فریکچر (Fracture) اس وقت ہوتا ہے جب بازو کی ایک یا زیادہ ہڈیاں ٹوٹ جائیں۔ ہاتھ یا کہنی کے بل گرنا بازو کے فریکچر کی عام وجہ ہے۔ بروقت علاج ہڈی کے درست طریقے سے جڑنے میں مدد دیتا ہے۔ علاج فریکچر کی جگہ اور شدت پر منحصر ہوتا ہے۔ بعض اوقات آرام، برف اور اسلنگ کافی ہوتے ہیں، جبکہ شدید فریکچر میں ہڈی کو سیدھا کرنے یا سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
علامات
اس کی علامات یہ ہیں:
٭ شدید درد، جو حرکت کرنے سے بڑھ جائے
٭ متاثرہ جگہ پر سوجن
٭ نیل پڑنا
٭ کہنی موڑنے میں مشکل
٭ بازو اٹھانے میں دشواری
٭ ہتھیلی کو اوپر یا نیچے گھمانے میں مشکل
٭ بازو یا کلائی کی شکل میں واضح تبدیلی یا ٹیڑھا پن
وجوہات
بازو کی ہڈی ٹوٹنے کی عام وجوہات میں یہ شامل ہیں:
٭ ہاتھ یا کہنی کے بل گرنا
٭ کھیل کے دوران چوٹ یا زور دار ضرب لگنا
٭ ٹریفک حادثات یا دیگر شدید حادثات
٭ بچوں میں بعض اوقات جسمانی تشدد
خطرے کے عوامل
بعض سرگرمیاں اور طبی مسائل بازو کی ہڈی ٹوٹنے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں، مثلاً:
٭ ایسے کھیل جن میں گرنے یا ٹکر لگنے کا امکان زیادہ ہو
٭ جمناسٹکس، اسکیئنگ یا اسکیٹ بورڈنگ جیسی سرگرمیاں
٭ آسٹیوپوروسس یا ہڈیوں کو کمزور کرنے والی بیماریاں
٭ ہڈیوں کے رسولی یا دیگر بیماریوں کی وجہ سے ہڈیوں کی کمزوری
پیچیدگیاں
زیادہ تر مریض بروقت علاج سے ٹھیک ہو جاتے ہیں، لیکن بعض صورتوں میں یہ مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
٭ بچوں میں ہڈیوں کی غیر متوازن نشوونما
٭ جوڑوں میں بعد میں گٹھیا کا خطرہ
٭ کلائی، کہنی یا کندھے میں اکڑاؤ
٭ ہڈی میں انفیکشن
٭ اعصاب یا خون کی نالیوں کو نقصان
٭ کمپارٹمنٹ سنڈروم، جو عموماً چوٹ کے 24 سے 48 گھنٹوں میں ہو سکتا ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر بازو میں درد اتنا زیادہ ہو کہ اسے معمول کے مطابق استعمال نہ کر سکیں یا ہاتھ میں سن ہونا، جلد کے رنگ میں تبدیلی، خون بہنا یا جلد پھٹنے تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بچوں میں جلد علاج بہت ضروری ہے کیونکہ ان کی ہڈیاں تیزی سے جڑتی ہیں اور تاخیر سے ہڈی غلط انداز میں جڑ سکتی ہے۔
تشخیص
ڈاکٹر فریکچر کی تشخیص کے لیے بازو کا معائنہ کیا جاتا ہے اور علامات یا چوٹ کی نوعیت کے بارے میں پوچھا جاتا ہے۔ ہڈی ٹوٹنے اور اس کی شدت جانچنے کے لیے عموماً ایکس رے کیا جاتا ہے، جبکہ ضرورت پڑنے پر سی ٹی اسکین، ایم آر آئی یا دیگر امیجنگ ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں۔
علاج
یہ ہڈی کی قسم، عمر اور چوٹ کی شدت پر منحصر ہوتا ہے۔ علاج کے لیے یہ طریقے اختیار کیے جا سکتے ہیں:
٭ ہڈی کو اپنی صحیح جگہ پر لانا
٭ سپلنٹ، سلنگ، بریس یا پلاسٹر کے ذریعے بازو کو حرکت سے روکنا
٭ درد اور سوجن کم کرنے کی ادویات
٭ کھلے فریکچر کی صورت میں انفیکشن سے بچاؤ کے لیے اینٹی بایوٹکس
٭ بازو، ہاتھ اور کندھے کی حرکت بہتر بنانے کے لیے ورزش یا فزیوتھیراپی
٭ پیچیدہ یا اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ہڈیوں کے لیے سرجری
سرجری میں ہڈی کو سہارا دینے کے لیے تار، پلیٹ، پیچ یا راڈ استعمال کیے جا سکتے ہیں، جبکہ صحت یابی کی نگرانی کے لیے وقتاً فوقتاً ایکسرے کیے جاتے ہیں۔
احتیاطی تدابیر
بازو کی ہڈی ٹوٹنے کے خطرے کو کم کرنے کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اپنائیں:
٭ کیلشیم اور وٹامن ڈی سے بھرپور غذا کھائیں
٭ باقاعدگی سے ورزش کریں اور جسمانی توازن بہتر بنائیں
٭ گرنے سے بچنے کے لیے گھر کو محفوظ رکھیں
٭ کھیلوں اور خطرناک سرگرمیوں کے دوران حفاظتی سامان استعمال کریں
٭ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا فریکچر خود بخود ٹھیک ہو سکتا ہے؟
زیادہ تر فریکچر مناسب علاج کے ساتھ ٹھیک ہو جاتے ہیں۔
فریکچر ٹھیک ہونے میں کتنا وقت لگتا ہے؟
یہ ہڈی کی قسم، عمر اور چوٹ کی شدت پر منحصر ہوتا ہے۔
کیا ہر فریکچر میں سرجری ضروری ہوتی ہے؟
نہیں، صرف شدید یا اپنی جگہ سے ہٹی ہوئی ہڈیوں میں سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔
کیا بچوں کی ٹوٹی ہوئی ہڈیاں جلد ٹھیک ہو جاتی ہیں؟
جی ہاں، بچوں کی ہڈیاں عموماً بڑوں کے مقابلے میں زیادہ تیزی سے جڑتی ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic