یوریٹر میں رکاوٹ (Ureteral Obstruction) اس حالت کو کہتے ہیں، جس میں گردوں سے مثانے تک پیشاب لے جانے والی ایک یا دو نالیاں (یوریٹرز) بند ہو جاتی ہیں۔ یہ بیماری قابلِ علاج ہے، تاہم بروقت علاج نہ ہونے پر ہلکی علامات، جیسے درد، بخار اور انفیکشن، تیزی سے سنگین پیچیدگیوں میں بدل سکتی ہیں۔ ان میں گردوں کی کارکردگی متاثر ہونا، خون میں شدید انفیکشن (سیپسس) اور جان کو خطرہ لاحق ہونا بھی شامل ہے۔
علامات
بعض مریضوں میں ابتدا میں کوئی واضح علامت سامنے نہیں آتی۔ جب علامات ظاہر ہوتی ہیں تو ان کی نوعیت اور شدت کا انحصار رکاوٹ کی جگہ، اس کے مکمل یا جزوی ہونے، پیدا ہونے کی رفتار، اور ایک یا دونوں گردوں کے متاثر ہونے پر ہوتا ہے۔ ممکنہ علامات میں شامل ہیں:
٭ درد
٭ پیشاب کی مقدار میں تبدیلی
٭ پیشاب کرنے میں دشواری
٭ پیشاب میں خون آنا
٭ پیشاب کی نالی کا انفیکشن
٭ ہائی بلڈ پریشر
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر درج ذیل علامات میں سے کوئی بھی ظاہر ہو تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔ فوری طبی امداد حاصل کریں اگر:
٭ درد اتنا شدید ہو کہ بیٹھنا یا آرام دہ حالت اختیار کرنا ممکن نہ رہے
٭ درد کے ساتھ متلی اور قے بھی ہو
٭ درد کے ساتھ بخار اور کپکپی ہو
٭ پیشاب میں خون آئے
٭ پیشاب کرنے میں شدید دشواری ہو
وجوہات
یوریٹر کی رکاوٹ مختلف وجوہات کی بنا پر پیدا ہو سکتی ہے۔ بعض وجوہات پیدائشی ہوتی ہیں، جبکہ بعض بعد میں پیدا ہوتی ہیں۔ ان میں سے کچھ یہ ہیں:
دوہرا یوریٹر
یہ ایک پیدائشی خرابی ہے، جس میں ایک ہی گردے سے دو یوریٹر بن جاتے ہیں۔ دوسرا یوریٹر مکمل یا جزوی طور پر بنا ہو سکتا ہے۔ اگر ان میں سے کوئی درست کام نہ کرے تو پیشاب گردے میں واپس جمع ہونے لگتا ہے، جس سے گردے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
گردے یا مثانے سے یوریٹر کے جوڑ پر رکاوٹ
اگر گردے اور یوریٹر کے ملنے کی جگہ پر رکاوٹ پیدا ہو جائے تو پیشاب کا بہاؤ متاثر ہو جاتا ہے۔ اس کے نتیجے میں پیشاب واپس گردے میں جمع ہونے لگتا ہے، جس سے گردہ سوج سکتا ہے اور وقت کے ساتھ اس کی کارکردگی متاثر ہو سکتی ہے۔ یہ مسئلہ پیدائشی بھی ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ بچپن کے دوران جسمانی نشوونما، چوٹ، زخم کے نشان یا شاذ و نادر صورتوں میں رسولی بھی اس کی وجہ بن سکتی ہے۔
یوریٹروسیل
اگر یوریٹر غیر معمولی طور پر تنگ ہو تو پیشاب مکمل طور پر نہیں گزر پاتا۔ اس صورت میں یوریٹر میں ایک چھوٹا سا ابھار بن سکتا ہے، جسے یوریٹروسیل کہا جاتا ہے۔ یہ ابھار عموماً مثانے کے قریب بنتا ہے۔ اس سے پیشاب کا بہاؤ رک سکتا ہے اور گردے کو نقصان پہنچ سکتا ہے۔
