بارسلونا کے ویل ڈی’ہیبرون یونیورسٹی ہسپتال میں دنیا کا پہلا چہرے کا ٹرانسپلانٹ کامیابی سے انجام پایا۔ یہ سرجری تقریباً 100 ماہرین پر مشتمل ٹیم نے انجام دی۔ اس میں جلد، پٹھے اور ہڈیوں کی منتقلی شامل تھی۔
مریض کے چہرے کے نرم ٹشوز کو شدید نقصان پہنچا تھا۔ اس کی وجہ سے اس کا سانس لینا، کھانا اور بولنا متاثر ہو گیا تھا۔ ٹرانسپلانٹ کے لیے ڈونر نے بعد از موت اعضاء اور ٹشوز عطیے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔
چہرے کا ٹرانسپلانٹ کرنے کیلئے ٹشوز کی درست میچنگ کے ساتھ غیر معمولی احتیاط بھی ضروری تھی۔ پیوندکاری کی کامیابی سے مریض کی بنیادی فعالیتیں بہتر ہوئیں۔ ڈونر اور اس کی فیملی کی سخاوت نے اس تاریخی کامیابی کو ممکن بنایا۔
Tags: پہلا چہرے کا ٹرانسپلانٹ