Vinkmag ad

کارپل ٹنل سنڈروم: ہاتھ اور کلائی سن ہونے کی ایک عام وجہ

A woman sitting in front of a laptop gently holds her wrist with a painful expression, illustrating carpal tunnel syndrome

کارپل ٹنل سنڈروم (Carpal tunnel syndrome) ہاتھ کی سب سے عام بیماریوں میں سے ایک ہے۔ کارپل ٹنل ہتھیلی کی جانب کلائی میں ہڈیوں اور لیگامنٹس سے بنا ایک تنگ راستہ ہے۔ یہ کیفیت کلائی کارپل ٹنل کے اندر درمیانی عصب (میڈین نرو) پر دباؤ پڑنے سے ہوتی ہے۔

علامات

کارپل ٹنل سنڈروم کی علامات عموماً آہستہ آہستہ ظاہر ہوتی ہیں، جن میں شامل ہیں:

جھنجھناہٹ اور سن ہونا

جب اس نرو پر دباؤ بڑھتا ہے تو انگوٹھے اور انگلیوں میں سن ہونے، جھنجھناہٹ اور کمزوری پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض اوقات متاثرہ انگلیوں میں بجلی کے جھٹکے جیسا احساس بھی ہوتا ہے۔ یہ علامات گاڑی چلاتے، موبائل فون یا اخبار پکڑتے وقت ظاہر ہو سکتی ہیں، یا نیند سے بھی جگا سکتی ہیں۔ یہ احساس کلائی سے بازو تک بھی پھیل سکتا ہے۔ بہت سے لوگ آرام کے لیے ہاتھ جھٹکتے ہیں۔ وقت گزرنے کے ساتھ سن ہونے کی کیفیت مستقل بھی ہو سکتی ہے۔

عام طور پر انگوٹھا، شہادت کی انگلی، درمیانی انگلی اور انگوٹھی والی انگلی متاثر ہوتی ہیں، جبکہ چھوٹی انگلی عموماً محفوظ رہتی ہے۔

ہاتھ کی کمزوری

ہاتھ کمزور محسوس ہو سکتا ہے اور چیزیں ہاتھ سے گر سکتی ہیں۔ اس کی وجہ سن ہونا یا انگوٹھے کے عضلات کی کمزوری ہو سکتی ہے، جنہیں میڈین نرو کنٹرول کرتا ہے۔

ڈاکٹر سے کب رجوع کریں

اگر علامات روزمرہ سرگرمیوں یا نیند میں خلل ڈال رہی ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں نرو اور پٹھوں کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

وجوہات

٭ کارپل ٹنل سنڈروم میڈین نرو پر دباؤ پڑنے سے ہوتا ہے

٭ میڈین نرو پر دباؤ پیدا کرنے والی کوئی بھی چیز اس بیماری کا سبب بن سکتی ہے۔ مثال کے طور پر کلائی کی ہڈی ٹوٹنے سے کارپل ٹنل تنگ ہو سکتی ہے۔ روماٹائیڈ آرتھرائٹس یا دیگر بیماریوں سے ہونے والی سوجن بھی عصب پر دباؤ بڑھا سکتی ہے

٭ بہت سے مریضوں میں اس بیماری کی کوئی ایک واضح وجہ سامنے نہیں آتی۔ اکثر متعدد خطرے کے عوامل مل کر اس کا باعث بنتے ہیں

خطرے کے عوامل

درج ذیل عوامل براہ راست اس بیماری کا سبب نہیں بنتے، تاہم میڈین نرو کے متاثر ہونے کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں:

کلائی کی ساخت

کلائی کی ہڈی ٹوٹنے یا اپنی جگہ سے ہٹنے سے کارپل ٹنل کی ساخت تبدیل ہو سکتی ہے۔ کلائی کی چھوٹی ہڈیوں میں آرتھرائٹس کی وجہ سے آنے والی تبدیلیاں بھی نرو پر دباؤ بڑھا سکتی ہیں۔ جن افراد کی کارپل ٹنل قدرتی طور پر چھوٹی ہوتی ہے، ان میں اس بیماری کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے-

جنس

یہ بیماری خواتین میں مردوں کی نسبت زیادہ عام ہے۔ اس کی ایک وجہ خواتین میں کارپل ٹنل کا نسبتاً چھوٹا ہونا ہو سکتی ہے۔ ہارمونز بھی کلائی کے اندر موجود ریشوں کی جھلی پر اثر انداز ہو سکتے ہیں-

اعصابی بیماریاں

ذیابیطس جیسی دائمی بیماریاں اعصاب کو نقصان پہنچا سکتی ہیں، جس میں میڈین نرو بھی شامل ہے

سوزش والی بیماریاں

روماٹائیڈ آرتھرائٹس، گاؤٹ اور سوزش والی دیگر بیماریاں کلائی کے ریشوں کے گرد موجود جھلی کو متاثر کرتی ہیں۔ اس سے میڈین نرو پر دباؤ بڑھ سکتا ہے

ادویات

بعض تحقیقات میں بریسٹ کینسر کے علاج میں استعمال ہونے والی ایک دوا، اور کارپل ٹنل سنڈروم کے درمیان تعلق دیکھا گیا ہے۔

