سر درد (Headache) سر کے کسی بھی حصے میں ہونے والا درد ہے، جس کی کیفیات مختلف ہو سکتی ہیں۔ مثلاً یہ سر کے ایک یا دونوں جانب ہو سکتا ہے۔ کسی خاص جگہ تک محدود رہ سکتا ہے، یا پورے سر میں پھیل سکتا ہے۔ کبھی یہ سر کو جکڑنے جیسا محسوس ہو سکتا ہے۔
یہ درد تیز چبھتا ہوا، دھڑکن جیسا یا ہلکی تکلیف جیسا ہو سکتا ہے۔ یہ آہستہ آہستہ یا اچانک شروع ہو سکتا ہے، اور اس کا دورانیہ ایک گھنٹے سے کم یا کئی دن تک ہو سکتا ہے۔
وجوہات
زیادہ تر درد کسی سنگین بیماری کا نتیجہ نہیں ہوتے۔ تاہم بعض صورتوں میں یہ کسی جان لیوا کیفیت کی علامت ہو سکتے ہیں۔ ان میں فوری طبی امداد ضروری ہوتی ہے۔ اس درد کو عام طور پر اس کی وجہ کے مطابق درجوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔
پرائمری سر درد
پرائمری درد دماغ کی اپنی سرگرمی کی وجہ سے ہوتا ہے۔ یہ سر کے اُن حصوں میں خرابی یا غیر معمولی سرگرمی کے باعث ہوتا ہے جو درد محسوس کرتے ہیں۔ یہ کسی دوسری بیماری کی علامت نہیں ہوتا۔
اس میں دماغ کی کیمیائی سرگرمی، کھوپڑی کے گرد موجود اعصاب اور خون کی نالیاں، یا سر اور گردن کے پٹھے شامل ہو سکتے ہیں۔ طبی ماہرین کے مطابق بعض افراد میں جینیاتی عوامل کی وجہ سے اس کا امکان نسبتاً زیادہ پایا جاتا ہے۔
اقسام
پرائمری درد کی عام اقسام درج ذیل ہیں:
کلسٹر سر درد: آنکھ یا سر کے ایک طرف بہت شدید درد
مائیگرین: شدید درد جو اکثر متلی یا روشنی سے حساسیت کے ساتھ ہوتا ہے
ہالے کے ساتھ مائیگرین: درد سے پہلے آنکھوں کے سامنے روشنی یا دھندلاہٹ آنا
ٹینشن سے درد: ذہنی دباؤ یا تھکن سے ہونے والا درد
ٹرائجیمنل آٹونومک سیفالجیا: چہرے کے اعصاب سے وابستہ شدید سر درد)، جیسے کلسٹر درد اور پیروکسزمل ہیمی کرینیا (بار بار، کم وقت کے لیے ہونے والا یک طرفہ شدید درد)
درد کے پیٹرن
اس درد کے بعض پیٹرن بھی اس قسم میں شامل کیے جاتے ہیں۔ یہ نسبتاً کم پائے جاتے ہیں، اور ان کی علامات مخصوص ہوتی ہیں۔ اگرچہ انہیں پرائمری سمجھا جاتا ہے، تاہم بعض صورتوں میں یہ کسی اندرونی بیماری کی علامت بھی ہو سکتے ہیں۔ ان میں شامل ہیں:
٭ طویل مدتی روزانہ سر درد ( دائمی مائیگرین، دائمی ٹینشن کی وجہ سے سر درد، یا مسلسل ایک طرف رہنے والا سر درد)
٭ کھانسی سے ہونے والا درد
٭ ورزش سے ہونے والا درد
٭ جنسی عمل سے وابستہ درد
طرز زندگی سے متعلق عوامل
طرزِ زندگی کے بعض عوامل بھی پرائمری درد کو متحرک کر سکتے ہیں، جن میں شامل ہیں:
٭ الکحل، خصوصاً ریڈ وائن