ریشے دار ٹشو کی بڑھوتری
یہ ایک نایاب بیماری ہے، جس میں پیٹ کے پچھلے حصے میں ریشے دار ٹشو غیر معمولی طور پر بڑھنے لگتا ہے۔ یہ کیفیت بعض اوقات کینسر یا مائیگرین کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض ادویات کے نتیجے میں پیدا ہو سکتی ہے۔ بڑھا ہوا ٹشو یوریٹر کو دبا دیتا ہے، جس سے پیشاب کا بہاؤ متاثر ہوتا ہے اور پیشاب واپس گردوں میں جمع ہونے لگتا ہے۔
دیگر ممکنہ وجوہات
یوریٹر کے اندر یا باہر موجود مختلف مسائل بھی رکاوٹ کا سبب بن سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
٭ گردے کی پتھری
٭ کینسر یا غیر سرطانی رسولیاں
٭ خون کے کلاٹ
٭ لمف نوڈز کا بڑھ جانا
٭ خواتین میں رحم کی اندرونی جھلی کا غیر معمولی بڑھنا
٭ یوریٹر کی دیوار میں طویل عرصے تک سوجن، جو ٹی بی یا شسٹوسومیاسس نامی پیراسائیٹ انفیکشن کے باعث ہو سکتی ہے
خطرے کے عوامل
چند عوامل یوریٹر کی رکاوٹ کا خطرہ بڑھا سکتے ہیں۔ ان میں پیدائشی نقائص، گردے یا مثانے کی پتھری، خون کے کلاٹ، رسولیاں، غیر معمولی ٹشو کی بڑھوتری اور لمف نوڈز کا بڑھ جانا شامل ہیں۔
پیچیدگیاں
بروقت علاج نہ ہونے کی صورت میں یہ بیماری درج ذیل پیچیدگیاں پیدا کر سکتی ہے:
٭ پیشاب کی نالی کا انفیکشن
٭ گردوں کو مستقل نقصان
تشخیص
پیدائشی کیسز کی تشخیص اکثر حمل کے دوران معمول کے الٹراساؤنڈ سے ہو جاتی ہے۔ پیدائش کے بعد گردوں کی دوبارہ جانچ کے لیے ایک اور الٹراساؤنڈ کیا جاتا ہے۔
اگر ڈاکٹر کو یوریٹر کی رکاوٹ کا شبہ ہو تو درج ذیل ٹیسٹ تجویز کیے جا سکتے ہیں:
٭ خون اور پیشاب کے ٹیسٹ، جن سے انفیکشن اور گردوں کی کارکردگی کا اندازہ لگایا جاتا ہے
٭ الٹراساؤنڈ، جس سے گردوں اور یوریٹر کا معائنہ کیا جاتا ہے
٭ مثانے میں کیتھیٹر ڈال کر رنگ دار دوا کے ذریعے ایکسرے، تاکہ پیشاب کے بہاؤ کا جائزہ لیا جا سکے
٭ گردے کا نیوکلیئر سکین، جس سے گردوں کی کارکردگی دیکھی جاتی ہے
٭ سسٹوسکوپی، جس میں باریک کیمرے سے پیشاب کی نالی اور مثانے کا اندرونی معائنہ کیا جاتا ہے
٭ سی ٹی سکین، جو گردوں، یوریٹر اور مثانے کی تفصیلی تصاویر فراہم کرتا ہے
٭ ایم آر آئی، جس سے پیشاب کے نظام کے اعضا کی واضح تصاویر حاصل کی جاتی ہیں
علاج
علاج کا بنیادی مقصد رکاوٹ کو دور کرنا یا پیشاب کے بہاؤ کے لیے متبادل راستہ فراہم کرنا ہے، تاکہ گردوں کو مزید نقصان سے بچایا جا سکے۔
اگر انفیکشن بھی موجود ہو تو اینٹی بائیوٹکس دی جاتی ہیں۔
پیشاب نکالنے کے پروسیجرز
اگر رکاوٹ شدید درد یا مکمل بندش کا سبب بن رہی ہو تو فوری طور پر پیشاب خارج کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔ اس مقصد کے لیے ڈاکٹر درج ذیل طریقوں میں سے کوئی ایک تجویز کر سکتے ہیں:
