اپنی جسمانی ساخت کے بارے میں وہم (Body Dysmorphic Disorder) ذہنی صحت کا مرض ہے، جس میں مبتلا شخص اپنی شکل کی ایک یا زیادہ خامیوں کے بارے میں مسلسل سوچتا رہتا ہے۔ یہ خامیاں دوسروں کو معمولی محسوس ہوتی ہیں یا بالکل نظر نہیں آتیں، لیکن مریض انہیں بہت بڑا مسئلہ سمجھتا ہے۔ اس کے نتیجے میں وہ شدید شرمندگی، بے چینی اور اضطراب کا شکار رہتا ہے، حتیٰ کہ لوگوں سے میل جول سے بھی گریز کرنے لگتا ہے۔
اس عارضے میں مبتلا افراد اپنی ظاہری شکل پر غیر معمولی توجہ دیتے ہیں۔ وہ بار بار آئینہ دیکھتے ہیں، سنگھار کرتے ہیں یا دوسروں سے اپنی شکل کے بارے میں تسلی اور یقین دہانی حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ رویے روزانہ کئی گھنٹے جاری رہ سکتے ہیں، جس سے معمولاتِ زندگی، تعلیم، ملازمت اور سماجی تعلقات متاثر ہوتے ہیں۔
بعض افراد اپنی سمجھی ہوئی خامی دور کرنے کے لیے بار بار کاسمیٹک علاج یا سرجری کرواتے ہیں۔ اگرچہ اس کے بعد وقتی اطمینان یا بے چینی میں کمی محسوس ہو سکتی ہے، لیکن یہ کیفیت عموماً دوبارہ لوٹ آتی ہے۔ نتیجتاً وہ نئی خامیاں تلاش کرنے یا مزید علاج کرانے کی کوشش میں لگے رہتے ہیں۔
علامات
جسمانی ساخت کے بارے میں وہم کی نمایاں علامات درج ذیل ہیں:
٭ ظاہری شکل کی کسی ایسی خامی پر غیر معمولی توجہ دینا جو دوسروں کو نظر نہ آئے یا بہت معمولی ہو
٭ یہ پختہ یقین رکھنا کہ آپ کی ظاہری شکل میں ایسی خرابی ہے جو آپ کو بدصورت یا بگڑی ہوئی شکل کا حامل بناتی ہے
٭ یہ محسوس کرنا کہ دوسرے لوگ آپ کی ظاہری شکل پر منفی نظر رکھتے ہیں یا آپ کا مذاق اڑاتے ہیں
٭ بار بار آئینہ دیکھنا، سنگھار کرنا یا جلد کو کھرچنا، جس پر قابو پانا مشکل ہو
٭ بالوں کے انداز، میک اپ یا لباس کے ذریعے اپنی سمجھی ہوئی خامی چھپانے کی کوشش کرنا
٭ اپنی ظاہری شکل کا مسلسل دوسروں سے موازنہ کرنا
٭ بار بار دوسروں سے اپنی ظاہری شکل کے بارے میں یقین دہانی طلب کرنا
٭ سماجی تقریبات اور لوگوں سے ملنے جلنے سے گریز کرنا
زیادہ توجہ کے مرکز اعضاء
عام طور پر درج ذیل جسمانی حصوں کے بارے میں زیادہ فکر کی جاتی ہے:
٭ چہرہ، جیسے ناک، رنگت، جھریاں، مہاسے یا دیگر داغ
٭ بال، جیسے ان کی ساخت، گھنا پن، کم ہونا یا گنج پن
٭ جلد یا نمایاں رگیں
٭ چھاتیوں کا سائز
٭ پٹھوں کا حجم اور مضبوطی
٭ جنسی اعضاء
بعض مردوں میں یہ احساس پیدا ہوتا ہے کہ ان کے پٹھے بہت چھوٹے یا ناکافی ہیں، حالانکہ حقیقت میں ایسا نہیں ہوتا۔ اس کیفیت کو مَسل ڈسمورفیا کہا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
جسمانی ساخت کے بارے میں وہم کی بیماری عموماً خود بخود ختم نہیں ہوتی۔ اگر اس کا علاج نہ کیا جائے تو وقت کے ساتھ علامات شدید ہو سکتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں بے چینی، علاج پر زیادہ اخراجات، شدید افسردگی اور یہاں تک کہ خودکشی کے خیالات یا کوشش کا خطرہ بھی بڑھ سکتا ہے۔
اگر خودکشی کے خیالات آئیں
جسمانی ساخت کے بارے میں وہم کی خرابی میں خودکشی کے خیالات یا خود کو نقصان پہنچانے کا خطرہ بڑھ سکتا ہے۔ اگر آپ کو ایسا محسوس ہو تو فوری مدد حاصل کریں۔ ایسے میں:
٭ اپنے ذہنی صحت کے معالج کو فوراً اطلاع دیں
٭ اپنے فیملی ڈاکٹر سے رابطہ کریں
٭ کسی قابلِ اعتماد دوست یا خاندان کے فرد سے مدد طلب کریں
٭ اپنے مذہبی یا روحانی رہنما سے رابطہ کریں
وجوہات
