چینی طریقہ علاج ، تاریخی تناظر میں

48

چینی طریقہ علاج ، تاریخی تناظر میں

نگہداشتِ صحت کیلئے ہمارے ہاں ایلوپیتھی‘ ہومیوپیتھی اور ایورویدک طریقہ ہائے علاج رائج ہیں جبکہ ہمارے عظیم ہمسایہ اور دوست ملک چین میں آکوپنکچر صدیوں سے رائج ہے۔ اس قدیم طریقہ علاج کے معرض ِ وجود میں آنے سے متعلق ایک دلچسپ روایت بہت مشہور ہے۔ کہا جاتا ہے کہ جنگ کے دوران چینی سپاہی مسلسل شمشیرزنی اور تیر اندازی کے سبب کندھے منجمد ہوجانے کے مرض میں مبتلا ہو جاتے تھے۔ اس زمانے میں کندھوں کو پیش آنے والا یہ مسئلہ لاعلاج ہوا کرتا تھا اور اس کا شکار ہونے والے سپاہی اس کے ساتھ زندگی گزارنے اور بعض صورتوں میں جنگ لڑنے پر بھی مجبور ہوتے تھے ۔

ایک دفعہ اس کیفیت کے شکار سپاہی کو ٹانگ پر تیر لگا جس سے حیرت انگیز طور پر اس کاکندھا ٹھیک ہو گیا۔ جب وہ ا پنے گائوں واپس پہنچا اورایک معالج کویہ واقعہ سنایا تو اس نے یقین کرنے سے انکار کردیا۔ عین اس وقت اسی کیفیت کے ساتھ ا یک اور مریض بھی کلینک میں موجود تھا۔ اس نے جب دونوں کی گفتگو سنی تومعالج سے کہا کہ وہ اس کی ٹانگ کے بالکل اسی مقام پر ز خم لگائے۔ تھوڑے سے پس و پیش کے بعد معالج تیار ہو گیا۔

جب اس نے تیر کی نوک سے اس مقام پر زخم لگایا تو اس کے کندھے کا مسئلہ بھی حل ہو گیا۔ یوں یہ سلسلہ چل نکلا اور اس کے پاس جو مریض اس شکایت کے ساتھ آتا ‘ وہ اس کا اسی طرح علاج کرتا۔اس مقصد کے لئے ابتدا میں تیرکا ہی استعمال ہوتا‘ پھراس کی جگہ چاقو نے لے لیا‘ اس کے بعد پتھر اور پھر مختلف دھاتوں سے بنی سوئیاں استعمال ہونے لگیں۔

روایات اور حکایات سے ہٹ کر حوالوں کی نظر سے دیکھا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ چینی طب پر لکھی جانے والی قدیم کتاب ”Huand Di Neijing”  میں بھی آکوپنکچر کا تذکرہ موجود ہے ۔ یہ کتاب چینی شہنشاہ ”Huang Ti” نے اپنے ایک فزیشن  ”Chi Po” کے ساتھ مل کر ایک مکالمے کی صورت میں لکھی تھی۔ اس میں شہنشاہ سوال کرتا ہے اورفزیشن ان سوالوں کے جوابات دیتاہے ۔

مذکورہ شواہد سے اس بات کی تصدیق ہوجاتی ہے کہ آکوپنکچر کا وجود تین ہزار سال سے بھی پہلے موجود تھا۔مزید براں ماہرین ِ آثار قدیمہ کو منگولیا میں کھنڈرات کی کھدائیوں کے دوران بھی تین ہزار سال پرانی پتھر‘سونے اور چاندی کی بنی ہوئی سوئیاں ملی ہیں ۔ان سوئیوں کے بارے میں بھی خیال کیا جاتا ہے کہ وہ آکوپنکچر میں استعمال ہوتی ہوں گی۔

آکوپنکچر کے قدیم نظرئیے کی بنیاد ’’قوت حیات‘‘ کے فلسفے پر رکھی گئی ۔قدیم دور سے ہی چینیوں کا نظریہ ہے کہ انسانی جسم میں ایک مخصوص قو ت حیات ( چی( پائی جاتی ہے جودو متضاد قوتوں ’ین‘ اور ’یانگ‘ کا مجموعہ ہے ۔ ’ین‘ سیاہ رنگ کی ‘ غیر متحرک، نسوانی اور منفی خواص کی حامل ہوتی ہے جبکہ یانگ کے ساتھ متحرک ‘روشن ‘فعال اور مردانہ خواص وابستہ ہیں ۔اس فلسفے کے مطابق اگر جسم میں یہ دونوں قوتیں توازن میں رہیں تو فرد صحت مند رہتا ہے اور اگر ان کا توازن بگڑ جائے تو انسان بیمار ہو جاتا ہے۔

