Vinkmag ad

اینکل بریکیل انڈیکس: ٹانگوں میں خون کی روانی کا ٹیسٹ

Healthcare professional performing an ankle brachial index (ABI) test by measuring blood pressure at the patient's arm and ankle

پیریفرل آرٹری ڈیزیز (پی اے ڈی) میں شریانیں تنگ ہونے کے باعث بازوؤں یا ٹانگوں تک خون کی روانی کم ہو جاتی ہے۔ یہ چلتے وقت ٹانگوں میں درد ہونے کا سبب بن سکتی ہے۔ دل کے دورے اور فالج کا خطرہ بھی بڑھ جاتا ہے۔ اینکل بریکیل انڈیکس (Ankle-brachial index) جسے ”اے بی آئی” بھی کہا جاتا ہے، اس مرض کی تشخیص میں مدد دیتا ہے۔

کیوں کیا جاتا ہے

اینکل بریکیل انڈیکس ٹیسٹ ان افراد کے لیے خاص طور پر مفید ہے جنہیں چلتے وقت ٹانگوں میں درد ہوتا ہو یا جن میں پی اے ڈی کے خطرے کے عوامل موجود ہوں، جو یہ ہیں:

٭ تمباکو نوشی کی موجودہ یا سابقہ عادت

٭ ذیابیطس

٭ ہائی بلڈ پریشر

٭ ہائی کولیسٹرول

٭ ایتھروسکلروسس، یعنی شریانوں میں چکنائی کی تہہ جم جانے کے باعث جسم کے دیگر حصوں میں خون کی روانی متاثر ہونا

ممکنہ خطرات

٭ بلڈ پریشر چیک کرنے کے لیے کف میں ہوا بھرنے کے دوران بازو یا ٹانگ میں ہلکا درد یا دباؤ محسوس ہو سکتا ہے۔ تاہم یہ کیفیت چند لمحوں کے لیے ہوتی ہے اور ہوا خارج ہوتے ہی ختم ہو جاتی ہے۔

٭ اگر ٹانگ میں شدید درد ہو تو معالج شریانوں کا امیجنگ ٹیسٹ بھی تجویز کر سکتا ہے۔

ٹیسٹ کی تیاری

اس ٹیسٹ کے لیے کسی خاص تیاری کی ضرورت نہیں ہوتی۔ یہ عام بلڈ پریشر چیک کروانے جیسا سادہ معائنہ ہے۔ ڈھیلے اور آرام دہ کپڑے پہنیں تاکہ طبی عملہ آسانی سے بازو اور ٹخنے پر بلڈ پریشر کف لگا سکے

دورانِ ٹیسٹ

٭ ٹیسٹ سے پہلے آپ کو تقریباً 5 سے 10 منٹ آرام کرنے کے لیے کہا جا سکتا ہے۔

٭ اس کے بعد آپ سیدھے لیٹتے ہیں اور طبی عملہ دونوں بازوؤں اور دونوں ٹخنوں کے بلڈ پریشرکی پیمائش کرتا ہے۔ اس مقصد کے لیے بلڈ پریشر کف اور ہاتھ میں پکڑا جانے والا ڈوپلر الٹراساؤنڈ آلہ استعمال کیا جاتا ہے۔

ٹیسٹ کے بعد

یہ معائنہ صرف چند منٹ میں مکمل ہو جاتا ہے، اور اس کے بعد کسی خاص احتیاط کی ضرورت نہیں ہوتی۔ معالج آپ کو نتائج کی وضاحت کر دیتا ہے۔

نتائج

بازو اور ٹخنے کے بلڈ پریشر کی پیمائش کی بنیاد پر اینکل بریکیل انڈیکس کا تناسب نکالا جاتا ہے۔ اس سے یہ نتائج سامنے آ سکتے ہیں:

شریانوں میں رکاوٹ نہیں (1.0 سے 1.4)

یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ غالباً آپ کو پی اے ڈی نہیں ہے۔ تاہم، اگر علامات موجود ہوں تو ایکسرسائز اینکل بریکیل انڈیکس ٹیسٹ کیا جا سکتا ہے۔

بارڈر لائن رکاوٹ (0.90 سے 0.99)

یہ نتیجہ ظاہر کرتا ہے کہ شریانیں تنگ ہونا شروع ہو چکی ہیں، تاہم خون کی روانی ابھی نمایاں طور پر متاثر نہیں ہوئی۔ اس صورت میں ایکسرسائز ٹیسٹ کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔

پیریفرل آرٹری ڈیزیز (0.90 سے کم)

یہ نتیجہ پی اے ڈی کی تشخیص کی نشاندہی کرتا ہے۔ مزید جانچ کے لیے الٹراساؤنڈ یا اینجیوگرافی کی جا سکتی ہے تاکہ ٹانگوں کی شریانوں کا تفصیلی معائنہ کیا جا سکے۔

جن افراد کو طویل عرصے سے ذیابیطس یا شریانوں میں شدید رکاوٹ ہو، ان میں زیادہ درست نتیجہ حاصل کرنے کے لیے پیر کے انگوٹھے کا بلڈ پریشر بھی ماپا جا سکتا ہے۔ اس معائنے کو ٹو بریکیل انڈیکس (Toe-Brachial Index) ٹیسٹ کہا جاتا ہے۔

علاج

شریانوں میں رکاوٹ کی شدت اور علامات کے مطابق علاج میں درج ذیل اقدامات شامل ہو سکتے ہیں:

٭ غذا اور طرزِ زندگی میں تبدیلیاں

٭ باقاعدہ ورزش یا پیدل چلنے کا پروگرام

٭ ادویات

٭  پیریفرل آرٹری ڈیزیز کے علاج کے لیے سرجری

نوٹ: یہ مضمون صرف قارئین کی معلومات کے لیے شائع کیا گیا ہے۔ صحت سے متعلق امور میں ہمیشہ اپنے معالج کے مشورے پر عمل کریں۔

ڈاکٹر سے رابطے کے لیے لنک پر کلک کریں ⬇️

https://www.shifa.com.pk/find-a-doctor?speciality=cardiologist

Vinkmag ad

Read Previous

پیٹیکیائے: جلد پر سرخ، جامنی یا بھورے دھبے  

Leave a Reply

Most Popular