کاربز ایک اہم غذائی جزو

366

وائرس اور بیکٹیریا جیسے خوردبینی جانداروں سے لے کر ہاتھی جیسے دیوقامت جانوروں تک سبھی کو زندہ رہنے ‘ نشوونما پانے اور اپنی سرگرمیاں جاری رکھنے کے لئے ایندھن درکار ہوتا ہے۔ جس طرح گاڑیاں‘ جہازاور دیگر مشینیں توانائی کے بغیر نہیں چل سکتیں‘ اسی طرح نباتات و حیوانات سمیت تمام جاندار اس کے بغیر ناکارہ ہوجاتے ہیں۔ وہ یہ ایندھن غذاکی شکل میں حاصل کرتے ہیں۔ یہاں ہمیں یہ حقیقت بھی یاد رکھنی چاہئے کہ توانائی نہ تو بنائی جاسکتی ہے اور نہ ہی وہ ختم ہوتی ہے بلکہ ضرورت کے مطابق اپنی نوعیت بدل لیتی ہے۔ مثال کے طور پر حرارت کو حرکت‘ روشنی یا برقی توانائی میں بدلا جا سکتا ہے۔ اسی طرح ایٹمی توانائی کو ایٹم کا سینہ چیر کر نکالا جاتا ہے۔

قدرت کے کھیل
قدرت نے ہم انسانوں کی سہولت کے لئے سورج کو توانائی کا ذریعہ بنایاہے جس کی روشنی 93 ملین میل کا طویل سفر طے کر کے ہم تک پہنچتی ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زمین کو اس توانائی کا صرف ایک ارب واں حصہ ہی ملتا ہے۔ اس سے اندازہ لگائیں کہ سورج میں کل کتنی توانائی پیدا ہوتی ہوگی۔ پودے ‘ فصلیں اور دیگر نباتات سورج کی روشنی کو استعمال میں لا کر اپنے اندر موجود ایک سبز رنگ کے مادے کلوروفل (chlorophyll) کی مدد سے کاربوہائیڈریٹس(کاربز) کی شکل میں خوراک تیار کرتے ہیں۔ اس مقصد کے لئے وہ ہوا میں موجود کاربن ڈائی آکسائیڈ میں سے کاربن اور زمین میںسے پانی کو استعمال میں لاتے ہیں۔ یوں کاربزمیںبنیادی طورپرتین عناصر کاربن‘ہائیڈروجن اور آکسیجن شامل ہوتے ہیں۔ ہائیڈروجن اور آکسیجن کے ملنے سے پانی بنتا ہے اور کوئلہ کاربن کی ایک شکل ہے۔ اگر ہم پانی میں کوئلے کا چورا شامل کر کے دھوپ میں رکھ دیں تو سیاہ رنگ کے گندے سے محلول کے علاوہ کچھ حاصل نہ ہوگا لیکن یہ قدرت کے کھیل ہیں کہ کوئلے اور پانی کو سورج کی روشنی میں گوندھ کر کاربز کی شکل میں خوراک تیار کر دیتی ہے ۔ دنیا میں ہمیںجو بھی میٹھی چیزیں نظر آتی ہیں‘ وہ سب کاربز سے بنی ہوتی ہیں اور اُن میں مذکورہ بالا تین عناصراور سورج کی توانائی بھری ہوتی ہے۔ قارئین ایک بات نوٹ فرما لیں کہ تمام کاربز کے نام اوز(ose)پر ختم ہوتے ہیں۔
کاربز کی تیاری میں جو آکسیجن بچ جاتی ہے‘پودے اسے آس پاس کی فضاءمیںخارج کردیتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ درختوں اور پودوں کی موجودگی میں فضاءمیںآکسیجن کی کمی نہیں ہوتی اور دن کے وقت درختوں تلے بیٹھنا صحت کے لئے مفید ہے۔ سورج غروب ہونے کے بعد درخت بھی ہماری طرح کاربن ڈائی آکسائیڈ خارج کرتے ہیں لہٰذا رات کے وقت درختوں کے نیچے سونا اچھا نہیں۔

کاربز کی اقسام
کاربز کی دو بڑی اقسام سادہ اور پیچیدہ کاربز ہیں:

سادہ کاربز
سادہ کاربز‘ گلوکوز (glucose)فریکٹوز(fructose) اور مالٹوز(maltose) کی صورت میں دستیاب ہے۔ دودھ میں ایک خاص کارب لیکٹوز(lactose) پایا جاتا ہے جس سے گلیکٹوز(galactose)اورگلوکوز بنتا ہے۔ اس کے علاوہ کئی پھلوں اور اشیائے خوردنی میں دویازیادہ قسم کی چینی شامل ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر شہد میں نہ صرف گلوکوز اور فریکٹوز خاصی مقدار میں پائے جاتے ہیں بلکہ اس میں کسی حد تک مالٹوز بھی شامل ہوتا ہے۔ اسی طرح عام استعمال ہونے والی چینی (جو گنے کے رس یا خاص چقندر سے بنائی جاتی ہے) میں گلوکوز اورفریکٹوز موجود ہوتا ہے۔عام میٹھی اشیاءکوسادہ چینی (simple carbohydrates) کہاجاجاتاہے کیونکہ وہ باآسانی خون میں حل ہوجاتی ہیں۔