اس بیماری کی درست وجہ ابھی تک معلوم نہیں ہو سکی۔ تاہم، دیگر ذہنی صحت کے عوارض کی طرح ماہرین کا خیال ہے کہ اس کے پیچھے کئی عوامل مل کر کردار ادا کرتے ہیں:
٭ خاندان میں اس بیماری یا دیگر ذہنی عوارض کی موجودگی
٭ جسمانی شکل یا خود اعتمادی سے متعلق منفی تجربات
٭ دماغی افعال میں غیر معمولی تبدیلیاں
٭ دماغ میں سیروٹونن نامی کیمیائی مادے کی سطح میں تبدیلی
خطرے کے عوامل
یہ بیماری عموماً نوعمری کے ابتدائی برسوں میں ظاہر ہوتی ہے اور مردوں اور خواتین دونوں کو متاثر کر سکتی ہے۔ درج ذیل عوامل اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کر سکتے ہیں:
٭ خاندان میں جسمانی ساخت کے بارے میں وہم یا او سی ڈی (Obsessive- Compulsive Disorder) کا موجود ہونا
٭ بچپن میں مذاق اڑائے جانے ، نظرانداز کیے جانے یا جسمانی و ذہنی بدسلوکی کا سامنا کرنا
٭ حد سے زیادہ کمال پسندی کی شخصیت
٭ خوبصورتی سے متعلق معاشرتی دباؤ یا غیر حقیقی توقعات
٭ پہلے سے بے چینی، افسردگی یا کوئی اور ذہنی صحت کا عارضہ ہونا
ممکنہ پیچیدگیاں
اگر اس بیماری کا بروقت علاج نہ کیا جائے تو یہ متعدد ذہنی، جسمانی اور سماجی مسائل کا سبب بن سکتی ہے، جن میں شامل ہیں:
٭ خود اعتمادی میں نمایاں کمی
٭ سماجی تنہائی
٭ شدید افسردگی یا دیگر مزاجی عوارض
٭ خودکشی کے خیالات یا خودکشی کی کوشش
٭ بے چینی کی بیماریاں، خصوصاً سماجی بے چینی
٭ او سی ڈی کی بیماری
٭ کھانے پینے سے متعلق عوارض
٭ منشیات کا استعمال
٭ جلد کو بار بار کھرچنے سے پیدا ہونے والے طبی مسائل
٭ بار بار سرجری یا دیگر پروسیجرز کے باعث جسمانی درد یا مستقل جسمانی نقصان
بچاؤ کی تدابیر
جسمانی ساخت کے بارے میں وہم کے ڈس آرڈر سے مکمل بچاؤ کا کوئی ثابت شدہ طریقہ موجود نہیں۔ تاہم، چونکہ یہ بیماری عموماً نوعمری کے آغاز میں ظاہر ہوتی ہے، اس لیے بروقت تشخیص اور فوری علاج علامات کی شدت کم کرنے اور بیماری پر بہتر قابو پانے میں مددگار ثابت ہو سکتا ہے۔
تشخیص
دیگر جسمانی بیماریوں کو خارج از امکان کرنے کے لیے ابتدائی طبی معائنے کے بعد معالج آپ کو ذہنی صحت کے ماہر کے پاس بھیج سکتا ہے۔ جسمانی ساخت کے بارے میں وہم کے مرض کی تشخیص عموماً درج ذیل بنیادوں پر کی جاتی ہے:
٭ نفسیاتی جائزہ، جس میں منفی تاثر سے متعلق خیالات، احساسات، رویوں اور خطرے کے عوامل کا جائزہ لیا جاتا ہے
٭ ذاتی، سماجی، خاندانی اور میڈیکل ہسٹری
٭ موجود علامات اور ان کی شدت
علاج
جسمانی ساخت کے بارے میں وہم کے علاج میں عموماً کوگنیٹو بیہہیوریل تھراپی (سی بی ٹی) اور ادویات کا امتزاج شامل ہوتا ہے۔
کوگنیٹو بیہہیوریل تھراپی (سی بی ٹی)
اس تھراپی کا مقصد مریض کو اپنی سوچ اور رویوں میں مثبت تبدیلی لانے میں مدد دینا ہے۔ اس کے ذریعے درج ذیل امور پر توجہ دی جاتی ہے:
٭ یہ سمجھنے میں مدد دینا کہ منفی خیالات، جذبات اور رویے اس عارضے کو کیسے برقرار رکھتے ہیں
٭ جسمانی تاثر سے متعلق منفی خیالات کو چیلنج کرنا اور زیادہ متوازن انداز میں سوچنا سکھانا
٭ بار بار آئینہ دیکھنے، دوسروں سے یقین دہانی لینے اور غیر ضروری طبی یا کاسمیٹک علاج کی خواہش پر قابو پانے کے متبادل طریقے سکھانا
٭ سماجی تنہائی کم کرنے، اور بہتر ذہنی صحت کے لیے مثبت عادات اپنانے کی تربیت دینا
آپ اور آپ کا معالج علاج کے اہداف طے کرتے ہیں۔ نوعمر مریضوں میں فیملی کی شمولیت علاج کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر سکتی ہے۔
