بانجھ پن (Infertility) اس حالت کو کہتے ہیں جب باقاعدگی سے ایک سال تک بغیر مانع حمل طریقہ استعمال کیے جنسی تعلق کے باوجود حمل نہ ٹھہرے۔ یہ مسئلہ مرد، عورت یا دونوں میں موجود صحت کے مسائل کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ تاہم، بروقت تشخیص اور مناسب علاج سے حمل ٹھہرنے کے امکانات بہتر بنائے جا سکتے ہیں۔
علامات
بانجھ پن کی بنیادی علامت حمل نہ ٹھہرنا ہے۔ بعض خواتین میں ماہواری بے قاعدہ یا بند ہو سکتی ہے، جبکہ بعض مردوں میں ہارمونز سے متعلق علامات، جیسے بالوں کی نشوونما یا جنسی افعال میں تبدیلی ظاہر ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر ایک سال تک باقاعدگی سے حمل کی کوشش کے باوجود حمل نہ ٹھہرے تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔
خواتین
٭ عمر 35 یا 40 سال یا اس سے زیادہ ہو اور 6 ماہ سے حمل کی کوشش کر رہی ہوں
٭ ماہواری نہ آتی ہو، بے قاعدہ ہو یا بہت زیادہ تکلیف دہ ہو
٭ پہلے سے بانجھ پن کا کوئی مسئلہ معلوم ہو
٭ اینڈومیٹریوسس یا پیلوک انفلامیٹری بیماری کی ہسٹری ہو
٭ ایک سے زیادہ بار اسقاط حمل ہو چکا ہو
٭ کینسر کے لیے کیموتھراپی یا ریڈی ایشن کروائی ہو
مرد
٭ سپرم کی تعداد کم ہو یا سپرم سے متعلق دیگر مسائل ہوں
٭ خصیوں، پروسٹیٹ یا جنسی صحت سے متعلق بیماری کی ہسٹری ہو
٭ کینسر کے لیے کیموتھراپی کروائی ہو
٭ ہرنیا کی سرجری ہو چکی ہو
٭ خصیے معمول سے چھوٹے ہوں یا سکروٹم میں رگیں سوجی ہوئی ہوں
٭ پہلے کسی شریک حیات کے ساتھ بانجھ پن کا مسئلہ رہا ہو
٭ خاندان میں بانجھ پن کی ہسٹری ہو
وجوہات
بانجھ پن کی وجوہات مرد، عورت یا دونوں میں ہو سکتی ہیں، جبکہ بعض اوقات کوئی واضح وجہ معلوم نہیں ہوتی.
مردوں میں وجوہات
٭ سپرم کی تعداد یا معیار میں خرابی
٭ سپرم کے خارج ہونے میں رکاوٹ
٭ ماحولیاتی کیمیکلز، شعاعوں یا زیادہ گرمی کا اثر
٭ کینسر یا اس کے علاج سے ہونے والا نقصان
خواتین میں وجوہات
٭ بیضہ بننے یا خارج ہونے کے مسائل
٭ رحم یا گریوا کی بیماریاں
٭ فیلوپین ٹیوب کا بند یا خراب ہونا
٭ اینڈومیٹریوسس
٭ اووری کا وقت سے پہلے کام بند کر دینا
٭ کینسر یا اس کا علاج
٭ پیلوک چپکاؤ (Pelvic Adhesions)
خطرے کے عوامل
یہ عوامل اس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں:
٭ تمباکو نوشی
٭ چرس (Marijuana) کا استعمال
٭ الکحل کا استعمال
٭ زیادہ وزن یا موٹاپا
٭ بہت کم وزن یا کھانے کی خرابیوں کا شکار ہونا
٭ جسمانی سرگرمی کی کمی یا بہت زیادہ سخت ورزش کرنا
تشخیص
بانجھ پن کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر طبی تاریخ، جسمانی معائنہ اور علامات کا جائزہ لیتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق مردوں میں سیمین تجزیہ، ہارمونز، جینیاتی اور امیجنگ ٹیسٹ، جبکہ خواتین میں اوویولیشن، ہارمونز، HSG، اوورین ریزرو، الٹراساؤنڈ اور بعض صورتوں میں ہسٹروسکوپی یا لیپروسکوپی کی جا سکتی ہے۔
علاج
بانجھ پن کا علاج اس کی وجہ، عمر، دورانیے اور حمل کی خواہش کے مطابق کیا جاتا ہے۔ اس میں مردوں کے لیے طرزِ زندگی میں تبدیلیاں، ادویات، سرجری یا سپرم حاصل کرنے کے خصوصی طریقے، جبکہ خواتین کے لیے بیضہ بننے میں مدد دینے والی ادویات، رحم کے اندر سپرم پہنچانے کا طریقہ، یا بعض مسائل کے لیے سرجری شامل ہو سکتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر حمل ٹھہرانے کے جدید طبی طریقے بھی اختیار کیے جا سکتے ہیں۔ علاج کے دوران ایک سے زیادہ بچوں کا حمل، بیضہ دانی کی سوجن، خون بہنا یا انفیکشن جیسی پیچیدگیاں بھی ہو سکتی ہیں۔
بچاؤ کے تدابیر
یہ احتیاطی تدابیر حمل کے امکانات بڑھانے میں مدد دے سکتی ہیں:
دونوں شریک حیات
٭ بیضہ خارج ہونے کے دنوں کے قریب باقاعدگی سے تعلق قائم کریں۔
مردوں کے لیے
٭ تمباکو، منشیات اور زیادہ شراب سے پرہیز کریں۔
٭ بار بار گرم پانی کے ٹب یا سونا باتھ استعمال نہ کریں۔
٭ زہریلے کیمیکلز سے بچیں۔
٭ کسی بھی دوا کو ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر بند نہ کریں
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں۔
خواتین کے لیے
٭ تمباکو نوشی ترک کریں۔
٭ شراب اور منشیات سے پرہیز کریں۔
٭ کیفین کا استعمال محدود رکھیں۔
٭ مناسب اور متوازن ورزش کریں۔
٭ صحت مند وزن برقرار رکھیں۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
بانجھ پن کب تشخیص کیا جاتا ہے؟
عام طور پر ایک سال تک کوشش کے باوجود حمل نہ ٹھہرنے پر۔
کیا بانجھ پن صرف خواتین میں ہوتا ہے؟
نہیں، یہ مرد، عورت یا دونوں میں ہو سکتا ہے۔
کیا بانجھ پن کا علاج ممکن ہے؟
جی ہاں، بہت سے کیسز میں مختلف علاج سے حمل کے امکانات بڑھائے جا سکتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=ob-gyne