دفتروں میں سازشی کھیل کیسے نپٹیں

313

بہت سے دفتروں میں کام کرنے والے افراد یہ شکایت کرتے ہیں کہ وہ ذہنی دباو¿ اور دیگر نفسیاتی مسائل کا شکار رہتے ہیں۔ اس کا ایک سبب وہ ’مائنڈ گیمز‘ یا سازشی کھیلیں ہیں جن کا وہ اکثر نشانہ بنتے ہیں۔ان کے ساتھ ایسے کھیل کھیلنے والے افراد صورت حال کو ہوشیاری سے توڑ مروڑ کر پیش کرتے ہیں تاکہ وہ دوسروں کی آراءپراثرانداز ہوسکیں یا انہیں کنٹرول کرسکیں ۔ایسے معاملات سے جذباتیت کی بجائے تدبر سے نپٹنے کی ضرورت ہوتی ہے۔معروف سائکاٹرسٹ ڈاکٹر فوادقیصرکی ایک دلچسپ اور معلوماتی  Deal with office Politicsتحریر


گزشتہ چند سالوں کے دوران کام (ملازمت)سے متعلق ذہنی دباﺅ‘ ڈپریشن اور ذہنی اضطراب کی شرح میں بہت تیزی سے اضافہ ہوا ہے ۔ گزشتہ برس صرف برطانیہ میں اس کے44لاکھ40ہزار واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔کام کی جگہوں پر ذہنی صحت کو متاثر کرنے والے چند بڑے عوامل میں سے ایک ’مائنڈ گیمز‘یعنی سازشی کھیلیں ہیں۔
ان سے مراد سے وہ سوچی سمجھی کوششیں ہیں جن کا مقصد چالاکی اور ہوشیاری سے کسی پر اثرانداز ہونا ہے۔ایسے کھیل کھیلنے والا شخص بظاہربے ضرر گفتگو میں مخصوص خفیہ، جابرانہ اور سازباز کی مہارتیں استعمال کرتا ہے۔اس مقصد کے لئے زبان ایسی استعمال کی جاتی ہے جس سے دوسرا فرد کنفیوژ ہوجائے اور وہ کھیل کھیلنے والے کے اصل عزائم سے آگاہ نہ ہو سکے۔یہ ہتھکنڈے بالعموم کام کی جگہوں، فیملیوں اور دیگر تعلقات میں اختیار کئے جاتے ہیں۔

یہ کھیل کچھ اس طرح سے کھیلا جاتا ہے کہ اس کا شکار فردیہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہے کہ مخصوص معاملے میں قصور اسی کا ہے یا اس کا نقطہ نظر انتہائی فضول اور غیر متعلق ہے۔ لہٰذا اسے اپنی سوچ کا رخ تبدیل کراسے گیم کھیلنے والے کے نقطہ نظرسے ہم آہنگ کر لینا چاہئے۔
ایسی گیمیں کھیلنے کے پس پردہ ایک بڑا سبب لوگوں کا اپنی زندگیوں میں عدم احسا س تحفظ کا شکار ہونا ہے ۔ اس حکمت عملی سے وہ اس کنٹرول کو حاصل یا محفوظ کرنا چاہتے ہیں جس سے وہ محروم ہوتے ہیں۔اس مقصد کے لئے وہ صورت حال کو توڑ مروڑ کر پیش کرنے کی مہارتیں اور اپنے اختیارات کو بروئے کار لاتے ہیں تاکہ( عدم تحفظ کے احساس کے نتیجے میں پیدا شدہ) اپنے اندر کے خلا کو پر کرسکیں۔ اس سے انہیں یہ احساس ہوتا ہے کہ صورت حال اور لوگ ان کے کنٹرول میں ہےں۔
ان مسائل کی وجہ سے نشانہ بننے والا فرد اپنے آپ کو بہت تنہا، خوفزدہ ، دھونس کا شکار،احساس کمتری میں مبتلا اور خوداعتمادی سے محروم محسوس کرنے لگتا ہے۔ سوال یہ ہے کہ کام کی جگہوں پر غنڈہ گردی کی اس ڈھکی چھپی شکل کو ظہورپذیر ہونے سے کیسے روکا جائے اور لوگوں کوایسے رویوں سے کیسے بچایا جائے ؟

اس کابہترین طریقہ یہ ہے کہ اس کا شکار فرد گیم کھیلنے والے کی سوچ اور اس مخصوص صورت حال سے اوپر اٹھ جائے۔ایسے میں اس کے اندر اس خواہش کا پیداہونا فطری ہے کہ وہ بھی اس کے خلاف جوابی کارووائی کے طور پر ایسا ہی کھیل کھیلے ۔تاہم ایسا کرنے سے صورت حال مزید گھمبیراور بدتر ہو جاتی ہے ۔اس لئے ضروری ہے کہ اس پر بازی لے جانے کی شدیدخواہش پر قابو پائے ۔

اس کے لئے پیشہ ورانہ مشورہ یہ ہے کہ وہ ٹھنڈے دل اور پرسکون اندازسے اپنا ردعمل ظاہر کرے اور کسی طرح کی جذباتیت کو قریب نہ پھٹکنے دے۔وہ غیر محسوس انداز میں اسے باور کرائے کہ وہ جو کچھ کر رہاہے‘ وہ کوئی قابل تحسین چیز نہیں ۔اگر اس طرح کیا جائے تو اس بات کے امکانات ہیں کہ دوسری طرف سے نہ صرف معذرت کی جائے گی بلکہ اس رویے کو ختم کر دیا جائے گا۔اس کے ساتھ ساتھ آپ کی شخصیت نظم و ضبط کے حامل اور محتاط فرد کے طور پر ابھرے گی۔ دوسرا اور نسبتاً آسان راستہ یہ ہے کہ گیم کھیلنے والے فرد سے فاصلہ پیدا کرلیا جائے ۔ بعض اوقات مسائل پیدا کرنے والے سبب سے محض دوری ہی معاملے کو سلجھا دیتی ہے ۔
قصہ مختصر’مائنڈ گیم‘ دھونس جمانے کی وہ شکل ہے جس میں تیزی سے اضافہ ہو رہاہے ۔ اسے بالعموم نظرانداز کر دیا جاتا ہے حالانکہ یہ عامل کام کی جگہوں پراور دیگر سماجی تعلقات میں تباہ کن اثرات کا حامل ہوتا ہے ۔یہ بہت اہم ہے کہ اس کا نشانہ بننے والے افراد کو صحیح وقت پر صحیح اور مکمل سپورٹ فراہم کی جائے اورمسئلے کو حل کئے بغیرنہ چھوڑا جائے ۔اس معاملے میں تاخیر ہر گز نہ کی جانی چاہئے۔

Leave a Reply

Leave a Reply

  Subscribe  
Notify of