نمونیا (Pneumonia) پھیپھڑوں کا ایک انفیکشن ہے جس میں پھیپھڑوں کے ہوا سے بھرے چھوٹے تھیلوں میں سوزش ہو جاتی ہے۔ ان تھیلوں میں پانی یا پیپ بھر سکتی ہے۔ یہ بیماری بیکٹیریا، وائرس یا فنگس کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ نمونیا ہلکی یا جان لیوا دونوں صورتوں میں ہو سکتا ہے، خاص طور پر چھوٹے بچوں، بزرگوں اور کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں۔
علامات
نمونیا کی یہ علامات ہوسکتی ہیں:
٭ سانس لینے یا کھانسی کے وقت سینے میں درد
٭ بخار، پسینہ آنا یا کپکپی
٭ تھکاؤٹ یا کمزوری
٭ سانس پھولنا
٭ متلی، قے یا اسہال
٭ 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد میں الجھن
نوزائیدہ بچوں میں بخار، قے، کھانسی، سستی، سانس لینے یا دودھ پینے میں دشواری بھی نمونیا کی علامات ہو سکتی ہیں۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں؟
اگر سانس لینے میں دشواری، سینے میں درد، 39°C یا اس سے زیادہ مسلسل بخار، یا بلغم کے ساتھ مسلسل کھانسی ہو تو فوراً ڈاکٹر سے رجوع کریں۔ یہ خاص طور پر 65 سال سے زیادہ عمر کے افراد، 2 سال سے کم عمر بچوں، کمزور مدافعتی نظام یا دیگر بیماریوں والے افراد کے لیے بہت ضروری ہے کیونکہ ان میں نمونیا جان لیوا ثابت ہو سکتا ہے۔
وجوہات
نمونیا مختلف جراثیم کی وجہ سے ہو سکتا ہے۔ عام طور پر اس کی وجوہات یہ ہیں:
٭ بیکٹیریا
٭ مائیکوپلازما جیسے بیکٹیریا نما جراثیم
٭ فنگس، خاص طور پر کمزور مدافعتی نظام والے افراد میں
٭ وائرس، جیسے نزلہ، فلو اور COVID-19
نمونیا انفیکشن کی جگہ یا وجہ کے لحاظ سے مختلف اقسام کا ہو سکتا ہے، مثلاً کمیونٹی، ہسپتال یا طبی نگہداشت سے ہونے والا نمونیا، اور ایسپیریشن نمونیا۔
خطرے کے عوامل
2 سال سے کم اور 65 سال یا اس سے زیادہ عمر کے افراد میں اور یہ عوامل خطرہ بڑھا سکتے ہیں :
٭ ہسپتال، خاص طور پر آئی سی یو میں زیر علاج ہونا
٭ وینٹی لیٹر پر ہونا
٭ دمہ، سی او پی ڈی (COPD) یا دل کی بیماری ہونا
٭ سگریٹ نوشی کرنا
٭ ایچ آئی وی/ایڈز یا کمزور مدافعتی نظام ہونا
٭ اعضا کی پیوندکاری (ٹرانسپلانٹ) کروانا
٭ کیموتھراپی یا طویل عرصے تک سٹیرائیڈ ادویات استعمال کرنا
پیچیدگیاں
علاج کے باوجود، بعض مریضوں میں نمونیا یہ پیچیدگیاں پیدا کر سکتا ہے:
٭ خون میں بیکٹیریا پھیلنا
٭ سانس لینے میں شدید دشواری
٭ پھیپھڑوں کے اردگرد پانی جمع ہونا
٭ پھیپھڑوں میں پیپ بھر جانا (لنگ ایبسیس)
تشخیص
نمونیا کی تشخیص کے لیے ڈاکٹر میڈیکل ہسٹری پوچھتے ہیں، جسمانی معائنہ کرتے ہیں اور پھیپھڑوں کا جائزہ لیتے ہیں۔ ضرورت کے مطابق بلڈ ٹیسٹ، ایکسرے، پلس آکسی میٹری اور بلغم کا ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔ بعض صورتوں میں سی ٹی اسکین یا پھیپھڑوں کے گرد موجود سیال کا ٹیسٹ بھی کیا جا سکتا ہے۔
علاج
اس کی علاج میں یہ طریقے استعمال ہو سکتے ہیں:
٭ بیکٹیریا سے ہونے والے نمونیا کے لیے اینٹی بایوٹکس
٭ کھانسی کم کرنے کی دوا، اگر ضرورت ہو
٭ بخار اور درد کم کرنے کی ادویات
٭ زیادہ تر مریض ادویات کے ساتھ گھر پر علاج کر سکتے ہیں
علامات چند دن یا ہفتوں میں بہتر ہو سکتی ہیں، لیکن تھکاؤٹ ایک ماہ یا اس سے زیادہ عرصے تک رہ سکتی ہے۔
بچاؤ کے تدابیر
نمونیا سے بچاؤ کے لیے یہ احتیاطی تدابیر اختیار کریں:
٭ نمونیا اور فلو کی ویکسین لگوائیں
٭ بچوں کی عمر کے مطابق ویکسینیشن مکمل کروائیں
٭ ہاتھ باقاعدگی سے دھوئیں یا سینیٹائزر استعمال کریں
٭ سگریٹ نوشی سے پرہیز کریں
٭ مناسب نیند لیں، باقاعدگی سے ورزش کریں اور متوازن غذا کھائیں
Frequently Asked Questions (FAQs)
نمونیا کیا ہے؟
یہ پھیپھڑوں کا ایک انفیکشن ہے جس میں ہوا کے تھیلوں میں سوزش اور سیال یا پیپ جمع ہو سکتی ہے۔
کیا نمونیا متعدی بیماری ہے؟
بعض اقسام، خاص طور پر وائرس یا بیکٹیریا سے ہونے والا نمونیا، دوسروں میں منتقل ہو سکتا ہے۔
کیا بچوں اور بزرگوں میں نمونیا زیادہ خطرناک ہوتا ہے؟
جی ہاں، ان میں پیچیدگیوں کا خطرہ زیادہ ہوتا ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