• Home
  • Uncategorized
  • برش کرنے کا وقت اور طریقہ ٹھیک ہونا چاہئے !

برش کرنے کا وقت اور طریقہ ٹھیک ہونا چاہئے !

6

شفاانٹڑنیشنل ہسپتال آسلام اباد میں بطور ڈینٹل ہائی جینسٹ خدمات انجام دینے والی فوزیہ نورین کہتی ہیں:
٭پان سپاری‘ چائے ‘سگریٹ اور میٹھی چیزیں زیادہ مقدار میں استعمال کرنے سے دانت خراب ہو جاتے ہیں۔ان کا استعمال کم سے کم کرناچاہئے اور جب بھی انہیں استعمال کریں‘ اس کے بعد دانت صا ف کریں یاپھر کلی کر لیں۔سگریٹ پینے کے بعد برش کر دیاجائے تودانتوں پر داغ پختہ نہیںہوتے۔ اسی طرح چائے پینے کے بعد برش‘یا کم از کم قلی ہی کر لی جائے توپتی وغیرہ نکل جاتی ہے اور داغ نہیں لگتے۔
٭دانتوں کی صحت کیلئے برش کرنے کا طریقہ کار بھی ٹھیک ہونا چاہئے ۔برش دائیں بائیں کی بجائے اوپر نیچے کرنا چاہئے۔اوپروالے دانتوں کو نیچے کی طرف اور نچلے دانتوں کو اوپر کی طرف نرمی سے صاف کرنا چاہئے۔دائیں بائیںبرش کرنے سے دانتوں کے درمیان کی جگہیں صاف نہیں ہو پاتیں اور خوراک کے ذرات باہر نکلنے کی بجائے دائیں بائیں مسوڑھوں میںچلے جاتے ہیں۔ برش ٹھیک طرح سے کرنے میںوقت تھوڑا زیادہ لگتا ہے لیکن یہی بہتر عمل ہے۔مزید براںزبان پر بھی برش کرنا چاہئے۔
٭ دانت صاف کرنے کیلئے نرم برش استعمال کرنا چاہئے ۔بعض لوگ سخت برش سے اوربہت رگڑ رگڑ کردانت صاف کرتے ہیں جو درست نہیں۔اس سے مسوڑھے اپنی جڑوں کی طرف نیچے ہو جاتے ہیں اوردانتوں کی بیرونی تہہ بھی اتر جاتی ہے۔ اگریہ تہہ اُتر جائے تودانتوں کو ٹھنڈا گرم لگنا شروع ہو جاتا ہے۔

٭اچھے اور صحت مند دانتوںکیلئے برش کرنے کاموزوں وقت بھی بہت اہم ہے جو رات کو سونے سے پہلے اور صبح ناشتے کے بعد کا ہے۔رات کو سونے سے پہلے جب دانت صاف کئے جاتے ہیں تو اس کے بعد کھانے کی کوئی چیز منہ میں نہیں جاتی اوررات بھر صاف ہوا خوراک کے ذرات‘ گندگی اور بیکٹیریا کی رکاوٹ کے بغیر اندر جاتی ہے۔ ناشتے کے بعد دانت صاف کرنے کی حکمت یہ ہے کہ وہ دن کے کھانے تک صاف رہیں گے۔ زیادہ دیرتک دانت صاف رہنے کی وجہ سے بیکٹیریا وغیرہ کو پرورش پانے کا موقع نہیں ملتا اور دانت گلنے سڑنے سے بچ جائیں گے۔
٭ دانتوں کی صفائی کیلئے برش کے ساتھ ساتھ فلاسنگ بھی ضروری ہے۔ برش سے دانت صاف تو ہوجاتے ہیں لیکن دانتوںکے درمیان کی خالی اچھی طرح صاف ہونے سے رہ جاتی ہیں۔ فلاسنگ کیلئے تھوڑا سا دھاگہ دانتوں کے خلا کے درمیان ڈال کر اسے نرمی سے صاف کیا جاتا ہے۔ڈینٹل فلاس بازار سے با آسانی مل جاتا ہے جو نرم اور جراثیم سے پاک ہوتا ہے اور زخمی نہیںکرتا‘ لہٰذا عام دھاگے کی بجائے اسی سے فلاسنگ کرنی چاہئے ۔
٭ کوئی بھی ٹوتھ پیسٹ جس میں فلورائیڈ موجودہو‘ استعمال کیا جا سکتا ہے۔ میڈیکیٹڈ ٹوتھ پیسٹ ڈینٹسٹ کی اجازت کے بغیرلمبے عرصے تک استعمال نہیںکرنا چاہئے۔ ایک عددٹیوب کے بعد اسے چھوڑ دینا چاہئے‘ اس لئے کہ ان کے مضر اثرات بھی ہوتے ہیں۔

٭ٹوتھ پیسٹ کاکام دانتوں کی صفائی کے علاوہ ہمارے منہ‘ لعاب اور دانتوںپر موجودجراثیم کو ختم کرنا اور کیوٹیز بننے یا کیڑا لگنے سے روکنا ہے۔اس کے علاوہ یہ انفیکشن کوبھی ختم کرتا ہے۔
٭بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ دانتوں کی سکیلنگ سے ان کی بیرونی تہہ اتر جاتی ہے‘ دانت پتلے ہو جاتے ہیں‘ ان میں خلا آجاتا ہے اور دانتوں کو ٹھنڈا گرم لگتا ہے۔ یہ سب غلط تصورات ہیں۔ اگر ٹھیک طرح سے سکیلنگ کی جائے تواس میں دانتوں کی بجائے صرف مسوڑھوںکوچھوا جاتا ہے جبکہ دانتوںکی صرف پالشنگ ہوتی ہے۔ دانتوںکی بیرونی تہہ ٹھنڈا گرم لگنے سے روکتی ہے جو میل کچیل سے متاثر ہوتی ہے۔ میل کچیل کی تہہ عارضی طور پرٹھندا گرم لگنے سے روک رہی ہوتی ہے اورسکیلنگ کے بعدجب وہ ہٹ جاتی ہے تو ہفتے بھر کیلئے دانتوں کو ٹھنڈا گرم لگتا ہے۔
٭سال میں ایک بارلازماً اوردانت میں تکلیف کی صورت میں بات روٹ کینال تک جانے سے پہلے ڈینٹسٹ کے پاس لازماًجانا چاہئے ۔