سیلیئک بیماری (Celiac disease) ایک آٹو امیون بیماری ہے، جس میں جسم کا مدافعتی نظام گلوٹن کے خلاف ردعمل ظاہر کرتا ہے۔ بعض صورتوں میں یہ ردعمل چھوٹی آنت کو نقصان پہنچاتا ہے۔ گلوٹن ایک پروٹین ہے، جو گندم، جو اور رائی میں پائی جاتی ہے۔
اگر سیلیئک بیماری کا مریض گلوٹن کھائے تو مدافعتی نظام چھوٹی آنت میں موجود گلوٹن پر حملہ آور ہو جاتا ہے۔ وقت گزرنے کے ساتھ یہ ردعمل چھوٹی آنت کی اندرونی تہہ کو نقصان پہنچاتا ہے، جس سے جسم خوراک سے ضروری غذائی اجزاء جذب نہیں کر پاتا۔ اس کیفیت کو غذائی اجزاء کے ناقص جذب ہونے کی بیماری (مال ابزورپشن) کہا جاتا ہے۔
علامات
سیلیئک بیماری کی علامات ہر شخص میں مختلف ہو سکتی ہیں۔ بچوں اور بالغوں میں بھی علامات ایک جیسی نہیں ہوتیں۔
بالغوں میں ہاضمے سے متعلق علامات
٭ اسہال
٭ تھکن
٭ وزن میں کمی
٭ پیٹ پھولنا اور گیس
٭ پیٹ میں درد
٭ متلی اور قے
٭ قبض
دیگر علامات
سیلیئک بیماری کے نصف سے زیادہ بالغ مریضوں میں ایسی علامات بھی پائی جاتی ہیں، جن کا تعلق ہاضمے سے نہیں ہوتا۔ مثلاً:
٭ آئرن کی کمی کے باعث خون کی کمی
٭ ہڈیوں کی کمزوری یا ہڈیوں کا نرم ہونا
٭ خارش کے ساتھ چھالوں والے جلدی دانے
٭ منہ کے چھالے
٭ سر درد اور مسلسل تھکن
٭ ہاتھوں اور پاؤں میں سن ہونا یا جھنجھناہٹ
٭ توازن برقرار رکھنے میں دشواری یا یادداشت اور سوچنے کی صلاحیت متاثر ہونا
٭ جوڑوں کا درد
٭ تلی کی کارکردگی میں کمی
٭ جگر کے انزائمز کی مقدار بڑھ جانا
بچوں میں علامات
بچوں میں ہاضمے کی علامات نسبتاً زیادہ عام ہوتی ہیں:
٭ متلی اور قے
٭ مسلسل اسہال
٭ پیٹ کا پھول جانا
٭ قبض
٭ گیس
٭ ہلکے رنگ کے اور بدبودار پاخانے
غذائی اجزاء مناسب مقدار میں جذب نہ ہونے سے درج ذیل مسائل پیدا ہو سکتے ہیں:
٭ شیر خوار بچوں کی مناسب نشوونما نہ ہونا
٭ دانتوں کی بیرونی تہہ کو نقصان پہنچنا
٭ وزن میں کمی
٭ خون کی کمی
٭ چڑچڑاپن
٭ قد کا کم رہ جانا
٭ بلوغت میں تاخیر
٭ توجہ کی کمی، سیکھنے میں دشواری، سر درد، پٹھوں کی کمزور ہم آہنگی یا دورے
ڈرماٹائٹس ہرپیٹی فارمِس
گلوٹن سے حساسیت بعض افراد میں خارش کے ساتھ چھالوں والے جلدی دانے بن سکتے ہیں ۔ یہ عموماً کہنیوں، گھٹنوں، دھڑ، سر یا کولہوں پر ظاہر ہوتے ہیں۔ اگرچہ اس بیماری کا تعلق بھی سیلیئک بیماری سے ہے اور اس میں چھوٹی آنت متاثر ہو سکتی ہے، لیکن بعض مریضوں میں ہاضمے کی علامات ظاہر نہیں ہوتیں۔ اس کا علاج گلوٹن سے پاک غذا، ادویات یا دونوں کے ذریعے کیا جاتا ہے۔
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
