پاخانے میں خون

1.576K

27سالہ امجد رحمان ‘پاخانے میں خون آنے کی وجہ سے پریشان تھااور شرم کی وجہ سے کسی سے اس کا ذکر بھی نہیں کر تا تھا۔ جب معاملہ کنٹرول سے باہر ہونے لگا تو اس نے اردگرد لوگوں سے با ت کی جنہوں نے اسے بتایا کہ یہ بواسیر ہے۔اس نے ان کے مشورے سے اس کے کچھ ٹوٹکے آزمائے لیکن کوئی فائدہ نہ ہوا۔ اس نے ایک جگہ ”بواسیر کا شرطیہ علاج“ کا بورڈ دیکھا تو اس کی جان میں جان آئی ۔ اس نے وہاں سے علاج کرواناشروع کیا مگر معاملہ ”مرض بڑھتا گیا‘ جوں جوں دوا کی“ والا تھا۔بالآخر ایک دن وہ اس شعبے کے ماہر ڈاکٹر (colo-rectal surgeon) کے پاس چلا گیاجس نے معائنے کے بعد بتایا کہ اسے بواسیر تو تھی ہی نہیں۔ یہ اس سے الگ کوئی علامت تھی جو ہلکے پھلکے علاج سے ٹھیک ہو گیا۔

پاخانے میں خون آنا ایک ایسا مسئلہ ہے جو تقریباً ہر شخص کو زندگی میں کم از کم چند بار ضرور پیش آتا ہے۔اکثر اوقات اسے بواسیر(piles) کہااور سمجھاجاتا ہے لیکن ضروری نہیں کہ ہر بار ایسا ہی ہو‘ اس لئے کہ اس کے علاوہ بھی کئی بیماریاں اس کا سبب بن سکتی ہیں۔ بعض اوقات ےہ کیفیت کسی پیچیدہ بیماری کی علامت بھی ہو سکتی ہے جن میں بڑی آنت کا کینسر خصوصی طورپر قابل ذکر ہے۔

مسئلے کی وجوہات

پاخانے میں خون آنے کی عام وجوہات بواسیر اور اینل فشر (anal fissures) ہیں جبکہ دیگر وجوہات میں بڑی آنت اور مقعد کاکینسر‘ آنتوں کی سوزش ‘بڑی آنت کا انفیکشن اورخون کی نالیوں کی بیماریاں شامل ہیں ۔
بواسیر مقعد(anus) میں موجود خون کی نالیوں کے سائز میں اضافے کا نام ہے۔اس کی بڑی وجوہات موٹاپا‘ موروثیت ‘ حمل اور بڑھاپا ہیں۔خون کی نالیاں سائز میں بڑھنے پر وہ پاخانے کی رگڑ سے باآسانی سے بلیڈ کرنا(ان سے خون آنا) شروع کردیتی ہیں اور کبھی کبھی پاخانے کے راستے باہر بھی نکلنے لگتی ہیں ۔

بعض اوقات مقعد میں لمبائی کے رُخ پرایک زخم بن جاتا ہے جسے ”اےنل فشر“ کہا جاتا ہے۔ اس کی زیادہ عام وجہ پاخانے کا سخت ہونا ہے۔حاملہ خواتین میں اےسا زچگی کے بعد بھی ہوسکتا ہے۔ بعض اوقات پاخانے کے مقام ےعنی مقعد میں کےنسرہو جاتا ہے۔ اس وجہ سے بھی پاخانے میںسرخ تازہ خون آسکتا ہے۔

خون آنے کی شکلیں
پاخانے میں خون آنے کی درج ذیل شکلیں ہوسکتی ہیں:
٭سرخ رنگ کا تازہ خون جو پاخانے سے پہلے‘بعد میں یا اس کے ساتھ آسکتا ہے۔
٭جما ہوا ےعنی لوتھڑوں کی شکل میں خون آنا۔
٭پیچش(lose motion) کے ساتھ خون آنا۔
٭کالے رنگ کا پاخانہ آنا۔
٭لگاتار زیادہ مقدار میںخون آنا۔

