سردیوں میں جلد کی حفاظت کیسے کریں

575

یہ بتائیے کہ شعبہ امراض جلد میں کون سی بیماریوں کا علاج کیاجاتا ہے؟
شعبہ امراض جلد (ڈرماٹالوجی) میں جن معاملات کو دیکھا جاتا ہے‘ ان میں سے پہلا جلد‘ بالوں اور ناخنوں کی بیماریاں ہیں۔ جلد کو خوبصورت بنانا بھی اسی شعبے سے متعلق ہے ۔ مثال کے طور پر جلد کے نیچے چربی ہوتی ہے جسے نکالنا لائپوسکشن کہلاتا ہے اور یہ بھی اسی شعبے کاکام ہے ۔چہرے سے جھریوں اور بڑھاپے کی علامات صاف کرنے کے لئے سرجری کے ذریعے چہرے کی جلد کا ڈھیلا پن ختم کیا جاتا ہے ۔بالوں کی پیوندکاری بھی بنیادی طور پر ایک ڈرماٹالوجسٹ کی ہی ایجاد ہے لیکن اب اس شعبے میں الگ سرجن بھی آ گئے ہیں۔جلد، چہرے ‘ پاﺅں یاہاتھوں پر پھولی رگوں کا علاج‘ بالوں کو جڑوں سے ختم کرنا اورلیزر سے جسم پر پیدائشی علامات اور ٹیٹو ختم کرنے کے کام بھی اسی شعبے میں ہوتے ہیں ۔آپ نے دیکھا ہوگا کہ بعض لوگوں کے چہروں پر سرخ رنگ کادھبا ہوتا ہے جسے چاندگرہن لگنا کہتے ہیں۔ اس کاعلاج پہلے سرجری کے ذریعے ہوتا تھا جس سے چہرے پر نشان بن جاتا تھا۔ اب لیزر سے ہی اسے ٹھیک کر دیا جاتا ہے ۔آنکھوں کے گرد جھریوں کوبوٹاکس اور ناک اور منہ کے گرد جھریوں کوفلرزسے ٹھیک کر دیا جاتا ہے ۔ اس شعبے کو زیبائشی سرجری   کہتے ہیں ۔

موسم سرما میںجلد کے مسائل زیادہ کیوں سامنے آتے ہیں ؟
سردیوں کے موسم میں ہوا میں نمی کا تناسب کم ہو جاتا ہے جس کی وجہ سے اس میں خشکی آ جاتی ہے ۔ جلد، جسم کا سب سے بڑا عضو ہے اور ہوا چونکہ سب سے زیادہ اسی کو لگتی ہے لہٰذا اس کا سب سے زیادہ اثر بھی اسی پر پڑتا ہے ۔ اس موسم میں ایگزیمابھی ہونے لگتا ہے جو بچوں میں بہت عام ہے۔اٹوپک ڈرماٹائٹس  شدید قسم کی سوزش ہے جس میں جلد خشک‘کھردری اور لال ہوجاتی ہے ۔ اس میں بچوں کو کہنیوں کے سامنے‘گھٹنوں کے پیچھے یا گردن کے اطراف والے حصے میں شدید خارش ہوتی ہے ۔اس موسم میں لوگ دھوپ میں بیٹھنا پسند کرتے ہیں جس کی وجہ سے ان کی جلد کی رنگت خراب ہونے لگتی ہے‘اس پر چھائیاں نمودار ہونے لگتی ہیں اور جلد کے کینسر کا امکان بھی پیدا ہوجاتا ہے۔ خواتین جب برتن دھونے کے لئے جلد کو خشک کرنے والے صابن استعمال کرتی ہیں تو ان کے ہاتھوں کی جلد خشک ہو کر پھٹنے لگتی ہے ۔ اس موسم میں بہت سے لوگوں کی ایڑیوں اور پاﺅں کی جلد کے علاوہ ہونٹ بھی پھٹ جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ہماری جلد میں چھوٹے چھوٹے غدود پیدا کئے ہیں جو جلد میں نمی برقرار رکھنے اور اسے تحفظ دینے کے لئے تیل خارج کرتے ہیں ۔ لوگ جب جلد کوخشک کر دینے والے صابن استعمال کرتے ہیں یا زیادہ گرم پانی سے نہاتے یا ہاتھ پاﺅں دھوتے ہیںتو جلدکا قدرتی تیل بھی دھل جاتا ہے جس سے اس کی نمی ختم ہو جاتی ہے ۔ ایسے میں اگر کوئی موائسچر نہ لگایا جائے تو جلد خشک ہو جاتی ہے جس سے خارش بھی ہوتی ہے ۔

