پنجاب بھر میں 2025 کی سردیوں میں شدید سموگ نے صحت عامہ کو شدید خطرے میں ڈالے رکھا۔ لاہور سب سے زیادہ متاثر ہوا، جہاں چھ لاکھ سے زائد شہریوں نے سموگ سے متعلق بیماریوں کا علاج کروایا۔ فیصل آباد، ملتان، راولپنڈی اور گوجرانوالہ میں مجموعی طور پر 18 لاکھ سے زائد کیسز رپورٹ ہوئے۔ بحیثیت مجموعی پنجاب میں دو کروڑ سے زائد افراد سموگ سے متاثر ہوئے۔ بچے، بزرگ، یومیہ اجرت پر کام کرنے والے اور پہلے سے بیمار افراد زیادہ نشانہ بنے۔
ہسپتالوں میں سانس کی بیماریوں کے مریضوں کی تعداد میں نمایاں اضافہ ہوا۔ دمے کے دورے، دائمی برونکائٹس، نمونیا اور مسلسل کھانسی کے کیسز عام دیکھے گئے۔ آنکھوں میں جلن، پانی آنا اور خشکی کے کیسز بھی بڑھے۔ گلے کی خراش، جلدی الرجی اور دل کی پیچیدگیوں کے مریضوں کی حالت مزید خراب ہوئی۔
ماہرین نے پنجاب میں دو کروڑ سے زائد افراد کو متاثر کرنے والے بحران کی کئی وجوہات بیان کی ہیں۔ ان میں گاڑیوں کا دھواں، صنعتی آلودگی، تعمیراتی گرد اور فصلوں کی باقیات جلانا نمایاں ہیں۔