کیلوریزکلچر اپنائیے

162

    ایک زمانہ تھا جب سائنسی ایجادات کے ثمرات زیادہ لوگوں تک نہیں پہنچے تھے جس کی وجہ سے ان کی زندگی پرمشقت تھی۔ وہ روزانہ میلوں پیدل چلتے‘ مشینوں کی بجائے قوت بازو سے کام لیتے‘ کھیتوں میں بیلوں کی مدد سے ہل چلاتے‘ درختوں کی لکڑیاں کاٹتے اور انہیں پشت پر لاد کر گھروں کو لاتے۔ دوسری طرف خواتین بھی اپنے سروں پر پانی کے کئی کئی گھڑے اٹھا کر لاتیں‘ ندیوں اور تالابوں پر جا کر ہاتھ سے کپڑے دھوتیں‘ صبح سویرے اٹھ کر چکی پیستیں اور کھیتوں میں اپنے مردوں کا ہاتھ بھی بٹاتیں۔ یوں سخت جسمانی مشقت ان کی زندگی کا بھی خاصا تھی۔ ایسے میں لوگوں کو ایسی غذاﺅں کی ضرورت تھی جو انہیں زیادہ سے زیادہ توانائی فراہم کر سکیں۔ اسی ضرورت نے دیسی گھی‘ مکھن‘ حلوہ جات اورگوشت خوری وغیرہ کے رجحان کو جنم دیا ۔پھر زمانے نے کروٹ لی اور پرمشقت کام مشینوں کے ذریعے انجام دئیے جانے لگے۔ اس عامل نے زندگی میں سہولت اور طرز زندگی میں تبدیلی پیدا کر دی ۔ جب زندگی میں سہل پسندی کا عنصر بڑھ گیا توکھانوں میں بھی ایسی تبدیلی ناگزیرتھی جو نئے طرز زندگی کے مطابق کم توانائی والی ہوتی لیکن بدقسمتی سے ایسا نہ ہو سکا۔ کھاناہمارے جسم کو توانائی مہیا کرتا ہے جسے ہم مختلف کاموں کےلئے استعمال میں لاتے ہیںاور جو توانائی بچ رہتی ہے‘ وہ چربی کی شکل میں جسم کے مختلف حصوں میں جمع ہو جاتی ہے۔ اس کے نتےجے میں جسم نہ صرف بھدا لگتا ہے بلکہ فرد کے متعددبیمارےوں کاشکار ہونے کے امکانات بھی بڑھ جاتے ہیں۔ توانائی کی ضرورت اور اس کی مقدار میںعدم موافقت نے صحت کے متعددمسائل کو جنم دیا۔

توانائی کی پیمائش کا پیمانہ ےا اکائی ”کیلوری“ ہے۔ ےہ لا طینی زبان کے لفظ”کےلر(Calor)“ سے ماخوذ ہے جس کے معانی ”درجہ حرارت“ کے ہیں۔ اےک کلوگرام پانی کا درجہ حرات اےک ڈگری سنٹی گرےڈتک بڑھانے کےلئے جتنی توانائی درکار ہوتی ہے‘ اسے اےک کےلوری قرار دیا جاتا ہے۔آج کل غذائی توانائی کے تناظر میں ”کلوکےلوری(Kcal) “کی اصطلاح استعما ل ہوتی ہے جسے سب سے پہلے ریمنڈ نے 1894ءمیں استعمال کیا۔ کھانے پینے کی چےزوں کی پیکنگ پر”انرجی“ کے عنوان سے اس شے میں موجود کلو کےلوریز کی تعداد لکھی ہوتی ہے۔

1860کی دہائی میں سائنسدانوں نے کھانوں کی کیمیائی ساخت پر تحقیق شروع کی۔ انہوں نے 1910اور 1920ءکی دہائےوں میں انسانی جسم کےلئے ضروری وٹامنز اور معدنےات بھی درےافت کرلئے تاہم وہ ےہ جاننے میں بھی دلچسپی رکھتے تھے کہ غذا کس طرح جسم کو توانائی مہیا کرتی ہے۔امرےکی کیمیا دان ولبر او اےٹواٹر (Wilbur O. Atwater)نے 1888ءمیںاےسے متعددفارمولے تےار کئے جن کی مدد سے کم سے کم خوراک کھا کر زےادہ سے زےادہ توانائی حاصل کی جاسکتی تھی۔ولبر نے اےک رےسپیرےشن کےلوری میٹر (Respiration Calorimeter)بھی تےار کیاجس سے ےہ معلوم ہوسکتا تھا کہ کون سی خوراک کتنی توانائی مہیا کرتی ہے۔ 1896ءمیں اس مشین کے ذرےعے تجربات شروع کئے گئے اور500 افراد پر اسے کامیابی سے آزماےاگیا۔ولبرکی اس مشق کا مقصد لوگوں کی جسمانی صحت اور معاشی بچت تھا لےکن زےادہ تر لوگوں نے اسے وزن کم کرنے کے تناظر میں لیاتاکہ وہ اپنے جسم کو جاذب نظر شکل میں ڈھال سکیں۔