پیچیدہ کاربز
پیچیدہ کاربز نشاستے (starch)اورسیلولوز (cellulose) کی صورت میں موجود ہیں۔سیلولوز درختوں اور پھلوں میں ریشے (fiber) کی صورت میں پایا جاتا ہے جسے عام حالات میں ہضم نہیں کیاجاسکتا۔ لکڑی بھی پیچیدہ کاربز کی ایک قسم ہے جس کا کام درختوں کے تنوں کومضبوطی فراہم کرناہے تاہم بعض جانداراسے بھی غذا کے طور پر کھا کر ہضم کرجاتے ہیں۔ کچھ قسم کی گھاس بھی اس میں شامل ہے۔
بعض پیچیدہ کاربزایسے بھی ہیں جو عام حالات میں ہضم نہیں ہوتے لیکن کوٹنے اور پکانے کے بعدجب انہیںنظام انہضام میں سے گزارا جاتا ہے تو ان کا کچھ حصہ ہضم ہو کر ہمارے جسم کو توانائی پہنچاتا ہے۔ یہ کاربز ہاضمے میں وقت لیتے ہیں لہٰذا ان کے استعمال سے خون میں شوگرکی مقدار اچانک بڑھنے کی بجائے بتدریج بڑھتی ہے۔
کاربز پر مزید گفتگو سے قبل دو اہم موضوعات یا اصطلاحات ”کیلوریز“ اور” گلائسیمک انڈیکس“کوسمجھنا بہت ضروری ہے۔

کیلوریز کیا ہیں
خوراک یاموٹاپے کے تناظر میں کیلوریز کاذکراکثر سننے میں آتا ہے۔ ان کی مثال گاڑی میںڈالے گئے پٹرول جیسی ہے۔ ایک تجربہ کار ڈرائیور کو پوری طرح سے علم ہوتا ہے کہ اُس کی گاڑی ایک لیٹر پٹرول ڈالنے پر کتنے کیلو میٹر کا فاصلہ طے کرسکے گی۔کیلوریز کا معاملہ بھی کچھ ایسا ہی ہے۔ سائنسدانوں نے اشیائے خورونوش کا اچھی طرح تجزیہ کر کے معلوم کیا ہے کہ ہر چیز میں کتنی کیلوریز شامل ہوتی ہیں۔انہوںنے یہ بھی اندازہ لگایا کہ اگر کوئی شخص ایسی زندگی بسر کر رہا ہے جس میں اسے مزدوروں کی طرح جسمانی مشقت نہیں کرنا پڑتی تو اسے24گھنٹوں کے دوران کتنے ایندھن کی ضرورت ہو گی۔ اس کے برعکس سارا دن کدال اور بیلچہ چلانے والے یا سڑک کے کنارے پتھر کوٹنے والے مزدور کو اس کی کتنی مقدار درکار ہوگی۔ اسی طرح اگرچہ ایک بچے کا جسم بڑے کی نسبت چھوٹاہوتا ہے لیکن اسے نہ صرف اپنی نشوونما بلکہ جسمانی سرگرمیوں کے لئے بھی کیلوریز چاہئے ہوتی ہیں جو غذا سے حاصل ہوتی ہیں۔ اسی طرح حاملہ خاتون کو بھی ان کی ضرورت ہوتی ہے۔
عام حالات میں مردوں کو روزانہ اوسطاً  2500 سے3000  جبکہ خواتین کو2000 سے2500  کیلوریز کی ضرورت ہوتی ہے تاہم ہر شخص کے حالات کے مطابق اس کی مقدار میں تبدیلی ہوتی رہتی ہے۔ مثلاً اگر ایک شخص کوہ پیمائی کرتا ہے تو اسے اونچے پہاڑوں پر چڑھنے اور ان کی چوٹیوں پریخ بستہ ہواﺅں اور موسم کی سختیوں کا بھی مقابلہ کرنا ہوتا ہے لہٰذا اس کی کیلوریز کی ضرورت بڑھ کر7000 یا 8000 تک چلی جاتی ہے۔بخار کی حالت میں ہمارا جسم معمول سے زیادہ ایندھن خرچ کر رہا ہوتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جن بیماریوں (مثلاً ٹی بی اور ٹائیفائیڈ وغیرہ) میںبخار کئی دن تک رہتا ہے‘ ان میں جسمانی کمزوری بڑھ جاتی ہے اور مریض کا وزن بھی کم ہوجاتا ہے۔

سائنسدانوں نے یہ بھی معلوم کیا ہے کہ غذا میں شامل تین قسم کی چیزیں کاربز‘پروٹینز اور چکنائیاں (fats)ایندھن کا کام دیتی ہیں۔ ان تینوں میں سے اول الذکر دوچیزوں(کاربز اور پروٹینز) کی ایک گرام مقدار میں چار جبکہ چکنائی کے ایک گرام میں نو (9)کیلوریز پائی جاتی ہیں۔یہی وجہ ہے کہ مرغن غذائیں مثلاً تلی ہوئی مچھلی‘آلو کے قتلے یا پراٹھے اور سموسے پکوڑے وغیرہ کھانے سے وزن جلدی بڑھتا ہے۔

مزید پڑھیں/ Read More

متعلقہ اشاعت/ Related Posts

    ملازمین خواہ سرکاری ہوں یا پرائیویٹ، اکثر کے لئے ”

Doctors in this segment shed light on their specialties to give you awareness about your common prob

خوراک کے ذریعے وزن کم کرنے کے خواہشمند افراد میںکیٹوجی