ملک میں ہر سال ہزاروں خواتین کے غیر ضروری سیزیرین آپریشنز کیے جا رہے ہیں۔ ماہرین نے اس رجحان پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کے مطابق بعض ڈاکٹر مالی فائدے کیلئے اسے ضرورت سے زیادہ استعمال کرتے ہیں۔ ماہرین نے یہ بات کراچی میں آرٹس کونسل کی میڈیکل اینڈ سوشل ویلفیئر کمیٹی کے سیمینار میں کہی۔
سیمینار میں بتایا گیا کہ پاکستان میں ہر سال 20,000 سے زائد خواتین زچگی کی پیچیدگیوں کے باعث فوت ہو جاتی ہیں۔ ڈاکٹر شیرشاہ سید نے کہا کہ پہلی نارمل ڈیلیوری مشکل جبکہ بعد کی آسان ہو جاتی ہیں۔ سیزیرین آپریشنز میں پہلی بار عمل آسان، مگر بعد کے آپریشن خطرناک ثابت ہوتے ہیں۔
ڈاکٹر شبین ناز مسعود کے مطابق گھروں میں غیر تربیت یافتہ دائیوں کے ہاتھوں گھروں میں زچگیاں غیر محفوظ ہیں۔ ڈاکٹر سونیا نقوی نے خبردار کیا کہ غیر ضروری سیزیرین مستقبل میں پیچیدگیاں بڑھا دیتا ہے۔ ماہرین نے کہا کہ جہاں ممکن ہو، نارمل ڈیلیوری کو ترجیح دی جائے۔