفی جذبات واحساسات سے پیچھا چھڑائیں اور اس حوالے سے مثبت رویہ اختیاکریں۔“ خاتون ڈائریکٹرنے بتایا کہ وہ ڈرامے کے ذریعے بحالی مرض کے حوالے سے تربیتی ورکشاپ کا انعقاد بھی کرتی ہیں۔

” ڈرامے میں ایسی کیاخاص بات ہے جو مریضوں کی کیفیت تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوتی ہے؟“ گزشتہ آٹھ برس سے چھاتی کے کینسر میں مبتلا ایک اداکارہ نے اس سوال کے جواب میں کہا :
’میں جب ڈرامے میں کام کررہی ہوتی ہوں تو مجھے لگتا ہے کہ دل کی گہرائیوں سے اچھا کردار ادا کررہی ہوں۔ ہم اپنی کہانیاں مریض ناظرین کو بتاکر ان کی حوصلہ افزائی کررہے ہوتے ہیں کہ وہ امید کادامن ہاتھ سے نہ چھوڑیں۔“

ڈرامہ تو ظاہر ہے کہ ڈرامہ ہی ہے اور مرض کے علاج میں اس کا کوئی براہ راست کردار نہیں ہوتا۔ تاہم یہ ڈرامہ ایک جانب مریضوں کو اپنے ہی جیسے مریضوں کے درمیان لا کھڑا کر کے انہیں تنہائی کے احساس سے اور دوسری جانب انہیں بھرپور طورپر متحرک اور مصروف دیکھ کر مایوسی کی کیفیت سے نکالتا ہے۔ سب سے بڑھ کریہ کہ ڈرامہ حقیقت پر مبنی کہانیوں کے ذریعے امید‘حوصلے اور زندگی کو کسی مقصد کی خاطر بھرپور طورپر گزارنے کا پیغام دیتا ہے۔”شنگھائی کینسر کلب“ کے ذمہ داران بتاتے ہیں کہ 28سال قبل اپنے قیام کے بعد سے اب تک وہ دولاکھ سے زائد مریضوں کو مایوسی کے اندھیرے سے امید کی روشنی میں لاچکے ہیں۔ وہ مریضوں میں یہ احساس بیدار کرنے میں کامیاب رہے ہیں کہ اپنی بیماری سے مایوس ہونے کی بجائے اس سے لڑنا چاہئے اور بہتر زندگی گزارنے کے لیے جو بھی مواقع موجود ہیں ‘ان سے پورافائدہ اٹھانا چاہئے۔

بیماری انسانی زندگی کی ان حقیقتوں میں سے ایک ہے جس کا تجربہ کم وبیش ہر انسان کو کسی نہ کسی وقت ہوتا ہے۔ طبی سائنس جوں جوں ترقی کررہی ہے‘ بیماریوں کے علاج میں بھی کامیابیوں کا تناسب بڑ ھ رہاہے۔ تاہم اس کے ساتھ ساتھ نئی نئی بیماریاں اور بیماریوں میں نئی نئی پیچیدگیاں بھی سامنے آرہی ہیں۔ یہ اس بات کی یاددھانی ہے کہ یہ سلسلہ قدرت کی ایک ایسی اسکیم کا حصہ ہے جو کبھی ختم نہ ہوگا‘ یعنی امراض اور ان کے علاج کے درمیان کشمکش ہمیشہ جاری رہے گی۔ تاہم اس بات پر بھی بالعموم اتفاق پایا جاتا ہے کہ مرض کوئی بھی ہو ‘علاج میں اہم ترین عنصر مریض کی ذہنی کیفیت ہے۔ فرد اگر مثبت سوچ کا حامل ہواور اس کے ساتھ بیماری کا مقابلہ کررہاہو توعلاج میں کامیابی کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ یوں کسی بھی شعبے کے معالج کا اہم ترین کام بیماری کی حقیقت واضح کرنے کے ساتھ ساتھ مریض میں یہ اعتماد پیدا کرنا ہے کہ وہ اس کا مقابلہ کرسکتا ہے۔ اسے چاہئے کہ مریضوں کے دل میں یہ بات ڈالے کہ اگر علاج میں کچھ مشکلات ہیں تو بھی مایوس ہونے کی بجائے دستیاب مواقع کو نعمت سمجھتے ہوئے ان کاموثر طورپر استعمال کرے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

ظفراقبال خٹک، ٹیومر رجسٹرار، شفاکلینیکل سینٹر خون ہما

Salman Hussain, 24 from Nowshera, came back home diseased, exhausted and hopeless after working in S

کینسر ایک مہلک اور جان لیوا مرض ضرور ہے لیکن اس کی بروقت