Vinkmag ad

ملٹی پل سسٹم ایٹروفی: اعصابی نظام کو متاثر کرنے والی بیماری

Neurologist holding the hand of a patient with Multiple System Atrophy (MSA) during a medical consultation

ملٹی پل سسٹم ایٹروفی (Multiple system atrophy)  ایسی بیماری ہے جو جسمانی ہم آہنگی، توازن اور حرکت کو متاثر کرتی ہے۔ اس کے باعث مریض کی حرکات سست ہو سکتی ہیں، جسم میں اکڑاؤ پیدا ہو سکتا ہے، بولنے کے انداز میں تبدیلی آ سکتی ہے اور افعال پر کنٹرول متاثر ہو سکتا ہے۔ ایم ایس اے ایک نایاب بیماری ہے جس کی کی کئی علامات پارکنسن کی بیماری سے ملتی جلتی ہیں۔

علامات

ایم ایس اے کی علامات بالعموم 50 یا 60 سال کی عمر میں ظاہر ہوتی ہیں

اقسام

ایم ایس اے کی دو اقسام پارکنسن والی قسم (Parkinsonian type) اور توازن اور ہم آہنگی متاثر کرنے والی قسم (Cerebellar type) ہیں۔ تشخیص کے وقت موجود علامات کی بنیاد پر بیماری کی قسم کا تعین کیا جاتا ہے۔

پارکنسن والی قسم

اس کی علامات پارکنسنز سے ملتی جلتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ پٹھوں میں اکڑاؤ

٭ بازوؤں اور ٹانگوں کو موڑنے میں دشواری

٭ حرکات کا سست ہو جانا

٭ آرام کی حالت یا بازوؤں اور ٹانگوں کو حرکت دیتے وقت کپکپی

٭ دھیمی، غیر واضح یا نرم آواز میں گفتگو کرنا

٭ جسمانی توازن برقرار رکھنے اور درست انداز میں کھڑے رہنے میں دشواری

توازن اور ہم آہنگی متاثر کرنے والی قسم

اس قسم کی بنیادی علامت عضلات کی ہم آہنگی میں خرابی ہوتی ہے۔ اس کی علامات میں شامل ہیں:

٭ حرکت اور جسمانی ہم آہنگی میں دشواری، جس میں توازن برقرار نہ رکھ پانا اور سیدھا چلنے میں مشکل ہونا شامل ہے

٭ دھیمی، غیر واضح یا نرم آواز میں گفتگو کرنا

٭ بینائی میں تبدیلی، جیسے دھندلا یا دوہرا نظر آنا، یا آنکھوں کا کسی چیز پر درست طور پر توجہ مرکوز نہ کر پانا

٭ چبانے یا نگلنے میں دشواری، جسے ڈس فیجیا کہا جاتا ہے

عمومی علامات

ملٹی پل سسٹم ایٹروفی کی دونوں اقسام میں خودکار اعصابی نظام درست طور پر کام نہیں کرتا۔ یہ نظام جسم کے غیر ارادی افعال کو کنٹرول کرتا ہے۔ اس کے متاثر ہونے سے درج ذیل علامات ظاہر ہو سکتی ہیں:

جسمانی پوزیشن بدلنے پر بلڈ پریشر کم ہونا

اس میں بیٹھنے یا لیٹنے کے بعد کھڑے ہونے پر چکر آ سکتے ہیں یا سر ہلکا محسوس ہو سکتا ہے۔ بعض افراد بے ہوش بھی ہو سکتے ہیں۔ تاہم، ہر ایم ایس اے مریض میں یہ علامت موجود نہیں ہوتی۔ بعض مریض لیٹنے کی حالت میں خطرناک حد تک بلند بلڈ پریشر کا بھی شکار ہو سکتے ہیں۔ اس کیفیت کو سپائن ہائپر ٹینشن کہا جاتا ہے۔

مثانے اور آنتوں سے متعلق علامات

ان میں شامل ہیں:

٭ قبض

٭ مثانے یا آنتوں پر کنٹرول ختم ہو جانا

پسینہ آنے میں تبدیلی

ملٹی پل سسٹم ایٹروفی کے مریضوں میں:

٭ معمول سے کم پسینہ آ سکتا ہے

٭ کم پسینہ آنے کے باعث گرمی برداشت کرنا مشکل ہو سکتا ہے

٭ جسم کا درجہ حرارت مناسب طور پر برقرار نہیں رہتا، جس سے ہاتھ یا پاؤں اکثر ٹھنڈے رہتے ہیں

