پاکستان کے سب سے بڑے صوبے پنجاب میں گلابی آنکھ کے کیسز میں اضافہ ہو گیا ہے۔ آشوب چشم یا گلابی آنکھ کے سب سے زیادہ کیسز جھنگ میں رپورٹ ہوئے ہیں۔ ان کی تعداد 106 ہے۔ ملتان میں اس کے 93 کیسز سامنے آئے ہیں۔ بھکر اور ڈی جی خان میں بالترتیب 83 اور 41 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ صوبائی دارالحکومت لاہور میں 11 نئے کیسز ریکارڈ ہوئے ہیں۔
گزشتہ ایک ماہ کے دوران صوبے بھر کے سرکاری ہسپتالوں میں مجموعی طور پر 13,473 کیسز رپورٹ ہوئے ہیں۔ 2023 میں، جنوری سے ستمبر تک 288,000 کیسز رپورٹ ہوئے تھے۔ یہ تعداد گزشتہ سال کی اسی مدت میں پانچ فیصد کم ہے۔
آشوب چشم آنکھ کی جھلی میں سوزش ہے۔ یہ اس کے سفید حصے کو متاثر کرتی ہے۔ اس سے جھلی کی رنگت گلابی یا سرخ ہو جاتی ہے۔ ایسا بالعموم ایک وائرس کے باعث ہوتا ہے۔ تاہم یہ بیکٹیریل انفیکشن یا الرجی کی وجہ سے بھی ہو سکتا ہے۔
پنجاب میں گلابی آنکھ کے بڑھتے ہوئے کیسز احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا تقاضا کرتے ہیں۔ ماہرین صحت کے مطابق آشوب چشم کے متاثرین کو چاہیے کہ خود کو الگ رکھیں۔ وہ احتیاطی تدبیر کے طور پر بار بار ہاتھ اور آنکھیں دھونے پر بھی زور دیتے ہیں۔