Vinkmag ad

کارڈیئک ابلیشن: دل کی بے ترتیب دھڑکن کا علاج

Patient undergoing a cardiac ablation procedure in a hospital

کارڈیئک ابلیشن (Cardiac ablation) دل کی بے ترتیب دھڑکن (اریتھمیا) کے علاج کا ایک مؤثر طریقہ ہے۔ اس میں حرارت یا شدید ٹھنڈک کی مدد سے دل میں نہایت چھوٹے داغ بنائے جاتے ہیں۔ یہ داغ غیر معمولی برقی سگنلز کو روک کر دل کی دھڑکن کو معمول پر لانے میں مدد دیتے ہیں۔

کیوں کیا جاتا ہے

ہیلتھ پروفیشنل کارڈیئک ابلیشن تجویز کر سکتا ہے اگر:

٭ بے ترتیب دھڑکن کی دوائیں مؤثر ثابت نہ ہوں

٭ دواؤں سے شدید مضر اثرات پیدا ہوں

٭ آپ کو ایسی بے ترتیب دھڑکن ہو جس میں یہ علاج زیادہ مؤثر ہو، جیسے وولف پارکنسن وائٹ سنڈروم یا سپرا وینٹریکولر ٹیکی کارڈیا وغیرہ

٭ آپ کو اچانک کارڈیئک اریسٹ یا دیگر سنگین پیچیدگیوں کا زیادہ خطرہ ہو

خطرات

کارڈیئک ابلیشن کے خطرات علاج کی قسم اور اس کے مقصد پر منحصر ہوتے ہیں۔ ممکنہ خطرات میں شامل ہیں:

٭ کیتھیٹر داخل کرنے کی جگہ پر خون بہنا یا انفیکشن ہونا

٭ خون کی شریان کو نقصان پہنچنا

٭ دل کے والو کو نقصان پہنچنا

٭ نئی بے ترتیب دھڑکن پیدا ہونا یا پہلے سے موجود دھڑکن کا مزید بگڑ جانا

٭ دل کی دھڑکن بہت سست ہو جانا، جس کے لیے پیس میکر لگانے کی ضرورت پڑ سکتی ہے

٭ ٹانگوں یا پھیپھڑوں میں خون کے کلاٹ بننا

٭ فالج یا دل کا دورہ پڑنا

٭ پھیپھڑوں اور دل کے درمیان خون لے جانے والی رگوں کا تنگ ہو جانا

٭ علاج کے دوران استعمال ہونے والے کنٹراسٹ مادے سے گردوں کو نقصان پہنچنا

علاج سے پہلے اپنے معالج اور طبی ٹیم سے اس کے فوائد اور ممکنہ خطرات پر تفصیل سے بات کریں تاکہ یہ معلوم ہو سکے کہ آیا یہ طریقہ آپ کے لیے مناسب ہے۔

تیاری

٭ کارڈیئک ابلیشن سے پہلے دل کی صحت جانچنے کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں

٭ آپ کو علاج سے ایک رات پہلے کھانے پینے سے پرہیز کرنے کی ہدایت دی جا سکتی ہے

٭ میڈیکل ٹیم آپ کو یہ بھی بتائے گی کہ کون سی دوائیں جاری رکھنی ہیں اور کن میں تبدیلی کرنی ہے

علاج کے دوران کیا توقع رکھیں؟

علاج سے پہلے

کارڈیئک ابلیشن ہسپتال میں کی جاتی ہے۔ طبی ٹیم آپ کے ہاتھ یا بازو کی رگ میں ڈرپ لگاتی ہے۔ عموماً آپ کو سکون دینے والی دوائیں دی جاتی ہیں، جنہیں سیڈیشن کہا جاتا ہے۔ آپ مکمل ہوش میں بھی رہ سکتے ہیں یا ہلکی غنودگی میں ہو سکتے ہیں۔ بعض مریضوں کو جنرل اینستھیزیا دیا جاتا ہے۔

علاج کے دوران

ڈاکٹر ایک یا زیادہ لچکدار کیتھیٹر خون کی شریان میں داخل کرکے انہیں دل تک پہنچاتا ہے۔ یہ کیتھیٹر عموماً ران کی شریان سے داخل کیے جاتے ہیں، تاہم بعض صورتوں میں انہیں کندھے یا گردن کی شریان سے بھی گزارا جاتا ہے۔ کیتھیٹر کے ذریعے کنٹراسٹ نامی رنگ دار مادہ داخل کیا جاتا ہے، جس سے ایکس رے تصاویر میں خون کی شریانیں زیادہ واضح نظر آتی ہیں۔ کیتھیٹر کے سرے پر موجود حساس آلات دل کے برقی سگنلز ریکارڈ کرتے اور برقی سرگرمی کی نشاندہی کرتے ہیں۔