نیند سے متعلق مسائل

ان میں شامل ہو سکتے ہیں:

٭ نیند میں خوابوں کے مطابق جسمانی حرکات کرنا، جسے ریپڈ آئی موومنٹ (آر ای ایم) سلیپ بیہیویئر ڈس آرڈر کہا جاتا ہے

٭ نیند کے دوران سانس کا بار بار رکنا اور دوبارہ چلنا

٭ سانس لیتے وقت تیز سیٹی نما آواز آنا

جنسی علامات

ان میں شامل ہو سکتی ہیں:

٭ عضو تناسل میں مناسب تناؤ پیدا کرنے یا برقرار رکھنے میں دشواری

٭ جنسی تعلق کے دوران قدرتی رطوبت میں کمی اور جنسی تسکین حاصل کرنے میں دشواری

٭ جنسی خواہش میں کمی

دل اور خون کی شریانوں سے متعلق علامات

ایم ایس اے کے باعث:

٭ ہاتھوں اور پاؤں کا رنگ تبدیل ہو سکتا ہے

نفسیاتی علامات

ملٹی پل سسٹم ایٹروفی کے مریضوں میں درج ذیل علامت بھی ظاہر ہو سکتی ہے:

٭ جذبات پر قابو نہ رہنا، جیسے غیر متوقع طور پر ہنسنا یا رونا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

٭ اگر ملٹی پل سسٹم ایٹروفی کی کوئی بھی علامت ظاہر ہو

٭ اگر ایم ایس اے کی علامات بڑھ جائیں یا نئی علامات ظاہر ہوں

وجوہات

٭ ملٹی پل سسٹم ایٹروفی (ایم ایس اے) کی کوئی معلوم وجہ سامنے نہیں آئی

٭ دماغی ٹشوز میں الفا-سائنوکلین نامی پروٹین جمع ہونا

خطرے کے عوامل

٭ ریپڈ آئی موومنٹ (آر ای ایم) سلیپ بیہیویئر ڈس آرڈر

٭ خودکار اعصابی نظام کا درست طور پر کام نہ کرنا ہے

پیچیدگیاں

ممکنہ پیچیدگیوں میں شامل ہیں:

٭ نیند کے دوران سانس لینے کے مسائل کا مزید بڑھ جانا

٭ توازن بگڑنے یا بے ہوشی کے باعث گرنے سے چوٹ لگنا

٭ حرکت میں دشواری کے باعث جلد کا متاثر ہونا

٭ روزمرہ کے کام خود انجام نہ دے پانا

٭ ووکل کارڈز کا مفلوج ہو جانا، جس سے بولنے اور سانس لینے میں دشواری ہوتی ہے

٭ نگلنے میں مسلسل بڑھتی ہوئی دشواری

علامات ظاہر ہونے کے بعد مریض عموماً 7 سے 10 سال تک زندہ رہتے ہیں، تاہم یہ مریض میں مختلف ہو سکتی ہے۔ زیادہ تر اموات سانس لینے میں دشواری، انفیکشن یا پھیپھڑوں میں خون کے کلاٹ بننے سے ہوتی ہیں۔

تشخیص

ٹِلٹ ٹیبل ٹیسٹ

اس ٹیسٹ میں جسم کی بلڈ پریشر کو کنٹرول کرنے کی صلاحیت کا جائزہ لیا جاتا ہے۔ اس میں مریض کو موٹر سے حرکت کرنے والے ٹیبل پر لٹایا جاتا ہے اور حفاظتی پٹیاں باندھی جاتی ہیں۔ اس کے بعد میز کو تقریباً 70 درجے کے زاویے تک اوپر کیا جاتا ہے۔ ٹیسٹ کے دوران معالج بلڈ پریشر اور دل کی دھڑکن میں آنے والی تبدیلیوں کا مسلسل مشاہدہ کرتا ہے۔

خودکار اعصابی افعال کے ٹیسٹ

دیگر ٹیسٹ بلڈ پریشر اور جسم کے دوسرے غیر ارادی افعال کا جائزہ لیتے ہیں، جن میں شامل ہیں:

٭ ٹِلٹ ٹیبل استعمال کیے بغیر لیٹنے اور کھڑے ہونے کی حالت میں بلڈ پریشر کی پیمائش

٭ جسم کے مختلف حصوں میں پسینہ آنے کی صلاحیت جانچنے کا ٹیسٹ

٭ مثانے اور آنتوں کے افعال کا جائزہ لینے والے ٹیسٹ

٭ الیکٹروکارڈیوگرام (ای سی جی)