٭ نائٹریٹس پر مشتمل پروسیس شدہ گوشت
٭ نیند میں تبدیلی یا نیند کی کمی
٭ اٹھنے بیٹھے، کھڑے ہونے کے غلط انداز
٭ کھانا چھوڑ دینا
٭ ذہنی دباؤ
سیکنڈری سر درد
سیکنڈری سر درد کسی اور بیماری کی علامت ہوتا ہے۔ یہ علامات درد محسوس کرنے والے اعصاب کو متحرک کرتی ہیں۔ کچھ بیماریاں سنگین ہیں، لہٰذا اسے سنجیدگی سے لینا ضروری ہوتا ہے۔ اس کی ممکنہ وجوہات میں شامل ہیں:
٭ سائی نس کا شدید انفیکشن
٭ شریان کا پھٹ جانا
٭ دماغ میں خون کا لوتھڑا
٭ دماغی اینیوریزم
٭ دماغی شریانوں کی غیر معمولی ساخت
٭ دماغی ٹیومر
٭ کاربن مونو آکسائیڈ
٭ کھوپڑی کے نچلے حصے میں سٹرکچرل خرابی
٭ کووِڈ 19
٭ پانی کی کمی
٭ دانتوں کے مسائل
٭ درمیانی کان کا انفیکشن
٭ دماغی سوزش
٭ شریانوں کی اندرونی سوزش
٭ گلوکوما
٭ ہائی بلڈ پریشر
٭ فلو اور دیگر بخار کی بیماریاں
٭ بعض ادویات
٭ درد کش ادویات کا زیادہ استعمال
٭ گھبراہٹ کے دورے
٭ فالج
٭ اعصابی درد
اقسام
اس کی کچھ اقسام درج ذیل ہیں:
آئس کریم سر درد: عام فہم زبان میں اسے برین فریز کہا جاتا ہے۔ یہ اچانک ٹھنڈی چیز کھانے یا پینے سے ہوتا ہے
ادویات کی وجہ سے سر درد: جب درد کم کرنے والی دوائیں بار بار یا ضرورت سے زیادہ استعمال کی جائیں
سائی نس سر درد: ناک اور آنکھوں کے اردگرد موجود سائی نس میں سوزش اور ناک کی بندش کی وجہ سے ہونے والا درد
سپائنل سر درد: دماغ اور ریڑھ کی ہڈی کے پانی کے دباؤ میں کمی سے ہونے والا درد۔ یہ بعض اوقات لمبر پنکچر یا ریڑھ کی ہڈی کی بے ہوشی کے بعد ہوتا ہے
تھنڈر کلاپ سر درد: اچانک شروع ہونے والا نہایت شدید درد، جو مختلف سنگین طبی وجوہات کی بنا پر ہو سکتا ہے
ڈاکٹر سے کب رجوع کریں
ایمرجنسی میں رابطہ
بعض اوقات یہ کسی سنگین بیماری مثلاً فالج، میننجائٹس یا دماغی سوزش کی علامت ہو سکتا ہے۔ اگر درج ذیل علامات کے ساتھ سر درد ہو تو فوراً ہسپتال جائیں یا ایمرجنسی نمبر پر رابطہ کریں:
٭ اچانک اور انتہائی شدید درد
٭ ذہنی الجھن یا بات سمجھنے میں دشواری
٭ بے ہوشی
٭ تیز بخار
٭ جسم کے ایک حصے میں کمزوری یا سن ہونا
٭ گردن کا اکڑ جانا
٭ دیکھنے میں دشواری
٭ بولنے میں مشکل
٭ چلنے میں دقت
٭ متلی یا قے
معمول کا رابطہ
ڈاکٹر سے وقت لیں، اگر سر درد:
٭ معمول سے زیادہ ہونے لگے
٭ معمول سے زیادہ شدید ہو جائے
٭ عام درد کش ادویات سے بہتر نہ ہو
٭ کام، نیند یا روزمرہ سرگرمیوں میں رکاوٹ بنے
٭ پریشانی کا باعث بنے
نوٹ: یہ مضمون قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