چینی طب کے مطابق یہ قوتیں جسم میں موجود بارہ گزرگاہوں سے گزرتی ہیں۔ اگر ان راستوں میں کہیں کوئی رکاوٹ پیدا ہو جائے یا ان قوتوں کا بہائوسست ہو جائے تو بھی فرد بیمار پڑ جاتا ہے ۔ ان رکاوٹو ں کو جسم کے مخصوص حصوں میں سوئیاں چبھوکر‘ ان پر دبائو یا حرارت بڑھا کر دور کیا جاتا ہے۔ جدید سائنس یہ کہتی ہے کہ اس طریقہ علاج میں جسم کے مختلف حصوں (آکوپنکچر پوائنٹس ) پرسوئیاں چبھوئی جاتی ہیں اور ان پر حرارت یا دبائو بڑھایاجاتا ہے ۔ اس طرح دماغ کے ایک خاص حصے ہائپو تھیلمس کومخصوص پیغام بھیجا جاتا ہے جہاں اسے ڈی کوڈ کیا جاتا ہے۔ اس کے بعد دماغ اپنے خود کار اعصابی نظام کے ذریعے جسم کے مدافعتی نظام کومتحرک کر کے جسم کے اس حصے سے درد یا بیماری کو دور کردیتا ہے۔

طریقہ علاج کے پیچھے جوبھی فلسفہ کار فرما ہو ‘ حقیقت یہ ہے کہ آج اس میں آنے والی جدت اور افادیت کے پیش نظر اسے دنیا بھر میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ عالمی ادارہ صحت نے ایسی ۴۷ بیماریوں کی فہرست جاری کی ہے جن کا علاج اکو پنکچر سے کیا جاسکتا ہے۔اسی طرح چین او ر دیگر ممالک میں اسے انستھیزیا کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔اب طریقہ علاج کی ایک نئی شکل بھی سامنے آئی ہے جسے’’ اکو پریشر ‘‘کہا جاتا ہے ۔ اس میں سوئیوں کی بجائے اکو پنکچر پوائنٹس پر دبائو ڈال کر مطلوبہ نتائج حاصل کیے جاتے ہیں۔ لیزر ٹیکنالوجی کے استعمال سے یہ طریقہ مزید موثر ہوگیا ہے۔

آکوپنکچر طریقہ علاج کو تاریخ کے مختلف ادوار میں نشیب و فراز کا سامنا رہا ۔ چینگ شاہی خاندان (۱۶۴۴۔۱۹۱۱ء) کے دور میں چین جنگ وجدل کی وجہ سے تباہ حال ہو چکا تھا اور اس پر مغربی دنیاکے اثرات بہت زیادہ تھے ۔اس وقت چینگ شہنشاہ نے آکوپنکچر کو چین کی ترقی میں رکاوٹ سمجھا اور ۱۸۲۲ء میں اسے ایمپریل میڈیکل کالج کے نصاب سے نکال دیا۔ مائوزے تنگ کی قیادت میں ۱۹۲۸ ء میں کمیونسٹ پارٹی کا قیام عمل میں آیا ۔ ابتداً اس پارٹی نے چین میں رائج راویتی علاج کی اہمیت کو تسیلم نہ کیا لیکن طویل جدوجہد کے بعد ۹۴۹ ۱ء میں جب ملک کی قیادت سنبھالی تو اس روایتی طریقہ ہائے علاج کی بھی سرپرستی کی ‘ اس لئے کہ اس وقت ملک کے بیشتر حصوں میں صحت کی بنیادی سہولیات نہ ہونے کے برابر تھیں ۔

تاریخ کے مختلف ادوار میں آکوپنکچر کو اگر مزاحمت اور رکاوٹوں کا سامنا نہ ہوتا اور تسلسل برقرار رہتا تو شاید یہ طریقہ علاج زیادہ بہتر اور ترقی یافتہ شکل میں ہمارے سامنے آتا۔ امیدہے کہ اس شعبے میں نئی تحقیقات اس کی قبولیت میں اضافے کا سبب بنیں گی اور لوگوں کو ایک بہتر متبادل میسر آ سکے گا۔

Acupuncture Chinese medicine 

0 0 vote
Article Rating
Subscribe
Notify of
guest
0 Comments
Inline Feedbacks
View all comments
0
Would love your thoughts, please comment.x
()
x