اگر اسہال یا ہاضمے کی تکلیف دو ہفتوں سے زیادہ برقرار رہے تو ڈاکٹر سے ضرور رجوع کریں۔ اگر بچے میں درج ذیل علامات موجود ہوں تو بھی طبی معائنہ کرائیں:
٭ چہرہ پیلا ہو
٭ بہت زیادہ چڑچڑا ہو
٭ مناسب نشوونما نہ ہو رہی ہو
٭ پیٹ غیر معمولی طور پر پھولا ہوا ہو
٭ بدبودار اور زیادہ مقدار میں پاخانہ آئے
سیلیئک بیماری کا ٹیسٹ کرانے سے پہلے گلوٹن سے پاک غذا شروع نہ کریں، کیونکہ گلوٹن کم یا بند کرنے سے ٹیسٹ کے نتائج متاثر ہو سکتے ہیں۔
اگر خاندان میں کسی فرد کو سیلیئک بیماری یا ڈرماٹائٹس ہرپیٹی فارمِس ہو تو ڈاکٹر سے ٹیسٹ کے بارے میں مشورہ کریں۔ اگر خاندان میں کسی کو ٹائپ 1 ذیابیطس ہو تو بھی معائنہ کرانا مفید ثابت ہو سکتا ہے۔
وجوہات
٭ سیلیئک بیماری کی درست وجہ ابھی تک معلوم نہیں۔ خیال کیا جاتا ہے کہ جینیاتی عوامل، گلوٹن والی غذا اور دیگر ماحولیاتی عوامل مل کر اس بیماری کے خطرے میں اضافہ کرتے ہیں۔
٭ بعض افراد میں یہ بیماری سرجری، حمل، بچے کی پیدائش، وائرل انفیکشن یا شدید ذہنی دباؤ کے بعد ظاہر ہو سکتی ہے۔
خطرے کے عوامل
سیلیئک بیماری کا خطرہ ان افراد میں زیادہ ہوتا ہے جنہیں درج ذیل میں سے کوئی کیفیت لاحق ہو۔
٭ فیملی میں سیلیئک بیماری یا ڈرماٹائٹس ہرپیٹی فارمِس کا مریض موجود ہو
٭ ٹائپ 1 ذیابیطس
٭ ڈاؤن سنڈروم، ولیمز سنڈروم یا ٹرنر سنڈروم
٭ آٹو امیون تھائی رائیڈ بیماری
٭ مائیکروسکوپک کولائٹس
٭ ایڈیسن بیماری
پیچیدگیاں
علاج نہ ہونے کی صورت میں سیلیئک بیماری کئی سنگین مسائل پیدا کر سکتی ہے:
٭ غذائی کمی، جس سے خون کی کمی اور وزن میں کمی ہو سکتی ہے، جبکہ بچوں میں بڑھوتری رک سکتی ہے
٭ ہڈیوں کی کمزوری یا ہڈیوں کا نرم ہونا
٭ بانجھ پن یا حمل ضائع ہونے کا خطرہ
٭ دودھ میں موجود لیکٹوز برداشت نہ ہونا
٭ آنت کے بعض کینسرز کا بڑھا ہوا خطرہ
٭ اعصابی بیماریاں، جیسے دورے یا ہاتھ پاؤں کے اعصاب کو نقصان
بعض مریضوں میں گلوٹن سے پاک غذا کے استعمال کے باوجود علامات ختم نہیں ہوتیں۔ اس کی عام وجہ خوراک میں غیر ارادی طور پر گلوٹن شامل ہونا ہوتی ہے۔ غذائی ماہر کی رہنمائی سے اس مسئلے سے بچا جا سکتا ہے۔ دیگر ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں۔
٭ چھوٹی آنت میں بیکٹیریا کی زیادتی
٭ مائیکروسکوپک کولائٹس
٭ لبلبے کی کمزور کارکردگی
٭ لیکٹوز، سوکروز یا فروکٹوز ہضم نہ ہونا
٭ علاج سے مزاحمت کرنے والی سیلیئک بیماری
کبھی کبھار گلوٹن سے پاک غذا کے استعمال کے باوجود چھوٹی آنت صحت یاب نہیں ہوتی۔ اگر چھ سے بارہ ماہ تک احتیاط کے باوجود علامات برقرار رہیں تو مزید ٹیسٹ کرانا ضروری ہو سکتا ہے۔