اگر نیند کے دوران سانس رکنے، خراٹوں یا نیند سے متعلق دیگر علامات موجود ہوں تو نیند کا خصوصی معائنہ بھی تجویز کیا جا سکتا ہے۔

علاج

اس بیماری کا مکمل علاج موجود نہیں۔ تاہم، مناسب علاج اور نگہداشت مریض کو زیادہ آرام دہ زندگی گزارنے، جسمانی افعال برقرار رکھنے اور روزمرہ سرگرمیاں بہتر انداز میں انجام دینے میں مدد دے سکتی ہے۔ مخصوص علامات کے علاج کے لیے درج ذیل اقدامات تجویز لیے جا سکتے ہیں:

٭ بلڈ پریشر بڑھانے والی، پارکنسنز جیسی علامات کم کرنے والی، اور مردانہ کمزوری کے علاج کی ادویات

٭ نگلنے اور سانس لینے کے مسائل سے نمٹنے کے لیے مناسب علاج اور نگہداشت

٭ مثانے پر کنٹرول میں دشواری ہو تو ادویات کا استعمال، تاہم کسی مرحلے میں پیشاب خارج کرنے کے لیے کیتھیٹر لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے

٭ فزیوتھراپی

٭ سپیچ تھراپی کے ذریعے بولنے کی صلاحیت بہتر بنانا

طرزِ زندگی اور گھریلو تدابیر

طرزِ زندگی میں چند تبدیلیاں ایم ایس اے کی علامات کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں:

٭ غذا میں معمولی مقدار میں نمک شامل کرنا اور زیادہ پانی پینا، خاص طور پر ورزش سے پہلے

٭ بستر کا سرہانہ تقریباً 4 سے 6 انچ (10 سے 15 سینٹی میٹر) اونچا رکھنا

٭ کم مقدار میں اور کم کاربوہائیڈریٹس والی غذا استعمال کرنا

٭ قبض سے بچاؤ کے لیے زیادہ فائبر والی غذا کھانا۔ ضرورت پڑنے پر پاخانہ نرم کرنے والی ادویات بھی مفید ہو سکتی ہیں

٭ شدید گرم دنوں میں ٹھنڈی یا ائیر کنڈیشنڈ جگہ پر رہنا۔ نہاتے وقت اس بات کا خیال رکھیں کہ واش روم زیادہ گرم نہ ہو

٭ کمر تک آنے والی لچکدار سپورٹ جرابیں پہننا۔ اس سے کھڑے ہونے پر بلڈ پریشر اچانک کم ہونے سے بچانے میں مدد مل سکتی ہے

Frequently Asked Questions (FAQs)

ملٹی پل سسٹم ایٹروفی کی تشخیص میں تاخیر کیوں ہو سکتی ہے؟

اس بیماری کی بہت سی علامات پارکنسنز اور دیگر اعصابی بیماریوں سے ملتی جلتی ہوتی ہیں، جس کی وجہ سے ابتدائی مرحلے میں درست تشخیص مشکل ہو سکتی ہے۔

کیا ملٹی پل سسٹم ایٹروفی کے مریض معمول کی جسمانی سرگرمیاں جاری رکھ سکتے ہیں؟

ابتدائی مراحل میں، معالج اور فزیوتھراپسٹ کی ہدایات کے مطابق مناسب جسمانی سرگرمیاں حرکت، توازن اور عضلاتی طاقت برقرار رکھنے میں مدد دے سکتی ہیں۔

ایم ایس اے میں بلڈ پریشر کی باقاعدہ نگرانی کیوں ضروری ہے؟

اس بیماری میں بلڈ پریشر کھڑے ہونے یا لیٹنے کی حالت کے مطابق غیر معمولی طور پر کم یا زیادہ ہو سکتا ہے، اس لیے باقاعدہ نگرانی علاج کا اہم حصہ ہے۔

کیا نگلنے میں دشواری خطرناک ثابت ہو سکتی ہے؟

ہاں، نگلنے میں شدید دشواری خوراک یا پانی کے سانس کی نالی میں جانے، غذائی کمی اور دیگر پیچیدگیوں کا خطرہ بڑھا سکتی ہے۔ اس لیے بروقت طبی مشورہ ضروری ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=neurologist

Vinkmag ad

Read Previous

ہیضہ: آنتوں کا بیکٹیریل انفیکشن

Read Next

بالغوں میں اے ڈی ایچ ڈی

Leave a Reply

Most Popular