Vinkmag ad

گلوکوما

Glaucoma symptoms, optic nerve damage, diagnosis, treatment, and eye health illustration

گلوکوما (Glaucoma) آنکھ کی ایک بیماری ہے جس میں بصارت کے لیے اہم آپٹک عصب (Optic Nerve) کو نقصان پہنچتا ہے۔ یہ نقصان وقت کے ساتھ بینائی کم ہونے یا نابینا پن کا سبب بن سکتا ہے۔ اگرچہ گلوکوما کسی بھی عمر میں ہو سکتا ہے، لیکن یہ بڑی عمر کے افراد میں زیادہ عام ہے۔ بیماری کی بروقت تشخیص اور باقاعدہ معائنہ بینائی کے نقصان کو سست کرنے یا اس سے بچانے میں مدد دے سکتا ہے۔

علامات

گلوکوما کی علامات یہ ہو سکتی ہیں:

٭ دھندلا دکھائی دینا

٭ آنکھ میں شدید درد یا سر درد ہونا

٭ متلی یا الٹی آنا

٭ روشنی کے گرد رنگین ہالے نظر آنا

٭ آنکھ کا سرخ، دھندلا یا سفید نظر آنا

٭ بار بار پلکیں جھپکنا یا بغیر رونے کے آنسو آنا

٭ ورزش کے دوران دھندلا دکھائی دینا

درد عموماً شروع ہونے کے بعد پہلے 8 سے 12 گھنٹوں میں سب سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟

اگر اچانک شدید سر درد، آنکھ میں شدید درد یا دیگر علامات ظاہر ہوں تو فوراً ایمرجنسی جائیں یا ماہر امراضِ چشم سے فوری رابطہ کریں، کیونکہ یہ ایک ہنگامی طبی حالت ہو سکتی ہے۔

وجوہات

گلوکوما اس وقت ہوتا ہے جب آنکھ کا بصری عصب (آپٹک نرو) آہستہ آہستہ متاثر ہونے لگتا ہے۔ یہ عموماً آنکھ کے اندر دباؤ بڑھنے کی وجہ سے ہوتا ہے، جو اس وقت پیدا ہوتا ہے جب آنکھ کا سیال مناسب طریقے سے خارج نہ ہو یا زیادہ بننے لگے۔گلوکوما بعض اوقات موروثی ہوتا ہے اور بعض جینز اس کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں۔

خطرے کے عوامل

55 سال سے زیادہ عمر کے افراد، سیاہ فام، ایشیائی یا ہسپانوی نسل کے افراد میں گلوکوما کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ عوامل بھی خطرہ بڑھا سکتے ہیں:

٭ آنکھ کے اندر دباؤ زیادہ ہونا

٭ فیملی ہسٹری

٭ ذیابیطس، مائیگرین، ہائی بلڈ پریشر یا سِکل سیل انیمیا ہونا

٭ آنکھ کی کورنیہ کا درمیان سے پتلا ہونا

٭ نظر کا بہت زیادہ کمزور یا بہت زیادہ دور کا ہونا

٭ آنکھ پر چوٹ لگنا یا آنکھ کی سرجری ہونا

٭ لمبے عرصے تک کورٹیکوسٹیرائڈ ادویات، خصوصاً آئی ڈراپس، استعمال کرنا

٭ آنکھ میں پانی کے اخراج کا راستہ تنگ ہونا

پیچیدگیاں

اگر گاؤٹ کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:

٭ گاؤٹ کے بار بار حملے ہونا

٭ جوڑوں کو نقصان پہنچنا

٭ جلد کے نیچے یورک ایسڈ کی گٹھلیاں (ٹوفائی) بننا

٭ گردے کی پتھری ہونا

تشخیص

گلوکوما کی تشخیص علامات، میڈیکل ہسٹری اور آنکھوں کے معائنے کی بنیاد پر کی جاتی ہے۔ اس کے علاوہ یہ ٹیسٹ بھی کیے جا سکتے ہیں:

٭ آنکھ کے اندر دباؤ (ٹونومیٹری) چیک کرنا

٭ آپٹک نرو کا معائنہ اور امیجنگ ٹیسٹ کرنا

٭ بصارت کے دائرے (ویژول فیلڈ) کا ٹیسٹ کرنا

٭ کورنیہ کی موٹائی چیک کرنا

٭ آنکھ کے پانی کے اخراج کے راستے کا معائنہ کرنا

علاج

گلوکوما کے علاج میں یہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں:

٭ ڈاکٹر کی تجویز کردہ آئی ڈراپس باقاعدگی سے استعمال کرنا

٭ ضرورت پڑنے پر منہ سے کھانے والی ادویات استعمال کرنا

٭ لیزر کے ذریعے آنکھ کا دباؤ کم کرنا

٭ گلوکوما کی سرجری

٭ آنکھ میں پانی نکالنے کے لیے ڈرینیج ٹیوب لگوانا

٭ علاج کے بعد باقاعدگی سے فالو اَپ کروانا

بچاؤ کے تدابیر

٭ ڈاکٹر کے مشورے کے مطابق باقاعدگی سے آنکھوں کا معائنہ کروائیں

٭ اگر فیملی ہسٹری یا دیگر خطرے کے عوامل موجود ہوں تو زیادہ بار سکریننگ کروائیں

٭ آنکھوں کو چوٹ سے بچانے کے لیے حفاظتی چشمہ استعمال کریں

٭ ڈاکٹر کی تجویز کردہ آئی ڈراپس باقاعدگی سے استعمال کریں 

Frequently Asked Questions (FAQs)

کیا گلوکوما میں نظر واپس آ سکتی ہے؟

 نہیں، لیکن بروقت علاج سے مزید بینائی خراب ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔

کیا گلوکوما ہمیشہ آنکھ کا دباؤ بڑھنے سے ہوتا ہے؟

 نہیں، بعض افراد میں معمول کے دباؤ کے باوجود بھی گلوکوما ہو سکتا ہے۔

کیا گلوکوما کی بروقت تشخیص ممکن ہے؟

 جی ہاں، باقاعدہ آنکھوں کے معائنے سے اس کی جلد تشخیص ہو سکتی ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

Vinkmag ad

Read Previous

گاؤٹ

Read Next

جنجیوائٹس

Leave a Reply

Most Popular