تشخیص
بہت سے افراد کو معلوم ہی نہیں ہوتا کہ انہیں سیلیئک بیماری ہے۔ ابتدائی تشخیص کے لیے درج ذیل خون کے ٹیسٹ کیے جاتے ہیں:
٭ مخصوص اینٹی باڈیز کی جانچ
٭ ایچ ایل اے-ڈی کیو 2 اور ایچ ایل اے-ڈی کیو 8 جینیاتی ٹیسٹ
اگر ان ٹیسٹوں سے بیماری کا شبہ ہو تو مزید معائنے کیے جا سکتے ہیں:
٭ اینڈوسکوپی اور آنت سے نمونہ لے کر جانچ
٭ کیپسول اینڈوسکوپی
جلدی بیماری کی صورت میں جلد کا نمونہ بھی لیا جا سکتا ہے۔
تشخیص کے بعد غذائی کیفیت جانچنے کے لیے مختلف ٹیسٹ کیے جا سکتے ہیں۔ ان میں وٹامنز، منرلز، ہیموگلوبن اور جگر کے خامروں کی سطح شامل ہوتی ہے۔ ضرورت پڑنے پر ہڈیوں کی مضبوطی کا بھی معائنہ کیا جاتا ہے۔
علاج
سیلیئک بیماری کا بنیادی علاج عمر بھر گلوٹن سے مکمل پرہیز ہے۔ یاد رکھیں کہ گلوٹن کی معمولی مقدار بھی نقصان پہنچا سکتی ہے۔
فالو اپ
باقاعدہ طبی معائنہ ضروری ہے۔ ڈاکٹر خون کے ٹیسٹ، غذائیت اور علامات کا باقاعدگی سے جائزہ لیتے ہیں۔ بچوں میں چھوٹی آنت عموماً تین سے چھ ماہ میں صحت یاب ہو جاتی ہے، جبکہ بالغ افراد میں مکمل صحت یابی میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ اگر علامات برقرار رہیں یا دوبارہ ظاہر ہوں تو اینڈوسکوپی اور بائیوپسی کی ضرورت پیش آ سکتی ہے۔
اگر چھوٹی آنت کو شدید نقصان پہنچا ہو یا بیماری علاج سے مزاحمت کر رہی ہو تو ڈاکٹر سوزش کم کرنے والی ادویات تجویز کر سکتے ہیں۔ ۔
گھریلو احتیاطیں
اگر آپ کو سیلیئک بیماری ہے تو ہر اس غذا سے مکمل پرہیز کریں جس میں گلوٹن موجود ہو۔
٭ غذائی لیبل ضرور پڑھیں۔ صرف وہی پیک شدہ غذائیں استعمال کریں جن پر "گلوٹن فری” درج ہو یا جن میں گلوٹن والے اجزاء شامل نہ ہوں۔
Frequently Asked Questions (FAQs)
کیا سیلیئک بیماری ہمیشہ کے لیے رہتی ہے؟
جی ہاں، یہ ایک دائمی بیماری ہے۔ علامات پر قابو رکھنے کے لیے عمر بھر گلوٹن سے پاک غذا پر عمل کرنا ضروری ہے۔
کیا تھوڑی مقدار میں گلوٹن کھانا بھی نقصان دہ ہو سکتا ہے؟
جی ہاں، گلوٹن کی معمولی مقدار بھی چھوٹی آنت کو نقصان پہنچا سکتی ہے، چاہے علامات ظاہر نہ ہوں۔
کیا سیلیئک بیماری صرف بچوں کو ہوتی ہے؟
نہیں، یہ بیماری کسی بھی عمر میں ہو سکتی ہے، اگرچہ بہت سے افراد میں اس کی تشخیص بالغ عمر میں ہوتی ہے۔
نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔
ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️
https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=gastroenterologist