ادویات
اس بیماری کے علاج کے لیے کوئی مخصوص دوا منظور شدہ نہیں۔ تاہم دیگر ذہنی عوارض، خصوصاً افسردگی اور او سی ڈی کے علاج میں استعمال ہونے والی بعض ادویات مؤثر ثابت ہو سکتی ہیں۔
٭ کچھ ادویات منفی خیالات اور بار بار دہرائے جانے والے رویوں کو کم کرنے میں مدد دے سکتی ہیں
٭ بعض مریضوں کو علامات کی نوعیت کے مطابق ان کے ساتھ دیگر ادویات بھی تجویز کی جا سکتی ہیں
٭ اگر علامات اس حد تک شدید ہو جائیں کہ روزمرہ ذمہ داریاں نبھانا ممکن نہ رہے یا خود کو نقصان پہنچانے کا فوری خطرہ ہو، تو مریض کو ہسپتال میں داخل کرنا ضروری ہو سکتا ہے۔
گھریلو دیکھ بھال اور طرزِ زندگی
جسمانی ساخت کے بارے میں وہم کے مرض کے مؤثر علاج کے لیے ذہنی صحت کے ماہر سے باقاعدہ علاج ضروری ہے۔ اس کے ساتھ چند روزمرہ عادات بھی علاج کے نتائج بہتر بنانے میں مددگار ثابت ہو سکتی ہیں:
٭ اپنے علاج کے منصوبے پر مکمل عمل کریں۔ تھراپی کے سیشن نہ چھوڑیں، چاہے آپ بہتر ہی کیوں نہ محسوس کر رہے ہوں۔ ڈاکٹر کے مشورے کے بغیر دوا بند نہ کریں، کیونکہ اس سے علامات دوبارہ ظاہر ہو سکتی ہیں یا دوا اچانک چھوڑنے سے دیگر مسائل پیدا ہو سکتے ہیں
٭ اپنی بیماری کے بارے میں مستند معلومات حاصل کریں۔ بیماری کو بہتر طور پر سمجھنے سے علاج پر قائم رہنے اور صحت یابی کے لیے حوصلہ ملتا ہے
٭ ان علامات اور عوامل پر نظر رکھیں جو بیماری کو دوبارہ بڑھا سکتے ہیں۔ اگر اپنی کیفیت یا علامات میں کوئی تبدیلی محسوس ہو تو فوراً معالج سے رابطہ کریں
٭ تھراپی کے دوران سیکھی گئی مہارتوں کی باقاعدگی سے مشق کریں تاکہ وہ روزمرہ زندگی کا حصہ بن جائیں
٭ شراب اور نشہ آور اشیا سے پرہیز کریں، کیونکہ یہ علامات کو مزید شدید کر سکتی ہیں یا ادویات کے اثرات میں مداخلت کر سکتی ہیں
٭ باقاعدگی سے جسمانی سرگرمی اختیار کریں۔ پیدل چلنا، جاگنگ، تیراکی، باغبانی یا اپنی پسند کی کوئی بھی ورزش ذہنی دباؤ، بے چینی اور افسردگی کم کرنے میں مدد دے سکتی ہے۔ تاہم، صرف اپنی سمجھی ہوئی جسمانی خامی کو درست کرنے کی غرض سے ضرورت سے زیادہ ورزش کرنے سے گریز کریں
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا جسمانی ساخت کے بارے میں وہم صرف ظاہری شکل کی فکر کا نام ہے؟
نہیں۔ یہ ایک ذہنی صحت کا عارضہ ہے، جس میں انسان اپنی ظاہری شکل کی معمولی یا غیر موجود خامیوں کے بارے میں غیر معمولی حد تک پریشان رہتا ہے، جس سے اس کی روزمرہ زندگی متاثر ہوتی ہے۔
کیا کاسمیٹک سرجری اس بیماری کا مستقل علاج ہے؟
نہیں۔ بہت سے مریض سرجری یا دیگر کاسمیٹک طریقۂ علاج کے بعد بھی مطمئن نہیں ہوتے۔ اکثر علامات دوبارہ لوٹ آتی ہیں، اس لیے بنیادی علاج ذہنی صحت کے ماہر کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
کیا یہ بیماری بچوں اور نوعمروں میں بھی ہو سکتی ہے؟
جی ہاں۔ یہ بیماری عموماً نوعمری کے ابتدائی برسوں میں شروع ہوتی ہے۔ اس لیے بروقت تشخیص اور علاج مستقبل میں پیچیدگیوں سے بچانے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
کیا اس بیماری سے مکمل صحت یابی ممکن ہے؟
بروقت تشخیص، باقاعدہ سی بی ٹی، مناسب ادویات اور علاج کے منصوبے پر مسلسل عمل سے بہت سے مریضوں کی علامات میں نمایاں بہتری آتی ہے اور وہ معمول کی زندگی دوبارہ گزارتے ہیں۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=psychiatrist