٭ یوریٹرل سٹینٹ، جس میں یوریٹر کے اندر باریک کھوکھلی نالی رکھ کر راستہ کھلا رکھا جاتا ہے
٭ پرکیوٹینیئس نیفروسٹومی، جس میں کمر کے راستے گردے میں ٹیوب ڈال کر پیشاب باہر نکالا جاتا ہے
٭ کیتھیٹر، جسے پیشاب کی نالی کے ذریعے مثانے میں ڈال کر پیشاب بیرونی تھیلی میں منتقل کیا جاتا ہے
یہ طریقے مریض کی حالت کے مطابق عارضی یا مستقل ہو سکتے ہیں۔
سرجری
اگر رکاوٹ دوسرے طریقوں سے دور نہ ہو تو سرجری کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔ مریض کی حالت اور رکاوٹ کی نوعیت کے مطابق موزوں سرجری منتخب کی جاتی ہے۔
اینڈوسکوپک سرجری
یہ کم تکلیف دہ طریقہ ہے، جس میں ایک کیمرہ پیشاب کی نالی کے ذریعے داخل کیا جاتا ہے۔ رکاوٹ والے حصے کو چوڑا کیا جاتا ہے اور یوریٹر کو کھلا رکھنے کے لیے سٹینٹ لگا دیا جاتا ہے۔
اوپن سرجری
اس طریقے میں پیٹ پر چیرا لگا کر رکاوٹ دور کی جاتی ہے اور متاثرہ یوریٹر کی مرمت کی جاتی ہے۔
لیپروسکوپک سرجری
اس میں جلد پر چند چھوٹے چیروں کے ذریعے کیمرہ اور سرجیکل آلات داخل کیے جاتے ہیں، جس سے آپریشن کم تکلیف دہ ہوتا ہے۔
روبوٹک لیپروسکوپک سرجری
اس جدید طریقے میں سرجن روبوٹک نظام کی مدد سے لیپروسکوپک آپریشن انجام دیتا ہے، جس سے زیادہ درستگی حاصل ہوتی ہے۔
ان تمام طریقوں میں بنیادی فرق چیروں کی تعداد، ان کے سائز اور صحت یابی کے دورانیے کا ہوتا ہے۔ حتمی فیصلہ یورولوجسٹ مریض کی مجموعی حالت کو مدنظر رکھ کر کرتے ہیں۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا یوریٹر کی رکاوٹ ہمیشہ سرجری سے ہی ٹھیک ہوتی ہے؟
نہیں۔ اگر رکاوٹ معمولی ہو یا اس کی وجہ پتھری یا عارضی سوجن ہو تو ادویات، سٹینٹ یا دیگر طریقوں سے بھی علاج ممکن ہے۔ سرجری صرف ضرورت پڑنے پر کی جاتی ہے۔
کیا علاج کے بعد گردے دوبارہ معمول کے مطابق کام کرنے لگتے ہیں؟
اگر رکاوٹ بروقت دور کر دی جائے تو اکثر مریضوں میں گردوں کی کارکردگی بہتر ہو جاتی ہے۔ تاہم دیر سے علاج کی صورت میں نقصان مستقل بھی ہو سکتا ہے۔
کیا یوریٹرل سٹینٹ ہمیشہ کے لیے لگایا جاتا ہے؟
نہیں۔ زیادہ تر سٹینٹ عارضی ہوتے ہیں اور ڈاکٹر مناسب وقت پر انہیں نکال دیتے ہیں یا ضرورت کے مطابق تبدیل کرتے ہیں۔
کیا یوریٹر کی رکاوٹ دوبارہ بھی ہو سکتی ہے؟
جی ہاں۔ اگر بنیادی وجہ، جیسے پتھری، رسولی یا پیدائشی خرابی برقرار رہے تو رکاوٹ دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔ اسی لیے باقاعدہ فالو اپ اور ڈاکٹر کی ہدایات پر عمل کرنا ضروری ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=urologist