طبی ٹیم اس معلومات کی مدد سے دل کے اس حصے کی شناخت کرتی ہے جو بے ترتیب دھڑکن کا سبب بن رہا ہوتا ہے۔ اس مرحلے کو الیکٹروفزیالوجی (ای پی) تحقیق کہا جاتا ہے۔

دل میں چھوٹے داغ بنانے کے لیے درج ذیل میں سے کوئی طریقہ استعمال کیا جاتا ہے:

٭ حرارت، جسے ریڈیو فریکوئنسی توانائی کہا جاتا ہے

٭ شدید ٹھنڈک، جسے کرائیو ابلیشن کہا جاتا ہے

علاج کے دوران عام طور پر تکلیف محسوس نہیں ہوتی۔ اگر شدید درد یا سانس لینے میں دشواری ہو تو فوراً طبی ٹیم کو آگاہ کریں۔

علاج کے بعد

٭ کارڈیئک ابلیشن مکمل ہونے میں عموماً 3 سے 6 گھنٹے لگتے ہیں۔ اس کا دورانیہ بے ترتیب دھڑکن کی قسم پر منحصر ہوتا ہے

٭ علاج کے بعد آپ کو چند گھنٹے ریکوری ایریا میں رکھا جاتا ہے، جہاں طبی ٹیم مسلسل نگرانی کرتی ہے

٭ آپ کی حالت کے مطابق آپ کو اسی دن گھر بھیجا جا سکتا ہے یا ایک رات ہسپتال میں رہنا پڑ سکتا ہے۔ گھر واپسی کے لیے کسی فرد کو اپنے ساتھ ضرور لائیں

٭ بعض افراد کو علاج کے بعد ہلکی تکلیف محسوس ہوتی ہے، جو عموماً ایک ہفتے کے اندر ختم ہو جاتی ہے

٭ زیادہ تر لوگ چند دنوں میں معمول کی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیتے ہیں۔ تقریباً ایک ہفتے تک بھاری وزن اٹھانے سے گریز کریں

نتائج

٭ زیادہ تر مریض کارڈیئک ابلیشن کے بعد اپنی زندگی کے معیار میں واضح بہتری محسوس کرتے ہیں

٭ بعض صورتوں میں بے ترتیب دھڑکن دوبارہ ہو سکتی ہے۔ ایسی صورت میں علاج دوبارہ کیا جا سکتا ہے یا معالج کوئی دوسرا علاج تجویز کر سکتا ہے۔

٭ بعض مریضوں کو کارڈیئک ابلیشن کے بعد بھی دل کی ادویات جاری رکھنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا کارڈیئک ابلیشن مستقل علاج ہے؟

یہ علاج بہت سے مریضوں میں طویل عرصے تک مؤثر رہتا ہے، لیکن بعض افراد میں بے ترتیب دھڑکن دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔

کیا کارڈیئک ابلیشن میں درد ہوتا ہے؟

علاج کے دوران عموماً سکون آور یا بے ہوشی کی دوائیں دی جاتی ہیں، اس لیے زیادہ تر مریضوں کو درد محسوس نہیں ہوتا۔

کارڈیئک ابلیشن کے بعد مکمل صحت یابی میں کتنا وقت لگتا ہے؟

زیادہ تر افراد چند دنوں میں معمول کی سرگرمیوں پر واپس آ جاتے ہیں، جبکہ مکمل آرام کے لیے تقریباً ایک ہفتہ درکار ہوتا ہے۔

کیا علاج کے بعد بھی دل کی دوائیں لینا ضروری ہوتا ہے؟

یہ آپ کی طبی حالت اور بے ترتیب دھڑکن کی نوعیت پر منحصر ہے۔ بعض مریضوں کو علاج کے بعد بھی ادویات جاری رکھنی پڑتی ہیں۔

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

لمفوسائٹوسس: خون میں لمفوسائٹس بڑھ جانا

Read Next

ایڈرینالیکٹومی: ایڈرینل غدود نکالنے کی سرجری

Leave a Reply

Most Popular