گرم پانی سے نہانے کے بعد خارش کیوں ہوتی ہے ؟
آپ نے دیکھا ہو گا کہ جب زمین سوکھ جاتی ہے تو اس کی سطح پر دراڑیں نمودار ہوجاتی ہیں۔بالکل اسی طرح جب جلد خشک ہوتی ہے تو اس پر بھی باریک سی دراڑیں  پڑ جاتی ہیں جو خوردبین کے بغیر نظر نہیں آتیں۔ ان دراڑوں سے جراثیم اور الرجی پیدا کرنے والے مادے جلد کے اندر چلے جاتے ہیں جس سے خارش شروع ہو جاتی ہے۔

سردیوں میں گرم پانی کے بغیر گزارہ نہیں ۔ایسے میں کیا کیا جائے؟

سب سے پہلی بات تو یہ ہے کہ ایسا صابن استعمال کیا جائے جو جلد کو خشک کرنے والا نہ ہو۔دوسرا طریقہ یہ ہے کہ زیادہ گرم پانی سے نہانے کی بجائے نیم گرم پانی استعمال کیا جائے ۔ تیسری بات یہ ہے کہ جب نہا چکیں تو اس کے فوراً بعد گیلے جسم پر کوئی اچھاسا موائسچرائزر لگا لیں۔تاہم وہ بہت زیادہ گھنا نہیں ہونا چاہئے ورنہ اس سے جلد کے مسام بند ہو جائیں گے اور نتیجتاً جلد پر دانے نکل آنے کا امکان پیدا ہو جائے گا۔اس لئے ذرا ہلکا ‘ پتلا اور نرم موائسچرائز لگائیں جو جلد پرآسانی سے پھیل جائے اور مساموں کوبند بھی نہ کرے۔بعض لوگ پوچھتے ہیں کہ نہانے کے بعد جسم پرسرسوں کا تیل لگانا ٹھیک ہے؟ اس کا جواب یہ ہے کہ سارے ہی تیل ٹھیک ہیں‘ تاہم موائسچرائزرززیادہ مناسب ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ تیل میں پانی کم ہوتا ہے جبکہ اچھے موائسچرائزر میں تیل اور پانی دونوں ہوتے ہیں۔پانی جلد میں جذب ہوجاتا ہے اور تیل اس پر ہلکی سی تہہ لگا دیتا ہے۔

سردیوں میں کبھی کبھی شدید خارش ہو جاتی ہے جوبعض اوقات پوراسال نہیں جاتی۔ یہ کیا ہے اور اس سے نجات کیسے ممکن ہے؟
یہ متعدی قسم کی ایک خارش  ہے جس کا سبب ایک چھوٹا سا کیڑا  ہے ۔اس موسم میں اس کے زیادہ ہونے کا سبب لوگوں کا قریب رہنا ہے ۔اس خارش سے بچنے کے لئے ضروری ہے کہ متاثرہ فرد کو نہ تو چھوئیں اور نہ اس کا تولیہ یادیگر کپڑے استعمال کریں۔اگر یہ ہوجائے تو ایک کریم لگانے سے ٹھیک ہو جاتی ہے ۔ اسے گردن سے لے کر پاﺅں تک پورے جسم پر ایک سے دو راتیں لگانا پڑتا ہے ۔ایسے میں پوری فیملی کا ایک ہی وقت میں علاج ہونا چاہئے ورنہ خارش ایک سے دوسرے فرد کو لگتی رہے گی۔

خارش کی صورت میں ڈاکٹر کی تجویز کردہ دوا استعمال کرنے سے مسئلہ حل ہوجاتا ہے لیکن جونہی اسے چھوڑتے ہیں تو وہ دوبارہ نمودار ہو جاتی ہے ۔ ایسا کیوں ہوتا ہے ؟
ایک دانے وہ ہیں جو چہرے پر نمودار ہوتے ہیں جنہیں ہم مہاسے کہتے ہیں۔اگر دانے جسم کے باقی حصوں پر بنیں توان کی وجوہات ان دانوں سے مختلف ہو سکتی ہیں۔ اگر یہ شوگر کے مریضوں میں ہوں تو اس کا سبب بالعموم بلڈشوگر کی زیادتی ہوتی ہے اور جب مریض اسے کنٹرول کرنے لگتے ہیں تو یہ دانے بھی ٹھیک ہوجاتے ہیں۔چونکہ خارش پیدا کرنے والے دانوں کی مختلف اقسام ہیںلہٰذا ان کی باقاعدہ تشخیص ہونی چاہئے ۔

