Vinkmag ad

متعدی بیماریاں 

Infectious diseases symptoms, diagnosis, treatment, prevention, and public health illustration

متعدی بیماریاں (Infectious diseases) ایسے جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہیں جو جسم میں داخل ہو کر بڑھنے لگتے ہیں۔ ان میں بیکٹیریا، وائرس، فنگس اور پیراسائٹس شامل ہیں۔ یہ بیماریاں ایک شخص سے دوسرے شخص، آلودہ خوراک یا پانی، جانوروں، کیڑوں یا آلودہ سطحوں کے ذریعے بھی پھیل سکتی ہیں۔ بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے ان بیماریوں کی شدت اور پیچیدگیوں کو کم کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔

علامات

متعدی بیماریوں کی علامات بیماری کی نوعیت کے مطابق مختلف ہو سکتی ہیں، تاہم عام علامات میں یہ ہو سکتی ہیں:

٭ بخار

٭ دل کی دھڑکن تیز ہونا

٭ اسہال

٭ تھکاؤٹ یا کمزوری

٭ پٹھوں میں درد

٭ کھانسی

٭ رات کو زیادہ پسینہ آنا

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگر ان میں سے کوئی بھی علامت ظاہر ہو تو فوراً ڈاکٹر کو دکھائیں:

٭ کسی جانور نے کاٹ لیا ہو

٭ سانس لینے میں دشواری ہو

٭ ایک ہفتے سے زیادہ کھانسی رہے اور ساتھ میں پیلا، سبز بلغم یا خون آئے

٭ بخار کے ساتھ شدید سر درد ہو

٭ بخار کے ساتھ جسم پر پھیلتا ہوا، دردانگیز، گرم یا پانی خارج کرنے والا دانے دار ریش ہو

٭ بغیر واضح وجہ کے بخار ہو یا بخار طویل عرصے تک برقرار رہے

٭ اچانک نظر میں خرابی پیدا ہو

وجوہات

متعدی بیماریاں مختلف جراثیم کی وجہ سے ہوتی ہیں، جن میں بیکٹیریا، وائرس، پھپھوندی اور پیراسائٹس شامل ہیں۔

انفیکشن کیسے پھیلتا ہے؟

٭ متاثرہ شخص سے براہِ راست رابطہ

٭ متاثرہ جانور یا اس کے فضلے سے رابطہ

٭ حمل، پیدائش یا بعض صورتوں میں دودھ پلانے کے دوران ماں سے بچے تک

٭ آلودہ سطحوں کو چھونے سے

٭ مچھر، ٹک، پسو یا جوؤں کے کاٹنے سے

٭ آلودہ خوراک یا پانی کے ذریعے

خطرے کے عوامل

کمزور مدافعتی نظام رکھنے والے افراد میں ان کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ خطرہ بڑھانے والے عوامل یہ ہیں:

٭ سٹیرائیڈز، کیموتھراپی یا مدافعتی نظام کو دبانے والی ادویات کا استعمال

٭ ایچ آئی وی یا ایڈز

٭ بعض اقسام کے کینسر یا مدافعتی نظام کو متاثر کرنے والی بیماریاں

٭ غذائی قلت

٭ رگ کے ذریعے دی جانے والی بعض طبی سہولتیں یا علاج

پیچیدگیاں

متعدی بیماریاں بعض اوقات سنگین پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہیں، مثلاً:

٭ نمونیا یا میننجائٹس جیسی جان لیوا بیماریاں

٭ بعض انفیکشنز سے گریوا، معدے یا جگر کے کینسر کا خطرہ بڑھ جانا

٭ بعض جراثیم کا جسم میں غیر فعال رہنے کے بعد دوبارہ بیماری پیدا کرنا، جیسے چکن پاکس کے بعد شنگلز ہونا

تشخیص

تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات، میڈیکل ہسٹری اور جسمانی معائنہ کرتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق خون، پیشاب، گلے، پاخانے یا لمبر پنکچر کے ٹیسٹ اور اس کے علاوہ ایکس رے، سی ٹی اسکین، الٹراساؤنڈیا بائیوپسی وغیرہ بھی کی جا سکتی ہے۔

علاج

متعدی بیماری کا علاج اس بات پر منحصر ہوتا ہے کہ انفیکشن کس جراثیم کی وجہ سے ہوا ہے۔ علاج میں یہ اقدامات ہو سکتے ہیں:

٭ بیکٹیریا سے ہونے والے انفیکشن کے لیے اینٹی بایوٹکس

٭ وائرس سے ہونے والی بیماریوں کے لیے اینٹی وائرل ادویات

٭ فنگس سے ہونے والے انفیکشن کے لیے اینٹی فنگل ادویات

٭ پیراسائٹس سے ہونے والی بیماریوں کے لیے اینٹی پیراسائٹک ادویات

ہلکی متعدی بیماریوں میں زیادہ پانی پینا، مناسب آرام کرنا، دوسروں سے فاصلہ رکھنا اور ضرورت پڑنے پر ماسک پہننا بھی صحت یابی میں مدد دے سکتا ہے۔

بچاؤ کے تدابیر

متعدی بیماریوں سے بچنے کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں:

٭ صابن اور پانی سے کم از کم 20 سیکنڈ تک ہاتھ دھوئیں

٭ تمام تجویز کردہ ویکسین بروقت لگوائیں

٭ بیمار ہونے پر گھر میں رہیں اور ضرورت ہو تو ماسک پہنیں

٭ خوراک کو محفوظ طریقے سے تیار اور محفوظ کریں

٭ محفوظ جنسی تعلق قائم کریں اور کنڈوم استعمال کریں

٭ ذاتی استعمال کی اشیاء دوسروں کے ساتھ شیئر نہ کریں

٭ بیرونِ ملک سفر سے پہلے ضروری ویکسین اور احتیاطی تدابیر کے بارے میں ڈاکٹر سے مشورہ کریں

Frequently Asked Questions (FAQs)

متعدی بیماریاں کس وجہ سے ہوتی ہیں؟

بیکٹیریا، وائرس، فنگس یا پیراسائٹس کی وجہ سے۔

کیا متعدی بیماریاں ایک شخص سے دوسرے شخص کو لگ سکتی ہیں؟

جی ہاں، بعض متعدی بیماریاں براہِ راست یا بالواسطہ ایک شخص سے دوسرے شخص تک منتقل ہو سکتی ہیں۔

کیا ویکسین متعدی بیماریوں سے بچاتی ہے؟

جی ہاں، کئی متعدی بیماریوں سے بچاؤ کے لیے ویکسین مؤثر ثابت ہوتی ہیں۔

کیا ہر متعدی بیماری میں اینٹی بایوٹک استعمال ہوتی ہے؟

نہیں، اینٹی بایوٹکس صرف بیکٹیریا سے ہونے والی بیماریوں کے لیے مؤثر ہوتی ہیں۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=infectious-diseases

Vinkmag ad

Read Previous

بانجھ پن

Read Next

نوزائیدہ بچوں میں یرقان

Leave a Reply

Most Popular