موٹاپا

موٹاپا اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کرتا ہے۔

جسم میں پانی جمع ہونا

جسم میں پانی رکنے سے کارپل ٹنل کے اندر دباؤ بڑھ سکتا ہے۔ یہ کیفیت حمل اور مینوپاز کے دوران عام ہوتی ہے۔ حمل کے دوران ہونے والا کارپل ٹنل سنڈروم اکثر زچگی کے بعد خود بخود بہتر ہو جاتا ہے۔

دیگر طبی بیماریاں

تھائرائیڈ کی بیماریاں، گردوں کی خرابی اور لمف کی سوجن اس بیماری کا خطرہ بڑھا سکتی ہیں۔

کام کی نوعیت

وائبریشن پیدا کرنے والے اوزار استعمال کرنا یا ایسے کام کرنا جن میں کلائی کو بار بار موڑنا پڑے، میڈین نرو پر دباؤ بڑھا سکتا ہے۔ ٹھنڈے ماحول میں کام کرنے سے یہ مسئلہ مزید بڑھ سکتا ہے۔

سائنسی شواہد ابھی تک ان عوامل کو اس بیماری کی براہ راست وجہ ثابت نہیں کر سکے ہیں۔ کمپیوٹر کے استعمال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے۔ بعض شواہد کے مطابق ماؤس کا زیادہ استعمال اس بیماری سے متعلق ہو سکتا ہے، جبکہ کی بورڈ کے استعمال کے بارے میں واضح ثبوت موجود نہیں۔ اسی طرح کمپیوٹر کے زیادہ استعمال کو کارپل ٹنل سنڈروم کے ثابت شدہ خطرے کا عامل نہیں سمجھا جاتا، اگرچہ اس سے ہاتھ میں دوسری قسم کا درد پیدا ہو سکتا ہے۔

بچاؤ کی تدابیر

کارپل ٹنل سنڈروم سے مکمل بچاؤ کا کوئی ثابت شدہ طریقہ موجود نہیں، تاہم درج ذیل اقدامات ہاتھ اور کلائی پر دباؤ کم کرنے میں مدد دے سکتے ہیں۔

گرفت نرم رکھیں: اگر آپ کی بورڈ یا کیش رجسٹر استعمال کرتے ہیں تو بٹن نرمی سے دبائیں

وقفے لیتے رہیں: وقفے وقفے سے ہاتھوں اور کلائی کی ہلکی ورزش کریں۔ اگر ممکن ہو تو مختلف کام باری باری انجام دیں۔ اگر آپ وائبریشن والے اوزار استعمال کرتے ہیں تو ہر گھنٹے میں چند منٹ کا وقفہ ضرور لیں

کلائی کی درست پوزیشن برقرار رکھیں: کی بورڈ استعمال کرتے وقت کلائی کو زیادہ اوپر یا نیچے نہ موڑیں۔ کلائی کو آرام دہ حالت میں فرش کے متوازی رکھیں اور کی بورڈ کو کہنی کی سطح یا اس سے تھوڑا نیچے رکھیں

جسمانی نشست بہتر بنائیں: کمپیوٹر سکرین کے مطابق جسم کو موڑنے کے بجائے سکرین کی اونچائی اور فاصلہ درست رکھیں۔ غلط نشست سے گردن اور کندھوں پر دباؤ بڑھتا ہے، جس سے ہاتھ اور بازو بھی متاثر ہو سکتے ہیں

مناسب کمپیوٹر ماؤس استعمال کریں: ایسا ماؤس منتخب کریں جو کلائی پر غیر ضروری دباؤ نہ ڈالے

ہاتھ گرم رکھیں: ٹھنڈے ماحول میں ہاتھوں میں درد اور اکڑن کا امکان زیادہ ہوتا ہے۔ اگر درجہ حرارت پر قابو نہ ہو تو بغیر انگلیوں والے گرم دستانے استعمال کریں

Frequently Asked Questions (FAQs

کیا کارپل ٹنل سنڈروم خود بخود ٹھیک ہو سکتا ہے؟

ہلکی علامات بعض اوقات آرام سے بہتر ہو سکتی ہیں، لیکن اگر علامات برقرار رہیں تو ڈاکٹر سے معائنہ کرانا ضروری ہے۔

کیا ہر مریض کو آپریشن کی ضرورت ہوتی ہے؟

نہیں، زیادہ تر مریض ادویات، کلائی کی سپورٹ اور دیگر علاج سے بہتر ہو جاتے ہیں۔ شدید صورتوں میں آپریشن کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔

کیا موبائل فون یا کمپیوٹر استعمال کرنے سے یہ بیماری ہوتی ہے؟

موجودہ سائنسی شواہد کے مطابق کمپیوٹر کا زیادہ استعمال اس بیماری کی ثابت شدہ وجہ نہیں، تاہم اس سے ہاتھ میں دوسری قسم کا درد پیدا ہو سکتا ہے۔

اگر علاج نہ کرایا جائے تو کیا ہو سکتا ہے؟

بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں میڈین نرو اور ہاتھ کے عضلات کو مستقل نقصان پہنچ سکتا ہے۔

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=orthopedic

Vinkmag ad

Read Previous

پیریوڈونٹائٹس: مسوڑھوں کی بیماری

Read Next

گاؤٹ

Leave a Reply

Most Popular