پاخانے میں سرخ رنگ کا تازہ خون آئے تواس کی بڑی وجوہات بواسیر‘ اینل فشر اور اینل کینسر ہیں۔پاخانے کے ساتھ خون اگر جما ہوایالوتھڑوںکی شکل آئے تویہعام طو رپر کسی پیچیدہ بیماری کی علامت ہوتا ہے۔ اکثر اوقات یہ بڑی آنت کے آخری حصے یا معدے کے کینسر‘ معدے کی بیماریوں اور السر کی وجہ سے آتا ہے۔ آنتوں سے گزرتے ہوئے خون کی ساخت میں تبدیلی آجاتی ہے اور وہ مکمل طو رپر پاخانے کا حصہ بن کر اس کی رنگت کو سیاہ کردیتا ہے۔ چونکہ یہ بھی پیچیدہ امراض کی علامت ہے‘ اس لئے مرےض کو بلاتاخیر ڈاکٹر سے رجوع کرنا چاہئے۔ نیز اگر خونپیچش کے ساتھ آئے تو اس کا سبب آنتوں کی سوزش ‘ انفیکشن یا فوڈپوائزننگ ہوتا ہے ۔اس صورت میں بھی فوراً ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے ۔
پاخانے میں بار بار خون آنا انتہائی سنجیدہ اور جان لیوا صورتحال ہوتی ہے جو اکثر بڑی آنت کے اند رخون کی نالی کے پھٹنے یا معدے کے السر کی وجہ سے پیش آتی ہے۔ ایسے میںمریض کو فوراً ہسپتال پہنچانا چاہیے ورنہ چند گھنٹوں میں مریض کی موت واقع ہوسکتی ہے۔

کرنے کے کام
پاخانے میں خون کی مختلف اقسام ہیںجن کی وجوہات غذائی بے اعتدالی سے لے کر کینسر جیسی مہلک بیماریاں تک ہو سکتی ہیں۔ اگر کسی شخص کو ایک بار معمولی مقدار میںخون آئے اور پھر کبھی نہ آئے توبالعموم زیادہ فکر مند ہونے کی ضرورت نہیں ہوتی اورغذا میں پھلوں‘ سبزیوں‘ فائبر(چوکر والا آٹا ‘بران بریڈ وغیرہ) کا استعمال بڑھانے سے بالعموم مسئلہ حل ہوجاتا ہے ۔اس کے علاوہ پانی زیادہ مقدار میں پینا چاہیے اور زیادہ مرغن غذاﺅں سے پرہیز کرنا چاہیے۔ اگر زےادہ خون آئے تواس شعبے کے ڈاکٹر سے رجوع کرناچاہیے ۔اگر وہ دستےاب نہ ہو تو عام سرجن سے بھی رابطہ کیا جا سکتا ہے ۔ابتدائی طور پر جنرل پریکٹیشنرز بھی مریض کی خاطر خواہ رہنمائی کرسکتے ہیں۔

بچاﺅ کے اہم اقدامات
ہمیںصاف ستھری اور متوازن غذا کا زیادہ استعمال کرنا چاہیے۔ اپنی غذا میں فائبر کی مقدار کو بڑھانا چاہیے۔سبزیاں ‘ پھل‘ تازہ دودھ اور گوشت کامتوازن استعمال کرنا چاہیے۔ مرغن غذاﺅں کا بہت زیادہ استعمال اور لمبے عرصے تک فاسٹ فوڈ اورڈبہ بند (Packed)خوراک کھانے سے ےہ بیماریاں لاحق ہو سکتی ہیں۔

لیب ٹیسٹ
پاخانے کی اکثر بیماریوں مثلاًبواسیر‘فشر‘فسچولا (fistula) اور اینل کینسر کی تشخیص ڈاکٹر اپنے کلینک میں پروکٹوسکوپی (Proctoscopy) کی مدد سے کرلیتے ہیں اور مریض کوزیادہ ٹےسٹ کرانے کی ضرورت نہیں پڑتی۔البتہ کینسر یا آنتوں کی سوزش وغیرہ کاشبہ ہوتو مریض کو کیمرے سے بڑی آنت کے معائنے (Colonoscopy)‘ سی ٹی سکین‘ ایم آرآئی یادیگر پیچیدہ ٹیسٹ کرانے کی ضرورت پڑسکتی ہے۔
نیم حکیموں اوراتائیوں کی طرف سے اشتہارات میںاس کے علاج کا دعویٰ کیا جاتا ہے لیکن اکثراوقات ان کے پاس ان بیماریوں کے بارے میں خاطر خواہ معلومات نہیں ہوتیں۔وہ پاخانے میں خون کی سب بیماریوں کو عام طو رپر بواسیر ہی کہتے ہیں اور ان سب کا علاج ایک ہی طرح سے کرتے ہیں۔ جب بیماریاں مختلف نوعیت کی ہیں تو لامحالہ ان کا علاج بھی مختلف ہوگا۔بہت سارے لوگوں کی بیماریاں ان لوگوں کے غلط علاج کی وجہ سے انتہائی پیچیدہ شکل اختیار کرلیتی ہیں جس کی وجہ سے ان کا صحےح علاج بہت مشکل اور مہنگا ہوجاتا ہے۔لہٰذا ایسے لوگوں سے محتاط رہنا چاہیے اور صرف مستندڈاکٹرسے ہی رجوع کرنا چاہیے۔