متعدی خارش ‘عام خارش سے کس طرح مختلف ہے؟
اگر یہ ایک ہی وقت میں فیملی کے کئی لوگوں کو ہو، اس سے جلد پر خصوصاً انگلیوں کے درمیان اور پیشاب والی یا بیلٹ باندھنے والی جگہ پر چھوٹے چھوٹے دانے بن گئے ہوں تو اس بات کی تشخیص ہونی چاہئے کہ کہیں یہ متعدی خارش تو نہیں۔بعض اوقات خارش پیدا کرنے والے دانے پیشاب یا پاخانے سے متعلق اعضائ‘ ان کے قریب جگہوں اور رانوں پر بھی بنتے ہیں۔ ان کی مختلف وجوہات میں سے ایک سکیبیز بھی ہو سکتی ہے ۔بعض اوقات اس کا سبب زیر ناف بالوں کی جڑمیں انفیکشن بھی ہوتاہے ۔اس لئے بہتر ہے کہ معالج سے رابطہ کیا جائے تاکہ درست تشخیص کیے ذریعے صحیح علاج کو ممکن بنایا جا سکے۔

اگر علامات سے خارش کی قسم کا پتہ نہ چلے تو کیا کچھ ٹیسٹ بھی کئے جاتے ہیں؟
جی ہاں!اگر صرف معائنے سے ان میں فرق نہ کیا جا سکے تو کئی طرح کے ٹیسٹ بھی اس میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ مثلاًجلد کی بائیوپسی بہت اچھا ٹیسٹ ہے جس سے فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ اس میں جلدکے ایک انچ کا چوتھائی یا اس سے بھی چھوٹاحصہ لیا جاتا ہے۔ ایک چھوٹا سا ٹانکہ لگتا ہے جسے لگاتے وقت پتہ بھی نہیں چلتااور نہ اس سے نشان پڑتا ہے۔ 10منٹ میں اس کا پروسیجر مکمل ہوجاتا ہے ۔ اس سے جلد کے اکثر مسائل جاننے میں مدد ملتی ہے تاہم پاکستان میں اس سے بہت کم فائدہ اٹھایا جاتا ہے۔میری نظر میں جلد کے 90فی صد مسائل میں کسی بائیوپسی کی ضرورت نہیں پڑتی۔اس کے علاوہ خون کے کچھ ٹیسٹ بھی اس میں معاون ثابت ہوتے ہیں۔ اگر کسی شخص کی جلد دھوپ سے حساس  ہو تو جلد پر مختلف شعاعیں ڈالنے کے بعد اس کے ردعمل کا جائزہ لیا جاتا ہے کہ اسے یہ مسئلہ ہے بھی یا نہیں، اور اگر ہے تو کس قسم کی شعاع سے ہے ۔ اس سے یہ بھی پتہ چلتا ہے کہ اس کی شدت کتنی ہے اور کیا اس کا سبب کوئی خاص دوا تو نہیں جو مریض استعمال کر رہا ہو۔

