گاؤٹ (Gout) گٹھیا کی ایک عام قسم ہے جو کسی بھی عمر کے فرد کو متاثر کر سکتی ہے۔ اس بیماری میں جوڑوں میں یورک ایسڈ کے کرسٹل جمع ہونے سے اچانک شدید درد، سوجن اور حساسیت پیدا ہو سکتی ہے۔ اگرچہ اس کی علامات وقتاً فوقتاً ظاہر ہو سکتی ہیں، لیکن مناسب علاج اور دیکھ بھال سے ان پر قابو پانے اور دوبارہ حملوں سے بچنے میں مدد مل سکتی ہے۔
علامات
گاؤٹ کی علامات عموماً اچانک، خاص طور پر رات کے وقت ظاہر ہوتی ہیں جو یہ ہیں:
٭ پیر کے انگوٹھے یا کسی بھی جوڑ میں اچانک شدید درد ہونا
٭ جوڑوں میں درد یا تکلیف کئی دنوں یا ہفتوں تک رہنا
٭ متاثرہ جوڑ میں سوجن، لالی، گرمی یا چھونے پر درد ہونا
٭ متاثرہ جوڑ کو حرکت دینے میں دشواری ہونا
درد عموماً شروع ہونے کے بعد پہلے 8 سے 12 گھنٹوں میں سب سے زیادہ شدید ہوتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر کسی جوڑ میں اچانک شدید درد ہو تو فوراً ڈاکٹر کو دکھائین۔ اسی طرح اگر جوڑ سرخ، گرم اور سوجا ہوا ہو یا بخار بھی ہو تو فوری طبی امداد حاصل کریں، کیونکہ یہ انفیکشن کی علامت ہو سکتی ہے۔
وجوہات
گاؤٹ خون میں یورک ایسڈ بڑھنے سے ہوتا ہے۔ اس صورت میں چھوٹے کرسٹل جوڑوں میں جمع ہو جاتے ہیں جس سے درد اور سوجن پیدا ہوتی ہے۔ یورک ایسڈ جسم میں پیورین کے ٹوٹنے سے بنتا ہے، جبکہ سرخ گوشت، کلیجی، بعض سمندری غذائیں، الکحل اور فروکٹوز والے مشروبات وغیرہ اس کی مقدار بڑھا سکتے ہیں۔ بعض اوقات جسم زیادہ یورک ایسڈ بناتا ہے یا گردے اسے مناسب مقدار میں خارج نہیں کر پاتے۔
خطرے کے عوامل
مردوں، بڑی عمر کے افراد اور مینوپاز کے بعد خواتین میں گاؤٹ کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ یہ عوامل بھی خطرہ بڑھا سکتے ہیں:
٭ سرخ گوشت، سمندری غذا، میٹھی یا الکحل والی مشروبات کا زیادہ استعمال کرنا
٭ موٹاپا یا زیادہ وزن
٭ ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس، میٹابولک سنڈروم، دل یا گردوں کی بیماریاں
٭ بعض ادویات، جیسے کم مقدار والی اسپرین یا ہائی بلڈ پریشر کی ادویات استعمال کرنا
٭ فیملی ہسٹری
٭ سرجری یا چوٹ لگنا
پیچیدگیاں
اگر گاؤٹ کا بروقت علاج نہ ہو تو یہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ گاؤٹ کے بار بار حملے ہونا
٭ جوڑوں کو نقصان پہنچنا
٭ جلد کے نیچے یورک ایسڈ کی گٹھلیاں (ٹوفائی) بننا
٭ گردے کی پتھری ہونا
تشخیص
اس کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات اور متاثرہ جوڑ کا معائنہ کرتے ہیں۔ ضرورت پڑنے پر جوڑ کے سیال، خون میں یورک ایسڈ، ایکس رے، الٹراساؤنڈ وغیرہ کے ذریعے جوڑ کی حالت کا جائزہ لیا جا سکتا ہے۔
علاج
گاؤٹ کے علاج میں یہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
٭ درد، سوجن اور سوزش کم کرنے والی ادویات استعمال کرنا
٭ کولچیسین یا سٹیرائیڈ ادویات کا استعمال
٭ بعض صورتوں میں ایناکینرا انجیکشن لگوانا
٭ یورک ایسڈ کی سطح کم کرنے والی ادویات استعمال کرنا
٭ گردوں کے ذریعے یورک ایسڈ خارج کرنے والی ادویات استعمال کرنا
٭ ڈاکٹر کی ہدایت کے مطابق ادویات باقاعدگی سے استعمال کرنا:
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا گاؤٹ صرف پاؤں کے انگوٹھے کو متاثر کرتا ہے؟
نہیں، یہ دیگر جوڑوں کو بھی متاثر کر سکتا ہے۔
کیا گاؤٹ مکمل طور پر ٹھیک ہو سکتا ہے؟
نہیں، لیکن علاج سے اسے مؤثر طریقے سے قابو میں رکھا جا سکتا ہے۔
کیا زیادہ یورک ایسڈ ہونے کا مطلب ہمیشہ گاؤٹ ہوتا ہے؟
نہیں، زیادہ یورک ایسڈ ہر بار گاؤٹ کی علامت نہیں ہوتا۔
نوٹ: یہ مضمون صرف معلوماتی مقصد کے لیے ہے۔ اگر آپ کو اچانک کسی جوڑ میں شدید درد، سوجن یا بخار کے ساتھ علامات ظاہر ہوں تو جلد از جلد مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