کن پیڑے (Mumps) ایک وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر چہرے کے دونوں طرف موجود تھوک بنانے والے غدود کو متاثر کرتی ہے۔ اس کی وجہ سے ان غدود میں سوجن اور درد ہو سکتا ہے۔ ایم ایم آر ویکسین کی بدولت کن پیڑوں کے کیسز اب کم ہو گئے ہیں، لیکن بعض اوقات اس بیماری کے پھیلاؤ کے واقعات سامنے آ سکتے ہیں۔ اس لیے بروقت تشخیص اور مناسب نگہداشت سے علامات اور پیچیدگیوں کے خطرے کو کم کیا جا سکتا ہے۔
علامات
کن پیڑے کی علامات وائرس لگنے کے تقریباً 2 سے 3 ہفتے بعد ظاہر ہو سکتی ہیں۔ کن پیڑوں کی علامات ہیں:
ابتدائی علامات فلو سے ملتی جلتی ہو سکتی ہیں، جیسے:
٭ بخار
٭ سر درد
٭ پٹھوں میں درد
٭ بھوک میں کمی
٭ تھکاؤٹ
٭ چہرے کے ایک یا دونوں جانب تھوک کے غدود میں سوجن
٭ سوجن والی جگہ پر درد یا حساسیت
٭ کم صورتوں میں منہ کے نچلے حصے کے غدود میں سوجن
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر آپ یا آپ کے بچے میں کن پیڑے کی علامات ظاہر ہوں تو ڈاکٹر سے رجوع کریں، خاص طور پر اگر یہ علامات موجود ہوں:
٭ 39 ڈگری سینٹی گریڈ یا اس سے زیادہ بخار
٭ کھانے یا پینے میں دشواری
٭ الجھن یا ذہنی انتشار
٭ پیٹ میں درد
٭ خصیوں میں درد یا سوجن
وجوہات
کن پیڑے ایک وائرس کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ وائرس ان طریقوں سے ایک سے دوسرے شخص میں منتقل ہو سکتا ہے:
٭ کھانسنے یا چھینکنے سے[
٭ وائرس کا سانس کے ذریعے اندر جانا
٭ آلودہ سطح کو چھونے کے بعد چہرے کو ہاتھ لگانے سے
٭ بوسہ لینے یا پانی کی بوتل جیسی اشیاء استعمال کرنے سے
٭ کالج، اسکول، سمر کیمپ یا دیگر گنجان جگہوں پر قریبی رابطے میں رہنے سے
پیچیدگیاں
اگر کن پیڑوں کا بروقت علاج نہ ہو یا ویکسین نہ لگی ہو تو یہ پیچیدگیاں پیدا ہو سکتی ہیں:
٭ خصیوں میں سوجن، درد اور بعض صورتوں میں زرخیزی متاثر ہونا
٭ بیضہ دانی میں سوجن، درد، متلی، الٹی یا بخار
٭ دماغ کی سوزش (Encephalitis)
٭ دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کی جھلیوں کی سوزش (Meningitis)
٭ سماعت میں کمی
٭ لبلبے کی سوزش (Pancreatitis)
٭ حمل کے ابتدائی 12 ہفتوں میں اسقاط حمل کا خطرہ
بچاؤ کے تدابیر
کن پیڑوں سے بچاؤ کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
٭ ایم ایم آر ویکسین کی دونوں خوراکیں وقت پر لگوائیں
٭ اگر ویکسین مکمل نہ ہوئی ہو یا یقین نہ ہو تو ڈاکٹر سے مشورہ کریں
٭ کالج کے طلبہ، فوجی اہلکار، بین الاقوامی مسافر اور طبی عملہ اپنی ویکسینیشن مکمل رکھیں
٭ حمل کے دوران ایم ایم آر ویکسین نہ لگوائیں
٭ کمزور مدافعتی نظام والے افراد ویکسین سے پہلے ڈاکٹر سے مشورہ کریں
ویکسین لگنے کے بعد انجیکشن کی جگہ درد، ہلکا بخار، معمولی خارش یا غدود کی ہلکی سوجن ہو سکتی ہے۔
تشخیص
تشخیص کے لیے ڈاکٹر علامات اور متاثرہ شخص سے رابطے کی معلومات کی تفصیلات لیتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق منہ کے نمونے، خون یا بعض صورتوں میں پیشاب کا ٹیسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔
علاج
کن پیڑوں کا کوئی مخصوص علاج موجود نہیں، تاہم علامات کم کرنے اور صحت یابی کے لیے یہ اقدامات کیے جا سکتے ہیں:
٭ زیادہ سے زیادہ آرام کرنا
٭ درد یا بخار کے لیے ادویات مثلاً آئبوپروفین یا پیراسیٹامول وغیرہ
٭ سوجے ہوئے تھوک کے غدود پر ٹھنڈی یا نیم گرم پٹی رکھنا
٭ خصیوں میں سوجن ہو تو ٹھنڈی پٹی یا آئس پیک استعمال کرنا
٭ زیادہ مقدار میں پانی اور دیگر مشروبات پینا
٭ تھوک کے غدود میں سوجن شروع ہونے کے بعد کم از کم 5 دن تک دوسروں سے الگ رہنا
Frequently Asked Questions (FAQs)
کن پیڑے کیا ہیں؟
کن پیڑے ایک وائرل بیماری ہے جو زیادہ تر لعاب بنانے والے غدود کو متاثر کرتی ہے۔
کن پیڑوں کی عام علامات کیا ہیں؟
بخار، سر درد، تھکاؤٹ، پٹھوں میں درد اور چہرے کے اطراف غدود میں سوجن اس کی عام علامات ہیں۔
کیا کن پیڑوں کا علاج موجود ہے؟
اس کا کوئی مخصوص علاج نہیں، لیکن آرام اور علامات کے مطابق علاج سے زیادہ تر مریض چند دن میں بہتر ہو جاتے ہیں۔
نوٹ یہ مضمون صرف معلوماتی مقاصد کے لیے ہے۔ اگر علامات شدید ہوں یا پیچیدگی کی کوئی علامت ظاہر ہو تو فوراً مستند ڈاکٹر سے رجوع کریں۔