سردیوں میں بہت سے لوگ استعمال شدہ کپڑے اور جوتے پہنتے ہیں ۔ کیا ان کا استعمال محفوظ ہے؟
ان کے استعمال میں کوئی حرج نہیں تاہم اس سے قبل انہیں دھو کر اچھی طرح دھوپ لگوا لینی چاہئے‘ اس لئے کہ سورج کی روشنی میں بہت سی شعاعیں ہوتی ہیں جن میں سے کچھ جراثیم اور کیڑوں مکوڑوں کو ختم کرنے کی صلاحیت بھی رکھتی ہیں۔کپڑوں کو دھونے کے بعد اچھی طرح نتھارنا بھی ضروری ہے تاکہ ان میں صابن یا واشنگ پاﺅڈر ملا نہ رہ جائے‘ اس لئے کہ یہ چیزیں بھی بعض اوقات الرجی کا باعث بنتی ہیں ۔خواتین کپڑوں میں کیڑوں مکوڑوں کو داخل ہونے سے روکنے کے لئے فینائل  کی گولیاں رکھتی ہیں جو بڑی سمجھداری کی بات ہے ۔
٭کچھ ماہرین کہتے ہیں کہ پانی کم پینے سے جلد پر منفی اثر ہوتا ہے جبکہ دیگر کے نزدیک یہ محض مفروضہ ہے۔ آپ کیا کہتے ہیں ؟
٭٭اگر دیکھا جائے تو دونوں باتیں اپنی جگہ پر درست ہیں۔مثلاًہم دیکھتے ہیں کہ اگر ننھے بچے کاپیٹ جب خراب ہو جائے تو بعض اوقات وہ بے جان سا ہوجاتا ہے ۔ جب اسے ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا ہے تو وہ یہ دیکھنا چاہتا ہے کہ اس کے جسم میں پانی کی کمی تو نہیں ہوگئی۔ اس کے لئے وہ اس کی جلد پر ہلکی سی چٹکی لیتا ہے ۔ اگر وہ سخت یاکھردری ہو تو اسے اس بات کی علامت سمجھا جاتا ہے کہ بچے کے جسم میں پانی کی کمی ہے ۔ یوں ہم کہہ سکتے ہیں کہ جسم میں پانی کی کمی کا اثرجلد تک بھی پہنچتاہے تاہم یہ کمی اگرتھوڑی بہت ہو تو اس کا زیادہ اثر نہیں پڑتا‘ اس لئے کہ پانی کو پہلے معدے میں جانا اور پھر پورے جسم سے گزرنے کے بعد جلد تک پہنچنا ہوتاہے۔ جلد کے تناظرمیںزیادہ اثر اس پانی کا ہوگا جو جلد کوچھوئے گا۔

کیاگرمیوں اور سردیوں کی دھوپ میں کوئی فرق ہوتاہے؟
اگرچہ گرمیوں کی دھوپ کے اثرات زیادہ برے ہوتے ہیں لیکن لوگ چونکہ گرمی کی وجہ سے اس سے دور رہتے ہیں لہٰذا اس کے برے اثرات سے بڑی حد تک بچ جاتے ہیں۔ ہماری فضاءمیں زمین سے چند کلومیٹر اوپر اللہ تعالیٰ نے اوزون کی ایک تہہ بنائی ہے جو سورج کی مضرصحت شعاعوں کو اپنے اندر جذب کر لیتی اور ہم تک اس کی صرف صحت مند شعاعیں آنے دیتی ہے ۔ آلودگی‘ صنعتوں اورمختلف طرح کے سپرے وغیرہ کی وجہ سے شہروں کے اوپر اس میں بڑے بڑے سوراخ ہو گئے ہیں اور کچھ دیگر وجوہات کی بنا پر بھی اس کو نقصان پہنچ رہا ہے لہٰذا مضرصحت شعاعیں بلاروک ٹوک نیچے آ رہی ہیں۔ اس لئے جن لوگوں کے چہروں پر چھائیاں ہوں‘ وہ دھوپ میں نہ بیٹھیں اور اگر بیٹھنا ہو تو سورج کی طرف پیٹھ کر کے بیٹھیں تاکہ انہیں سورج کی حدت تو مل جائے لیکن ان کے چہرے یا دیگر کھلے ہوئے حصوں کی جلد خراب نہ ہو۔ مختصر یہ کہ دھوپ گرمیوں کی ہو یا سردیوں کی، اس میں زیادہ دیر نہ بیٹھنا چاہئے ۔اس سے بچنے کا سب سے آسان‘ مفید اور سستا نسخہ سن بلاک ہیں۔
بالوں میں ڈینڈرف کا کیا کریں ؟
اللہ تعالیٰ نے ہر بال کے ساتھ ایک گلینڈ پیدا کیا ہے جو اس کے لئے تیل پیدا کرتا ہے ۔اگر ہم بالوں کو نہیں دھوتے تو ان کی جڑوں پر پھپھوندی پیدا ہونا شروع ہو جاتی ہے جو ڈینڈرف کا سبب بنتی ہے۔اس لئے بالوں کو سردیوں میں بھی دھونا چاہئے، اور اگر ڈینڈرف ہو جائے تو اینٹی ڈینڈرف شیمپو استعمال کرنا چاہئے۔ اگرایک ہی اینٹی ڈینڈرف شیمپو باربار استعمال کیا جاتا رہے تو اس کے خلاف مزاحمت پید اہوجاتی ہے ‘اس لئے یہ بدل بدل کر استعمال کرنے چاہئیں۔

