موسمِ سرما میں اکثر لوگ پانی کم پیتے ہیں۔ اس کی ایک بڑی وجہ پیاس کا کم محسوس ہونا ہے۔ ماہرین کے مطابق سردیوں میں پیاس تقریباً 40 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔ اس کی بنیادی وجہ خون کی رگوں کا سکڑ جانا ہے۔ اس عمل سے دماغ کو غلط سگنل ملتا ہے, جس کے زیر اثر وہ سمجھتا ہے کہ جسم میں پانی کافی ہے۔
ماہرین کے مطابق جسم کا تقریباً 60 فیصد حصہ پانی پر مشتمل ہے۔ پانی کم ہونے سے خون گاڑھا ہو جاتا ہے، اس لیے ہمیں روزانہ اوسطاً 2.5 سے 3.5 لیٹر پانی درکار ہوتا ہے۔ سردیوں میں گردے پیشاب کے ذریعے زیادہ پانی خارج کرتے ہیں۔ ہیٹر اور خشک ہوا بھی جلد اور سانس سے پانی کم کرتی ہے۔ گرم کپڑوں کے باوجود کچھ پسینہ بھی جسم سے پانی خارج کرتا رہتا ہے۔
ماہرین کہتے ہیں کہ سردیوں میں بھی پانی پینا کم نہیں کرنا چاہیے۔ عام طور پر روزانہ 10 سے 12 گلاس پانی پینے کا مشورہ دیا جاتا ہے۔ تاہم پانی کی مقدار کا انحصار جسمانی سرگرمی اور دیگر عوامل پر بھی ہوتا ہے۔