بریسٹ کینسر کی سکریننگ میں مصنوعی ذہانت کے استعمال میں اہم پیش رفت ہوئی ہے۔ ایک اے آئی نظام کو بعض ایسے میموگرام خود نارمل قرار دینے کی منظوری مل گئی ہے، جن میں کوئی مشتبہ علامت نظر نہ آئے۔
برلن کی کمپنی وارا کے تیار کردہ اے آئی نظام کو یورپ میں اس مقصد کے لیے سی ای سرٹیفکیشن دیی گئی ہے۔ اس کے تحت واضح طور پر نارمل قرار دیے گئے سکریننگ میموگرامز کو ریڈیولوجسٹ کے جائزے کے بغیر رپورٹ کیا جاسکے گا۔
جن میموگرامز میں کوئی مشتبہ یا غیر معمولی علامت ہوگی۔ ان کا جائزہ ریڈیالوجسٹ لے گا۔ اس طریقے سے ماہرین کو مشتبہ اور پیچیدہ کیسز پر زیادہ توجہ دینے کا موقع مل سکتا ہے۔
وارا کا اے آئی نظام جرمنی کے بریسٹ سکریننگ پروگرام میں پہلے ہی استعمال ہورہا ہے۔ اس نظام کے استعمال پر ہونے والی ایک بڑی تحقیق میں 4 لاکھ 63 ہزار سے زائد خواتین کی سکریننگ کا جائزہ لیا گیا۔
نتائج کے مطابق اے آئی کی مدد سے ہر ایک ہزار خواتین میں 6.7 بریسٹ کینسر شناخت ہوئے۔ تاہم روایتی جانچ میں یہ شرح 5.7 فی ہزار تھی۔ اس طرح کینسر کی شناخت کی شرح 17.6 فیصد زیادہ رہی۔
واضح رہے کہ اس تحقیق میں اے آئی نے ریڈیالوجسٹ کی جگہ مکمل طور پر نہیں لی۔ نئی منظوری بھی صرف واضح طور پر نارمل قرار دیے جانے والے مخصوص سکریننگ میموگرامز تک محدود ہے۔