رنگنے سے بال خراب کیوں ہو جاتے ہیں؟
ایسی مصنوعات کے اندر کیمیکلز موجو دہوتے ہیں جو بعض لوگوں کے لئے مسائل پیدا کرتے ہیں۔ ہمیں ایسی چیزیں استعمال کرنی چاہئےں جو جلد پر الرجی نہ کریں۔ دوسری بات یہ ہے کہ رنگنے کے بعدبالوں کو نم کرنے کے لئے کنڈیشنر استعمال کریں۔

کنڈیشنر استعمال کرنے کے باوجود بعض اوقات بال ٹھیک نہیں ہوتے۔ اس کی کیا وجہ ہے؟
بالوں کی ایک خاص ساخت ہوتی ہے جسے تبدیل کیا جائے تو پھر مسائل پیدا ہوتے ہیں۔ مثلاً گھنگریالے بال خاص طرح کے کیمیائی بانڈ سے تشکیل پاتے ہیں اور جب انہیں سیدھا کرنا ہو تو پہلے سے موجود بانڈز کو توڑکر دوبارہ بانڈ تشکیل دیاجاتا ہے ۔اسی لئے اس کا نام ری بانڈنگ ہے ۔ اس کی وجہ سے بال کمزور ہو جاتے ہیں لہٰذا یہ نہ ہی کروایا جائے تو بہتر ہے‘ اور اگر ایسا کرنا ہو تو ذرا چھان پھٹک کر لی جائے‘ اس لئے کہ اس شعبے پر کنٹرول کچھ زیادہ موثر نہیں۔مختلف کمپنیوں کے تیارکردہ کلرز میں تقریباً 90فی صد اجزاءایک جیسے ہی ہوتے ہیں لہٰذا ان میں کوئی خاص فرق نہیں ہوتا ۔اچھا کلروہ ہے جو آپ کی جلد پر الرجی کا باعث نہ بنے اور اس سے بالوںکا ٹکسچر خراب نہ ہو۔ کچھ کمپنیاں اپنی مصنوعات میں ہائپو الرجینک اجزاءاستعمال کرتی ہیں جو الرجی کا کم باعث بنتے ہیں۔اگر ممکن ہو تو انہیں استعمال کرنا چاہئے۔

ہربل کلرز کے بارے میں کیا خیال ہے ؟
ہر چیز بنیادی طور پر اللہ نے ہی بنائی ہے اور ہم ان چیزوں کی مدد سے مزید چیزیں بنالیتے ہیں۔اس لئے کسی چیز کے ہربل ہونے یا نہ ہونے سے کوئی خاص فرق نہیں پڑتا۔میری نظر میں تو یہ خوف پیدا کر کے اپنی مصنوعات بیچنے اور معیار پر نظر رکھنے والے اداروں سے بچنے کا ایک طریقہ ہے۔ ایلوپیتھی کی ادویات پر لکھا ہوتا ہے کہ ان کی کتنی مقدار محفوظ ہے جبکہ اکثر ہربل چیزوں پر ایسا کچھ نہیں لکھاہوتا۔ یوں وہ زیادہ نقصان دہ ثابت ہو سکتی ہیں۔

اپنی گفتگو کوسمیٹتے ہوئے بتائے کہ ہم سردیوں میں اپنی جلد اور بالوں کی حفاظت کیسے کریں؟
کوئی بھی ایسا صابن، شیمپو، کلر، فیس واش یا باڈی واش استعمال نہ کریں جو الرجی پیداکرے، جلد کو خشک اور اس پر خارش پیدا کرے اوراس کے استعمال سے سرخی یا کھردا پن پیدا ہو جائے ۔صابن چکنائی کو دور کرتا ہے لیکن اسے اتنا استعمال نہ کریں کہ چکنائی بالکل ہی خشک ہوجائے اور جلدپھٹنے لگے۔ اس کے علاوہ اپنی جلد کو دھوپ اور سموگ سے بچائیں۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

    ہمارا دیس اس حوالے سے خوش قسمت ہے کہ اس میں تمام موس

گرمیوں کی نسبت سردیوں کے موسم میں ہوا میں نمی کاتناسب ک

نرم وملائم جلد‘ سردیوں میں کیسے

گرمیوں کے برعکس سردیوں میں ہوا میں نمی کاتناسب کم ہوجات