وزن کم کرنے اورجسم کو سڈول بنانے کے لئے کےلوریز پر نظر رکھنے کے تصور کو مقبول بنانے میں اےک میڈےکل ڈاکٹر لولو ہنٹ پیٹر(Lulu Hunt Peter) کا کردار بہت نماےاں ہے۔ ان کااپنا وزن 220 پاﺅنڈ تھا جو انہوں نے اس طرےقے سے 70 پاﺅنڈ کم کرلیا۔انہوں نے لوگوں کوےہ باور کرواےا کہ وزن کم کرنے کامحفوظ‘ پائےدار اور صحت مند طرےقہ اپنی کیلورےز پر کنٹرول ہے ۔وہ اپنے لےکچرز میں اکثرکہتیں کہ ”آپ جس طرح فُٹ‘ گز‘ گےلن اور کوارٹ کے الفاظ اپنی روز مرہ زندگی میںاستعمال کرتے ہیں‘ اسی طرح لفظ ”کیلوری“ کا استعما ل بھی زےادہ کیا کرےں ۔مثلاًبےکری والے سے ےہ کہنے کی بجائے کہ مجھے اےک سلائس برےڈ ےا اےک کچوری یا سموسہ دےں‘ ےہ کہا کرےں کہ مجھے 100 کےلورےز سلائس اور350 کےلوریز کچوری/سموسہ دیں۔“اس کے بقول عام آدمی کو اپنا وزن مناسب حد میں رکھنے کےلئے اپنے ہرپاﺅنڈکے مقابلے میں روزانہ 15 سے 20 کےلورےزضرور خرچ کرنی چاہئےں۔ اس کی کتاب ”Diet and Health“ اس موضوع پر سب سے زےادہ فروخت ہونے والی کتابوںمیں شامل ہوگئی۔1930ءمیں جب وہ فوت ہوئیں تو کےلوری کا لفظ ہر زبان پر تھا اور بچے بھی اپنی کےلوریز شمار کر لےتے تھے۔

ماہرےن غذائےات کے مطابق اوسطاًاےک مرد کو دن بھرمیں2500اور عورت کو 2000کلوکےلورےز درکار ہوتی ہےںجبکہ ہم لوگ اوسطاً4000سے 5000کےلورےز روزانہ حاصل کرتے ہےں۔واضح رہے کہ جنس‘ قداور دن بھر کی سرگرمیوں کے تناظر میں ہر فردکےلئے درکارکےلورےز میں فرق ہو سکتا ہے ۔ غذاﺅں میں ہلکی سی تبدیلی ہمیں بہتر نتائج دے سکتی ہے۔ مثال کے طور پرہمارے ہاں عام استعمال ہونے والی روٹی/چپاتی/ پھُلکے میں اوسطاً60کیلورےز ہوتی ہےں۔اس کے مقابلے میں کلچہ نان میں120‘گھی والی روٹی میں147‘ تندوری روٹی میں 102سے 120‘ سادہ پراٹھے میں 243 سے 290‘ مولی والے پراٹھے میں257‘ آلو والے پراٹھے میں290سے360اور پشاوری نان میں322کیلورےز ہوتی ہےں۔ اگرہم دو چمچ چینی استعمال کرےں تو اس میں50کےلورےز ہوتی ہےں جنہےں استعمال کرنے کےلئے ہمیں 10منٹ تک تےز چلنا ہوگا۔ اےک سموسے میں 200سے 300 جبکہ اےک گلاب جامن میں 250سے 300کےلورےز ہوتی ہےں ۔ ےوں انہیں کھانے کے بعدہمیں اوسطاً50سے 60منٹ تک تےز چلنے کی ضرورت ہوتی ہے۔
اپناوزن کم کرنے کےلئے غےرمصدقہ ٹوٹکوں پر عمل کرنے کی بجائے ہمیں چاہئے کہ اپنی دن بھر کی خوراک کا کےلوریز کے تناظر میں تجزےہ کرےں اورروزانہ اتنی خوراک کھائےں جتنی ہمارے جسم کو ضرورت ہے ۔مزید براں ہم جو کچھ کھائےں‘ اسے ہضم کرنے کے لئے ورزش اور واک وغےرہ کابھی اہتمام کرےں۔